aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zambiil"
آج نکلے یاد کی زنبیل سےمور کے ٹوٹے ہوئے دو چار پر
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتاکہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیںدو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوںزمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
اپنا رشتہ زمیں سے ہی رکھوکچھ نہیں آسمان میں رکھا
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیےتو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیےدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظرمارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سےخدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے
جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دےجب تم چلو زمین چلے آسماں چلے
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئےحق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
کہیں زمیں سے تعلق نہ ختم ہو جائےبہت نہ خود کو ہوا میں اچھالیے صاحب
مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھےمرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیلوہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی
آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھکیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئےالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھیسو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books