aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",May"
جنوری فروری مارچ میں پڑے گی سردیاور اپریل مئی جون میں ہو گی گرمی
ہم دسمبر میں شاید ملے تھے کہیں۔۔!!جنوری، فروری، مارچ، اپریل۔۔۔۔اور اب مئی آ گیا۔۔۔۔ایک سو بیس دن۔۔۔۔ایک سو بیس صدیاں۔۔۔۔ گزر بھی گئیںتم بھی جیتے رہے,میں بھی جیتی رہی۔۔۔۔خواہشوں کی سلگتی ہوئی ریت پرزندگانی دبے پاؤں چلتی رہیمیں جھلستی رہی۔۔۔۔میں۔۔۔۔ جھلستی۔۔۔۔ رہیخیر،چھوڑو یہ سب!تم بتاؤ تمہیں کیا ہوا؟کیوں پریشان ہو؟؟؟؟
آج مئی کا پہلا دن ہے آج کا دن مزدور کا دن ہےظلم و ستم کے مد مقابل حوصلۂ جمہور کا دن ہے
جنوری کا مہینہ جو آ کر گیاپھر نئے سال کی ابتدائی کر گیافروری کر رہا ہے جدا سردیاںہم اتاریں گے اب اون کی وردیاںمارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نوسب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہوماہ اپریل میں امتحاں آئیں گےرات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گےلو مئی آ گیا بند مکتب ہوئےگرمیوں سے پریشان ہم سب ہوئےجون بارش کی لائے خبر دوستوہے فلک کی طرف ہر نظر دوستوہے جولائی کے آنے کے اب سلسلےکھل گئے سارے اسکول مکتب کھلےسال میں جب بھی ماہ اگست آ چلااپنی آزادیوں کا بڑھا قافلہجب بھی ماہ ستمبر جناب آئے گاکھیتیوں پر غضب کا شباب آئے گالائے خوش حالیاں دیکھنا اکتوبرکھیت کھلیان کو ہو رہی ہے نظرکتنا پر کیف موسم نومبر میں ہےموتیوں جیسی شبنم نومبر میں ہےسال رخصت ہوا لو دسمبر چلاہو شروع اب نئے سال کا سلسلہ
یہ مئی کی پہلی، دن ہے بندۂ مزدور کامدتوں کے بعد دیکھا اس نے جلوہ حور کایہ جو رشتہ دار تھا ہم سب کا لیکن دور کامل کے مالک نے اسے رتبہ دیا منصور کاجب لگایا حق کا نعرہ دار پر کھینچا گیانخل صنعت اس کے خوں کی دھار پر سینچا گیا
فروری پھولوں کی گاڑی پہ سوار آتی ہےمارچ آتا ہے تو باغوں میں بہار آتی ہےہم نے بلا جو گھمایا تو کئی بھاگ لیےایک چوکے ہی میں اپریل مئی بھاگ لیےتیز گرمی نے پسینے میں نہایا ہم کوجون جولائی نے دو ماہ ستایا ہم کویہ خبر لے کے اگست اور ستمبر آئےامتحانوں میں بڑی شان کے نمبر آئےیاد کرتے ہیں سبق لیٹے ہوئے بستر میںلکھنے پڑھنے کا مزہ آتا ہے اکتوبر میںیاد رہ رہ کے ہمیں دس کا پہاڑا آیاجب بھی آیا ہے نومبر ہمیں جاڑا آیاگرم مفلر سے جو کانوں کو چھپایا ہم نےتالیاں دے کے دسمبر کو بھگایا ہم نےپھر نئے سال کا مطلب ہمیں سمجھاتی ہےجنوری سبز دوپٹے میں چلی آتی ہے
مئی کے مہینے کا مانوس منظرغریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھروہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کرسڑک بن رہی ہےزمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیںپسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیںمگر اس مشقت میں بھی گا رہے ہیںسڑک بن رہی ہےمصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہےانہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہےجمعدار کو کچھ شکایت نہیں ہےسڑک بن رہی ہےجواں نوجواں اور خمیدہ کمر بھیفسردہ جبیں بھی بہشت نظر بھیوہیں شام غم بھی جمال سحر بھیسڑک بن رہی ہےجمعدار سائے میں بیٹھا ہوا ہےکسی پر اسے کچھ عتاب آ گیا ہےکسی کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہےسڑک بن رہی ہےیہ بے باک الفت پر الھڑ اشارہبسنتی سے رامو تو رامو سے رادھاجمعدار بھی ہے بسنتی کا شیداسڑک بن رہی ہےجو سر پہ ہے پگڑی تو ہاتھوں میں ہنٹرچلا ہے جمعدار کس شان سے گھربسنتی بھی جاتی ہے نظریں بچا کرسڑک بن رہی ہےسمجھتے ہیں لیکن ہیں مسرور اب بھیاسی طرح گاتے ہیں مزدور اب بھیبہرحال واں حسب دستور اب بھیسڑک بن رہی ہے
