aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zarf"
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیںصراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
کہنے کے لیے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکنیہ ظرف ہمارا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
جب بھی ضمیر و ظرف کا سودا ہو دوستوقائم رہو حسین کے انکار کی طرح
خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کوپگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا
تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا
گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلاکسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا
کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہرہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائےجس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گلہ کیامیں خوش ہوں مرا پیار سمندر کی طرح ہے
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پردیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر
کاغذ پہ اگل رہا ہے نفرتکم ظرف ادیب ہو گیا ہے
اتنے کم ظرف نہیں ہم جو بہکتے جاویںمثل گل جاویں جدھر جاویں مہکتے جاویں
تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والےمے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا
شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کیحوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا
کیسے بند ہوا مے خانہ اب معلوم ہواپی نہ سکا کم ظرف زمانہ اب معلوم ہوا
اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرفسر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ
دیار عشق ہے یہ ظرف دل کی جانچ ہوتی ہےیہاں پوشاک سے اندازہ انساں کا نہیں ہوتا
فساد روکنے کم ظرف لوگ پہنچے ہیںگھروں میں رہ گئے روشن ضمیر جتنے تھے
ظرف ٹوٹا تو وصل ہوتا ہےدل کوئی ٹوٹا کس طرح جوڑے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books