aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "agle"
میں بنجارہوقت کے کتنے شہروں سے گزرا ہوںلیکنوقت کے اس اک شہر سے جاتے جاتے مڑ کے دیکھ رہا ہوںسوچ رہا ہوںتم سے میرا یہ ناتا بھی ٹوٹ رہا ہےتم نے مجھ کو چھوڑا تھا جس شہر میں آ کروقت کا اب وہ شہر بھی مجھ سے چھوٹ رہا ہےمجھ کو وداع کرنے آئے ہیںاس نگری کے سارے باسیوہ سارے دنجن کے کندھے پر سوتی ہےاب بھی تمہاری زلف کی خوشبوسارے لمحےجن کے ماتھے پر روشناب بھی تمہارے لمس کا ٹیکانم آنکھوں سےگم سم مجھ کو دیکھ رہے ہیںمجھ کو ان کے دکھ کا پتا ہےان کو میرے غم کی خبر ہےلیکن مجھ کو حکم سفر ہےجانا ہوگاوقت کے اگلے شہر مجھے اب جانا ہوگا
آج محبت کا جنم دن ہےآج ہم اداسی کی چھری سےاپنے دل کو کاٹیں گےآج ہم اپنی پلکوں پرجلتی ہوئی موم بتی رکھ کےایک تار پر سے گزریں گےہمیں کوئی نہیں دیکھے گامگر ہم ہر بند کھڑکی کی طرفدیکھیں گےہر دروازے کے سامنے پھول رکھیں گےکسی نہ کسی بات پرہم روئیں گے اور اپنے رونے پرہم ہنسیں گےآج محبت کا جنم دن ہےآج ہم ہر درخت کے سامنے سےگزرتے ہوئےٹوپی اتار کر اسے سلام کریں گےہر بادل کو دیکھ کےہاتھ ہلائیں گےہر ستارے کا شکریہ ادا کریں گےہمارے آنسوؤں نےہمارے ہتھیلیوں کو چھلنی کر دیا ہےآج ہم اپنے دونوں ہاتھجیبوں میں ڈال کر چلیں گےاور اگلے برس تک چلتے رہیں گے
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرےکسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے
اے دل بے خبرجو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گیجو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیںواپسی موسموں کا مقدر تو ہےجو سماں بیت جائے پلٹتا نہیںجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزراے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکاچاندنی تھا ہوا صرف رنگ قمرخواب تھا آنکھ کھلتے ہی اوجھل ہواپیڑ تھا رت بدلتے ہوا بے ثمراے دل بے اثر اے مرے چارہ گریہ ہے کس کو خبر!کب ہوائے سفر کا اشارہ ملے!کب کھلیں ساحلوں پر سفینوں کے پرکون جانے کہاں منزل موج ہے!کس جزیرے پہ ہے شاہ زادی کا گھر اے مرے چارہ گراے دل بے خبر کم نظر معتبرتو کہ مدت سے ہے زیر بار سفربے قرار سفرریل کی بے ہنر پٹریوں کی طرحآس کے بے ثمر موسموں کی طرحبے جہت منزلوں کی مسافت میں ہےرستہ بھولے ہوئے رہرووں کی طرحچوب نار سفراعتبار نظر کس گماں پر کریںاے دل بے بصریہ تو ساحل پہ بھی دیکھتی ہے بھنورریت میں کشت کرتی ہے آب بقاکھولتی ہے ہواؤں میں باب اثرتجھ کو رکھتی ہے یہ زیب دار سفر بے قرار سفراے دل بے ہنرگرم سانسوں کی وہ خوشبوئیں بھول جاوہ چہکتی ہوئی دھڑکنیں بھول جابھول جا نرم ہونٹوں کی شادابیاںحرف اقرار کی لذتیں بھول جابھول جا وہ ہوا بھول جا وہ نگرکون جانے کہاں روشنی کھو گئیلٹ گیا ہے کہاں کاروان سحراب کہاں گیسوؤں کے وہ سائے کہاںاس کی آہٹ سے چمکے ہوئے بام و در اے دل بے بصررنگ آسودگی کے تماشے کہاںجھٹپٹا ہے یہاں رہ گزر رہ گزروہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکااب کسے ڈھونڈھتا ہے ارے بے خبرجانے والے نہیں لوٹتے عمر بھراے دل کم نظر اے مرے چارہ گر اے مرے ہم سفر