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہبہا چوٹی سے ایڑی تک پسینابجے بارہ تو سورج سر پہ آیاہوا پیروں تلے پوشیدہ سایاچلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپلپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپزمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہےکوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہےدر و دیوار ہیں گرمی سے تپتےبنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتےپرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتےچرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتےدرندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میںمگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میںنہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کیزمیں کا فرش ہے چھت آسماں کینہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہامیروں کو مبارک ہو حویلیغریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی
آنکھ جھپکتے ایک سیکنڈایک منٹ میں ساٹھ سیکنڈساٹھ منٹ کا اک گھنٹہاک دن میں چوبیس گھنٹہسات دنوں کا اک ہفتہایک ماہ ہے تیس دن کابارہ مہینے کا اک سال۳۶۵ دن کا اک سالجنوری میں دن ہیں اکتیسفروری میں ہیں اٹھائیسچار سے سن تقسیم جو پورافروری اس میں انتیس دن کامارچ اکتیس اپریل تیسمئی اکتیس جون میں تیسمئی جون میں گرمی زیادہاس میں سب کو آئے پسینہاکتیس جولائی اکتیس اگستبرکھا رت میں رہنا مستتیس ستمبر اکتیس دسمبرسردی میں سب کانپیں تھر تھرماضی گزرا اب ہے حالایک صدی میں ہیں سو سال
تم مجھ پر وارد ہوئےاک ستم گر کی طرحمئی کی وہ شام تھیمجھے آج بھی یاد ہےسفید رنگ کی شرٹ پہنےہاتھ میں اخبار رول کئےتم پنڈال کی کرسی پر براجمان تھےپہلی نظر میں تم عام سے تھےجیسے تم عاشق ہو اور میں محبوبمیری نظر کا لمس تمہیں خاصا خاص کر گیادیکھوکہانی نے پلٹا کھایاتم محب بن گئے اور میں دیوانی کہلائیمیرے آتے ہی تم سمٹ گئےتب سے آج تک ویسے ہی میری روح میںایک کونپل کی طرح سمٹے بیٹھے ہومیں منتظر ہوںکب احساس کا نازک پرندہ انگڑائی لےتم اپنی بانہیں پھیلائےاسی پنڈال کی اسی کرسی پرگہری خاموشی سے شور کرتے ہوئےمیری طرف بڑھوکہ دیکھنے والوں کو پاکیزہ محبترقص کرتی دکھائی دےجس میں نہ نمائش ہو نہ ہوسبس اک سرور ہواور میںمیں زمین کے اسی بے بس بے حس ٹکڑے پر آنکھیں موندے تمہیں دیکھتی رہوںپچھتاوے کا جال آج تک مجھے لپیٹ میں جکڑے ہےمیں کسی اسیر زادی کی طرحاپنی قید کو تقدیر کا لکھا جان کر خوش ہوںمیں اظہار و اقرار سے بریاپنی خواہش پر حیا کی چادر ڈالےمحبت کا طوق گلے میں لٹکائےخموشی کو لبوں پر سجائےنا امیدی کو شکست دیتے ہوئےگونگی بہری اندھی محبت پر اکتفا کئے ہوئے ہوںکہ اسیر خواہش و فرمائش کا حق نہیں رکھتے
