aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zamiir"
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیےتو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
دشمن جاں ہے مگر جان سے پیارا بھی ہےایسا اس شہر میں اک شخص ہمارا بھی ہے
ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کیگال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی
بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہےوفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے
اب اک رومال میرے ساتھ کا ہےجو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے
جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستوقائم رہو حسین کے انکار کی طرح
ہزاروں ظلم ہوں مظلوم پر تو چپ رہے دنیااگر مظلوم کچھ بولے تو دہشت گرد کہتی ہے
سچ نہیں ہے اناج کی قلتیار فاقے یہاں ضمیر کے ہیں
ممکن ہے اشک بن کے رہوں چشم یار میںممکن ہے بھول جائے غم روزگار میں
اب ہم بھی سوچتے ہیں کہ بازار گرم ہےاپنا ضمیر بیچ کے دنیا خرید لیں
انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھا
تم نے جو کتابوں کے حوالے کیے جاناںوہ پھول تو بالوں میں سجانے کے لئے تھے
اس کو نئے سفر میں نئے ہم سفر کے ساتھدل خوش ہوا ہے کیوں یہ ضیا دیکھتے ہوئے
مسئلہ تھا تو بس انا کا تھافاصلے درمیاں کے تھے ہی نہیں
ضمیر لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریزاشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز
کچھ ظلم و ستم سہنے کی عادت بھی ہے ہم کوکچھ یہ ہے کہ دربار میں سنوائی بھی کم ہے
ضمیر و ذہن میں اک سرد جنگ جاری ہےکسے شکست دوں اور کس پہ فتح پاؤں میں
ملک تو ملک گھروں پر بھی ہے قبضہ اس کااب تو گھر بھی نہیں چلتے ہیں سیاست کے بغیر
زنجیر زلف سیاہ سمندر نگاہ شوخجاؤں کہاں فرار کا رستہ کوئی تو ہو
غضب تو یہ ہے وہ ایسا کہہ کے خوشی کا اظہار کر رہے تھےکہ ہم نے دستاریں بیچ دی ہیں سروں کو لیکن بچا لیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books