ترے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہےجو تیری طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہےترے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبودر و دیوار سے رستہ بنا کر سارے بر اعظموں میں پھیل سکتی ہےتری بانہیں ابد کو جانے والی شاہراہیں ہیںتری دائیں ہتھیلی کی لکیریں دوسری دنیاؤں کے نقشے ہیں جو ان منشیوں کے بس سے باہر ہیںتری آنکھیں نہیں یہ دیوتاؤں کی پنہ گاہیں ہیںجن میں وقت جیسے زہر کا تریاق ہےتری زلفوں کی وسعت اس جہاں کی انتہاؤں سے پرے تک ہےتری گردن کسی جنت کے پاکیزہ درختوں کے تنے کو دیکھ کر ترشی گئی ہےہمارے جسم پر سے تیری پرچھائی گزر جائےتو ممکن ہے کہ ہم اس موت جیسے خوف سے آزاد ہو جائیںہمارے پاس ایسا کیا ہے جو تجھ کو بتا کر ہم تجھے قائل کریںبس اتنا ہے کہ اپنے لفظ برسا کر تری چھتری پہ بارش پھینک دیں گےیا ترے چہرے پہ اپنی نظم کی اک سطر سے چھاؤں کریں گےدھوپ دے دیں گےمگر کیا فائدہ اس کا کہ موسم خود ترے جوتوں کے تسموں سے بندھے ہیںترے ہم راہ چلنے کی کوئی خواہش اگر دل میں کبھی تھی بھیتو ہم نے ترک کر دی ہےہم اس لائق نہیں ہیںہمیں معلوم ہے کہ اگلے وقتوں میں یہ لوگترے پیروں کے سانچوں سے نئی سمتوں کے اندازے لگائیں گے
اندھاری رات کے آنگن میں یہ صبح کے قدموں کی آہٹیہ بھیگی بھیگی سرد ہوا یہ ہلکی ہلکی دھندلاہٹگاڑی میں ہوں تنہا محو سفر اور نیند نہیں ہے آنکھوں میںبھولے بسرے ارمانوں کے خوابوں کی زمیں ہے آنکھوں میںاگلے دن ہاتھ ہلاتے ہیں پچھلی پیتیں یاد آتی ہیںگم گشتہ خوشیاں آنکھوں میں آنسو بن کر لہراتی ہیںسینے کے ویراں گوشوں میں اک ٹیس سی کروٹ لیتی ہےناکام امنگیں روتی ہیں امید سہارے دیتی ہےوہ راہیں ذہن میں گھومتی ہیں جن راہوں سے آج آیا ہوںکتنی امید سے پہنچا تھا کتنی مایوسی لایا ہوں
اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواخدا کا شکر بجا لائیں آج کے دن بھینہ کوئی واقعہ گزرا نہ ایسا کام ہوازباں سے کلمۂ حق راست کچھ کہا جاتاضمیر جاگتا اور اپنا امتحاں ہوتاخدا کا شکر بجا لائیں آج کا دن بھیاسی طرح سے کٹا منہ اندھیرے اٹھ بیٹھےپیالی چائے کی پی خبریں دیکھیں ناشتہ پرثبوت بیٹھے بصیرت کا اپنی دیتے رہےبخیر و خوبی پلٹ آئے جیسے شام ہوئیاور اگلے روز کا موہوم خوف دل میں لیےڈرے ڈرے سے ذرا بال پڑ نہ جائے کہیںلیے دیے یونہی بستر میں جا کے لیٹ گئے
قتل عام جاری ہےاگلے پڑاؤ تککار محبت موقوف کر دیا گیا ہےقسمت کو کاغذ کے ٹکڑوںاور بارود سے منسلک کر دیا گیا ہےآبادی کا مسئلہ درپیش ہےمحبت کو کسی فارغ وقت پر اٹھا دیا گیا ہےبہار آنے تکیہ موسم تو طے کرنا پڑے گا