پریم جگت کے رہنے والو پریم سے رشتہ جوڑوہردے ہے پربھو کا ڈیرا اسے کبھی نہ توڑوالٹی گنگا بہتی ہے بہنے دو اس کو چھوڑواپنے جیون دھارا کو تم سیدھے رخ پر موڑوکرم کرے گا جو اچھا اچھائی پہ وہ مرے گااور برا کوئی جو کرے گا ویسا ہی وہ بھرے گاپن کیا ہے جو بھی کسی نے اس کو تو وہ ملے گاباغ میں اس کے جیون کے وہ بن کر پھول کھلے گاہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہیں بھائی بھائیبھا نہیں سکتی کبھی کسی کو اک دوجے کی جدائیآج ہے رکشا بندھن کا دن ہے یہ کتنا سہانابھائی بہن کے پریم کا یہ دن سب کو سنائے فسانہشیلا نے ارشد کی لے لی جا کے ہاتھ میں کلائیپھر یہ بولی رکشا بندھن آج ہی ہے مرے بھائیپیار بھرا یہ ہاتھ جو رکھ دو سر پر آج ہمارےہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےپیار ہی پوجا پیار عبادت پیار سے رشتہ جوڑوہر دکھ ہر غم دور ہو جائے خوشیاں آئے دوارےزینب بھی راہل کے ہاتھ میں باندھ کے بولی راکھیدکھ سنکٹ کے ساگر کی نیا کا تو ہے ماجھیپوتر پریم کا جگ میں دیکھو کیسا یہ اپہار ہےاسی پیار اور پریم سے بھیا سکھ مے یہ سنسار ہےکبھی کسی بھی بہن پہ بھیا سنکٹ آ نہیں پائےپھول نہ ہرگز کبھی کسی کی خوشیوں کے مرجھائےسیتا گیتا شبنم شاہیں میں ہے بھید نہ بھاؤچاروں کا ہے ایک چرتر اور سب کا ایک سبھاؤبوند لہو کی ایک رگوں میں تن بھی ایک سمانپریم پاٹھ پڑھایا سب نے گیتا ہو یا پرانہو ہر دن رکشا بندھن کا سب پریم کی جوت جلائیںپریم کی خوشبو سے مہکے گھر آنگن چاروں دشائیں
مرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےیہ مجھ میں جو اک کارٹون آ گیا ہےاچھل کر دروں سے بروں آ گیا ہےکہ محفل میں جیسے بیون آ گیا ہےنہ سمجھو کہ مجھ پر جنون آ گیا ہےمیرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےمگن ہو کے باتیں کیے جا رہا ہوںکبھی جا رہا ہوں کبھی آ رہا ہوںکھڑا ہو کے اب سر جو سہلا رہا ہوںنہ دیکھا کہ آگے ستون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےجو اک سے شروع کی تو سب سے شروع کینہ پوچھو یہ اب بات کب سے شروع کیاکتیس مئی کی جو شب سے شروع کیتو باتوں ہی باتوں میں جون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہےیہ چلائیں نانی ارے کیا ہوا ہےکہ اک کان سے ہاتھ چپکا ہوا ہےابھی چپ لگی تھی ابھی ہنس رہا ہےابھی جوش تھا اب سکون آ گیا ہےمرے سیل پہ یو کے سے فون آ گیا ہے
آؤ بچو گیت سنائیںنینی تال کا حال بتائیںایک پہاڑی دیش بسا ہےقدرت کے رنگوں سے بھرا ہےاونچی اونچی ہیں چٹانیںجیسے قلعے کی دیواریںبل کھائی سڑکوں کے کنارےہرے بھرے پیڑوں کے نظارےحد نظر تک ہرا بھرا ہےرنگ برنگا پھول کھلا ہےخوشبو سے مہکی ہیں فضائیںبھینی بھینی مست ہوائیںاس دھرتی کے رنگ البیلےگود میں جس کے بادل کھیلےچینا پیک کی اونچی چوٹیایورسٹ کی ہے یاد دلاتیآٹھ ہزار فٹ اونچائی پرکھینچ آیا جنت کا منظرمئی جون میں خاصی سردیجاڑوں میں ہے برف برستیاسنوفال وہ ہولے ہولےجیسے نیچر موتی رولےنیلا نیلا جھیل کا پانیگہرے تال کی ہے یہ نشانیلہروں سے ٹکراتی کشتیچلی کنارے ہٹتی بچتی
مجھے بے رحم ہستی کے زیاں خانے میں کیوں بھیجا گیاکیوں حلقۂ زنجیر میں رکھ دی گئیں بے تابیاں میریہر اک منظر مری نظروں کا جویا تھافروزاں شاخساروں پر ہجوم رنگ و بواڑتا ہوا بر رواںسیماب پا موجیںصبا کا رقص بے پرواشب مہتاب کا افسوںمہ و انجم کے رقصاں دائرےروئے شفقتاباں افقدریاؤں کی رفتارشب کے جاگتے اسرارصحرا کا منور سینۂ عریاںطلسم بیکراں کے خواب گوں سائےمری راتوں میں مثل برق لہرائےستاروں کی تجلی میں تھا حرف کن کا افسانہبڑا فیاض تھا فطرت کا کاشانہکئی صحرا مرے گام تمنا کے شناسا تھےوہ حرف و صوت کی وادیوہ ذوق شعر کا جادہوہ عرفاں کے گریزاں آستانوں پر جبیں سائیوہ دانش کی پذیرائیوہ معنی کی گھنیری چھاؤں میںذہن رسا کا کشف وہاسرار کے پردے کے پیچھےدل کی محشر خیز آوازیںدل کی محشر خیز آوازیںوہ غم ہائے نہانی سے فروزاں ذوق بینائی
