aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "انحصار"
ان کي جمعيت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تري
سوتیلے بھائیوں کی طرح ہوتے ہیںجن پر انحصار نہیں کیا جا سکتا
جس کو جنت یا جہنم جو بھی کہہ لوکیا کسی پہ انحصار
شرم عصیاں دل تپیدہ پروہ بھروسہ وہ انحصار جگر
انحصار من و تو ٹھیک نہیں سب سمجھیںوقت ہے خود کو سمجھنے کا یہی اب سمجھیں
اسی کے دم سے سارا گلستاں فردوس منظر تھاچمن میں انحصار موسم گل تک اسی پر تھا
کسی کی گزر اوقات کا انحصارہم پہ کیوں ہو؟
تیری ہر حرکت میں مخفی آرزوئے اضطرارتیری تدبیر عمل پر انحصار زندگی
نتیجہ نکلا یہی باہمی تعاون پرہے انحصار ہمارے نظام شمسی کا
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
کہ آخر اس جہاں کا ایک نظام کار ہے آخرجزا کا اور سزا کا کوئی تو ہنجار ہے آخر
اے عشق ہمیں برباد نہ کربے درد! ذرا انصاف تو کر اس عمر میں اور مغموم ہے وہ
میری چال کے انتظار میں ہےمگر میں کب سے
ہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانی
یہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھی
خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمےفرق انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوں
وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاںمگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان
خام ہے جب تک تو ہے مٹی کا اک انبار توپختہ ہو جائے تو ہے شمشير بے زنہار تو
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books