خود روٹھیں خود من جائیں پھر ہمجولی بن جائیںجھگڑا جس کے سات کریں اگلے ہی پل پھر بات کریںان کو کسی سے بیر نہیں ان کے لئے کوئی غیر نہیں
مری بٹیاتجھے بھی میں نے جنما تھا اسی دکھ سےکہ جس دکھ سے ترے بھائی کو جنماتجھے بھی میں نے اپنے تن سے وابستہ رکھااتنی ہی مدت تککہ جب تک تیرے بھائی کو
ہم بھی مرتے جا رہے ہیںبعد تیرےہم دکھوں کےآنسوؤں کے باد و باراں میںنہتے دل کے ساتھبے پناہی راستوں پرپاؤں دھرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیںلمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئےرات دن کے وسوسوں میںکیا خبر کیا بیت جائے اگلے پلاس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوںسے ہے شلاور ہم خود ہی سے ڈرتے جا رہے ہیںدن گزرتے جا رہے ہیں
زندگی بہت مصروف ہو گئی ہےجو خواب مجھے آج دیکھنا تھاوہ اگلی پیدائش تک ملتوی کرنا پڑا ہےبچپن میں لگے زخم پر مرہم رکھنے کے لیےڈاکٹر نے ابھی صرف وعدہ کیا ہےکل کے لیے سانسیں کماتے ہاتھصبح تک چائے نہیں پی سکتےلیکن گھبراؤ نہیںسب کی یہی حالت ہےوہ بتا رہی تھیاس نے اپنی سہاگ رات تب منائیجب وہ حیض کے برس گزار چکی تھی
اک تاریخجب اس دنیا کی فضا میں میں نےپہلی سانس بھری تھیاورآج ہی مجھ کوموصول ہوئے ہیںکتنی دعاؤں کے چیکاب سارا برسآرام رہے گااور خاص الخاص اککام رہے گاقسمت کے بینک میں جا کرسارے چیککیش کرا کررفتہ رفتہخرچ کروں گاجب یہ دولت کم ہو جائےتب میں تنہا بیٹھ کےیہ دعائیں کروں گاکہ اگلے برس کاانتظارختم ہو جلدی
لٹکا دیادنکھونٹی پرہینگر سے اتاریراتپہننے کے لیےدن اور راتہو گئے کتنے پرانےاگلے سفر کے لیےمناسب ہوگاکون سالباس
نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںاک عمر جس نے چین دیا اس جہان کولینے دو سکھ کا سانس اسے بھی سر جہاںتیار کون ہے جو مجھے بازوؤں میں لےاک یہ نوا نہ ہو تو کہو جاؤں میں کہاںاگلے جہاں سے مجھ کو یہی اختلاف ہےیہ صورتیں یہ گیت صدائیں کہاں وہاںیہ ہے ازل سے اور رہے گا یہ تا ابدتم سے نہ جل سکے گا ترنم کا آشیاں
ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےپیارا نام کتاب ہے اس کامعلومات بڑھاتی ہےکوئی بچہ ہو یا بوڑھاسب کو یکساں بھاتی ہےدادا ابا مول اگر لیںپوتے کے کام آتی ہےگھر بیٹھے ہی دنیا بھر کیہم کو سیر کراتی ہےاگلے وقتوں کے لوگوں کاسارا حال سناتی ہےاس کی دانائی تو دیکھوجو پوچھو سمجھاتی ہےجاہل سے جاہل کو آخرقابل شخص بناتی ہےہر دفتر کے ہر افسر کویہ پروان چڑھاتی ہےدل کی آنکھیں روشن کرکےحق کی راہ دکھاتی ہےپڑھنے والے خوش ہوتے ہیںان کا رنج مٹاتی ہےتنہائی میں ہمدم بن کرفیضؔ ہمیں پہنچاتی ہے