دسمبر میں قلفی کی کھولے دکانمئی میں رکھے موٹے کپڑوں کے تھان
مجھ کو یہ جاننے میں بھی عمریں لگیںکہ جو راتیں دسمبر کی گیلی سی مدھم سی اس چاندنی میں کٹیںوہ جو راتیں ہمارے ملن کی رتوں میں حسیں خواب بنتے ہوئے گہری آنکھوں میں بس جاگتے ہی بتائی گئیںان کی ساری حقیقت محبت نہیں تھی فقط ایک دھوکہ تھی بسدھند رستوں میں گاڑی کے شیشوں پہ جمتی ہوئی وہ حرارت جو سانسوں کی تھیبھاپ اڑتے ہی شیشوں پہ کچھ نہ رہابس نمی رہ گئیہنستے ہنستے فجیرہ کی سڑکوں پہ گاڑی میں کافی کے کپ سے اٹھی بھاپ میں سارے لمحے نمی کی نظر ہو گئےجنوری فروری مارچ اپریل مئیجب مئی آ گیاتو فجیرہ کی سڑکوں پہ بکھرے ہوئے منجمد خواب پانی ہوئےدھوپ نکلی تو آنکھوں سے اشکوں کی صورت حسیں خواب بہہ کر نکلنے لگےوہ دسمبر کی راتوں میں دیکھے ہوئے خواب یک دم سبھی پھر پگھلنے لگےدھند چھٹنے لگی تو دکھائی دیاسامنے اپنے کانٹوں بھرے ہاتھ کھولے ہوئےاک بھیانک سی صورت میں تنہا کھڑی تھی مری زندگیاور تم جا چکے تھے کہیںچند قدم کی مسافت تھی اور اس مسافت میں عمروں کا تھا فاصلہپھر تمہارے چلے جانے کے بعد تو کتنی تنہا تھی میںاس بھیانک سی صورت میں تنہا کھڑی زندگی کے گلے لگ کے روتی رہی برسوں روتی رہیجو بھی منظر پس دھند تھےسارے دھندلا گئےمیں وہ منظر سہانے انہیں ڈھونڈنے جب فجیرہ گئی لمبے اونچے پہاڑوں سے ٹکرا کے میری صدا گونجتی ہی رہیدھند کے موسم پلٹ آئے ہیں پھر سنوپھر دسمبر کی رت میں چلوان فجیرہ کے اونچے پہاڑوں کی اس اوٹ میں کوئی وعدہ کروآخری سانس تک وہ نبھانے کا وعدہ کوئیہاں مگر مجھ کو یہ جاننے میں بھی عمریں لگیںکہ وہ وعدے فقط دھند چھٹنے سے پہلے تلک تھے سبھیدھند چھٹنے لگی تو یقیں ہو گیااب نہ آؤ گے تم ہاں مگر مجھ کو یہ جاننے میں بھی عمریں لگیںاور کتنے دسمبر گزرتے رہےبس گزرتے رہے
قتل گل قتل صبا قتل سحر کی تقریبمنعقد ہوتی رہی بارہا ایوانوں میںقلعۂ جبر و تشدد میںقصر ظلمت میںخلوت شب میںگاہے گاہے سر راہےاور اس بار یہ تقریب بڑی شان کے ساتھمنعقد اہل ہوس کے ہاتھوںرہ گزاروں پہ ہوئیبر سر بازار ہوئیکوچۂ شہر نگاراں میں ہوئیدشت و صحرا میں ہوئیکوہساروں میں ہوئینام گل نام صبا نام سحر ورد زباںہر نفس گام بہ گاممحترم ہے روش مکر و فریب پیہمشیوۂ راہزنی کی خیرپیشۂ قتل کی عظمت کی دہائی دیجےدست قاتل کے تقدس کی قسم کھائی گئیساتھیو چلتے رہوہم روایات شکاگو کے امیںخون فیوچک کے تقدس کے امیںعظمت خون لوممبا کے امیںخون ناصر کے امیںنذر خوں دیتے رہے ہیںسر محفل سر زنداں سر مقتل سر دارنذر خوں دیتے رہیں گے ہم لوگ
میں کوئی پینٹنگ نہیںکہ اک فریم میں رہوںوہی جو من کا میت ہواسی کے پریم میں رہوں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہےمدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیںزخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہےدوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books