aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zer"
ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خللاحباب زیر خاک سلا کر چلے گئے
اس وہم میں وہ داغؔ کو مرنے نہیں دیتےمعشوق نہ مل جائے کہیں زیر زمیں اور
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
یہ مانا انقلاب زندگی میں لاکھ خطرے ہیںتمنا پھر بھی ہے یہ زندگی زیر و زبر ہوتی
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
زیر لب ہے ابھی تبسم دوستمنتشر جلوۂ بہار نہیں
چہرے کا نصف حصہ زیر نقاب کر کےکرتے ہیں حسن والے دیدار میں ملاوٹ
مت کرو فکر عمارت کی کوئی زیر فلکخانۂ دل جو گرا ہے اسے تعمیر کرو
میں دل کو اس کی تغافل سرا سے لے آیااور اپنے خانۂ وحشت میں زیر دام رکھا
بات کرنے میں جو لب اس کے ہوئے زیر و زبرایک ساعت میں تہہ و بالا زمانہ ہو گیا
زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیساسر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
یہ بات منصفوں میں ابھی زیر غور ہےپتھر کو میں لگا ہوں کہ پتھر لگا مجھے
تمام خلق خدا زیر آسماں کی سمیٹزمیں نے کھائی ولیکن بھرا نہ اس کا پیٹ
پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیااشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا
وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیےاسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود
وہ جن کے پاؤں چھونے کو جھکتا تھا آسماںکیا لوگ تھے کہ زیر زمیں جا کے بس گئے
کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔکہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے
اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوںبڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھیہوگا درخت گور پہ میری چنار کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books