دل ربا لالہ ہو فضا تیریمجھ کو بھائی نہ اک ادا تیریلطف سے بڑھ کے ہے جفا تیریواہ رے ہندوستاں وفا تیریمیں نہ مانوں کبھی ترا کہنامیں نہ بخشوں کبھی خطا تیریبرتر از خار ہے ترا گلشنزہر سے کم نہیں ہوا تیریخالی از کیفیت تری ہر چیزبات ہر ایک بے مزا تیریدرد دل میں تڑپ کے مر جاؤںمیں نہ ڈھونڈوں کبھی شفا تیریکون سی بات تیری لطف آمیزکون سی چیز دل کشا تیریتجھ کو جنت نشان کہتے ہیںہم جہنم کی جان کہتے ہیںتجھ کو کس بات پر ہے ناز بتاکیا نہیں اور ملک تیرے سواتیری آب و ہوا لطیف سہیتجھ سے بڑھ کر سپین کا خطہتجھ کو اپنی زمین کا ہے گھمنڈتجھ سے افضل کہیں ہے امریکہحسن پر اپنے ناز ہے تجھ کوحسن تجھ سے سوا اطالیہ کاتجھ کو گنگا کا اپنی دھوکا ہےتو نے دیکھا نہیں ہے سین کو جاموسیقی پر تجھے ہے ناز بہتاس میں جز درد و غم دھرا ہے کیافلسفہ تیرا اگلے وقتوں کافلسفہ دیکھ جا کے یورپ کاتجھ میں پھر آن کیا رہی باقیتیری محفل نہ کچھ نہ کچھ ساقیہاں مروت کا تجھ میں نام نہیںہاں اخوت کا تجھ میں نام نہیںتجھ سے بد نام عشق سا استاداور محبت کا تجھ میں نام نہیںآشتی سیکھے تجھ سے آ کے کوئیہاں خصومت کا تجھ میں نام نہیںتیری ہر بات میں صفائی ہےاور کدورت کا تجھ میں نام نہیںتجھ کو اور حریت سے کیا نسبتاس ضرورت کا تجھ میں نام نہیںشاد ہیں تیرے اپنے بیگانےاور شکایت کا تجھ میں نام نہیںتیری تہذیب تجھ کو موجب فخرہاں جہالت کا تجھ میں نام نہیںبات دنیا سے ہے جدا تیریواہ اے ہندوستاں ادا تیریتیرے رسم و رواج نے مارااس مرض کے علاج نے ماراتیری غیرت نے کر دیا بربادخاندانوں کے لاج نے ماراکیا کریں ہر گھڑی یہی ہے فکرروز کی احتیاج نے ماراآئے دن کال کا ہے ذکر اذکاراک ذرا سے اناج نے مارااور سب پر وبا کا اک طرہاس انوکھے خراج نے مارابخت برگشتہ آرزوئیں بہتہوس سیم و عاج نے مارانہ کریں کام کچھ تو کھائیں کیاروز کے کام کاج نے ماراتو تو رہنے کا کچھ مقام نہیںتجھ میں انسانیت کا نام نہیںقید تو نے کیا حسینوں کومہ جبینوں کو نازنینوں کوزیور علم سے رکھا عاریتو نے قدرت کے ان نگینوں کواختیار و پسند کی اے ہندکیا ضرورت نہ تھی حسینوں کوخوب پہچانی تو نے قدر ان کیخوب سمجھا تو ان خزینوں کوکنویں جھنکوائے نازنینوں سےزہر کھلوایا مہ جبینوں کوڈوبے جاتے ہیں کون آ کے بچائےبحر ہستی کے ان سفینوں کوتو مکاں تھا مکان ہو کے دیاخوف آرام ان مکینوں کوتجھ پہ تہذیب طعن کرتی ہےتجھ پہ الزام خلق دھرتی ہےآرزو ہے تجھے حکومت کیجاہ و ثروت کی شان و شوکت کیکیوں نہ ہو تجھ میں ہمت عالیدھوم ہر سو ہے تیری جرأت کیتو نے کسب فنون جنگ کیاسب میں شہرت ہے تیری قوت کیقسمیں کھاتے ہیں لوگ دنیا میںتیری ملت تری اخوت کیملک داری میں ملک گیری میںواہ کیا پیدا قابلیت کیتو تو استاد سے بھی بڑھ نکلاحیرت انگیز تو نے محنت کیآپ عالم میں تو ہے اپنی مثالآدمیت کی اور شجاعت کیہم سری کی کسی کو تاب نہیںترا آفاق میں جواب نہیںداغ دل کے کسے دکھائیں ہمایسا مشفق کہاں سے لائیں ہمدل میں ہے اپنے ہم نشیں اک روزآپ رو کر تجھے رلائیں ہماس طبیعت کو کس طرح بہلائیںدل کو کس چیز سے لگائیں ہمکب تلک روز کے کہیں صدمےکب تلک آفتیں اٹھائیں ہمزہر کیوں اے فلک نہ ہم کھا لیںجی سے اپنے گزر نہ جائیں ہمجو شکایت ہو کیوں نہ لب پر آئےایک دکھ ہو اسے چھپائیں ہماے تمدن کے راحت و آرامہائے کس طرح تم کو پائیں ہملوگ اٹھاتے ہیں زندگی کے مزےہم اٹھاتے ہیں ناخوشی کے مزے
تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتےکہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائےحیات اک زہر میں ڈوبی ہوئی تلوار ہو جائےمحبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتےخفا ہونے کی رسمیں ہیںبگڑنے کے طریقے ہیںرواج و رسم ترک دوستی پر سو کتابیں ہیںلکھا ہے جن میںرستہ وضع داری کا یوں ہی چھوڑا نہیں کرتےتعلق اس طرح توڑا نہیں کرتےکبھی بلبل گلوں کی خامشی سے روٹھ جاتی ہےپر اگلے سالسب کچھ بھول کر پھر لوٹ آتی ہےاگر پودوں سے پانی دور ہو جائےتو ہمسایہ درختوں کی جڑوں کے ہاتھپیغامات جاتے ہیںمحبت میں سبھی اک دوسرے کو آزماتے ہیںمگر ایسا نہیں کرتےکہ ہر امید ہر امکان مٹ جائےکہاں تک کھینچنی ہے ڈوریہ اندازہ رکھتے ہیںہمیشہ چار دیواری میں اک دروازہ رکھتے ہیںجدائی مستقل ہو جائےتو یہ زندگی زندان ہو جائےاگر خوشبو ہواؤں سے مراسم منقطع کر لےتو خود میں ڈوب کر بے جان ہو جائے
آہ اس خواب شبانہ کا ہے مجھ کو انتظاراس سرور عاشقانہ کا ہے مجھ کو انتظارتیری اک اک موج تھی جب آہ طوفاں کوش شوقحلقۂ گرداب تھا جب ہالۂ آغوش شوقجب کسی کے گیسوئے پر خم کی سودائی تھی تواور لب ساحل پہ روضہ کی تماشائی تھی توآہ جمنا تجھ کو دور پاستانی کی قسمشوکت دیرینۂ صاحب قرانی کی قسمکیا نہ ہوں گے تجھ کو وہ دل کش مناظر پھر نصیبعظمت اسلام کے اگلے مظاہر پھر نصیبہو کے مضطر آہ جوش اضطراب دل سے کیایوں ہی ٹکرایا کرے گی سر کو تو ساحل سے کیا
وہی بکرامرا مریل سا بکراجسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکراوہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرےدہاڑیں مار کر روتا ہوااور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میںخطا میری تھیمیں نے ہی لڑایا تھا اسے ببلو کے بکرے سےاسے معلوم تھا پٹنا ہے اس کومگر پھر بھی وہ اس موٹے سے جا کر بھڑ گیا تھامری عزت کی خاطروہ بھی قربانی سے بس کچھ دیر پہلےمگر پاپا تو کہتے ہیں وہ جنت میں بہت آرام سے ہوگاوہاں انگور کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہوگاتو کیوں روتا ہے وہ خوابوں میں آ کروہ کیوں روتا ہے آ کر خواب میں یہ تو نہیں معلوم مجھ کومجھے تو یہ پتا ہےوہ جب جب خواب میں روتا ہوا آیا ہے میرےتو اگلے روز ببلو کو بہت مارا ہے میں نے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books