aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "at"
اندیشوں کی ریت نہ پھانکوپیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھواتنے مہنگے خواب نہ دیکھوتھک جاؤ گی
یہ مست مست گھٹا، یہ بھری بھری برساتتمام حد نظر تک گھلاوٹوں کا سماںفضائے شام میں ڈورے سے پڑتے جاتے ہیںجدھر نگاہ کریں کچھ دھواں سا اٹھتا ہےدہک اٹھا ہے طراوت کی آنچ سے آکاشز فرش تا فلک انگڑائیوں کا عالم ہےیہ مد بھری ہوئی پروائیاں سنکتی ہوئیجھنجھوڑتی ہے ہری ڈالیوں کو سرد ہوا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
آؤ کہ مرگ سوز محبت منائیں ہمآؤ کہ حسن ماہ سے دل کو جلائیں ہمخوش ہوں فراق قامت و رخسار یار سےسرو و گل و سمن سے نظر کو ستائیں ہمویرانی حیات کو ویران تر کریںلے ناصح آج تیرا کہا مان جائیں ہمپھر اوٹ لے کے دامن ابر بہار کیدل کو منائیں ہم کبھی آنسو بہائیں ہمسلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوالواں جائیں یا نہ جائیں نہ جائیں کہ جائیں ہمپھر دل کو پاس ضبط کی تلقین کر چکیںاور امتحان ضبط سے پھر جی چرائیں ہمآؤ کہ آج ختم ہوئی داستان عشقاب ختم عاشقی کے فسانے سنائیں ہم
۱یہ شام اک آئینۂ نیلگوں یہ نم یہ مہکیہ منظروں کی جھلک کھیت باغ دریا گاؤںوہ کچھ سلگتے ہوئے کچھ سلگنے والے الاؤسیاہیوں کا دبے پاؤں آسماں سے نزوللٹوں کو کھول دے جس طرح شام کی دیویپرانے وقت کے برگد کی یہ اداس جٹائیںقریب و دور یہ گو دھول کی ابھرتی گھٹائیںیہ کائنات کا ٹھہراؤ یہ اتھاہ سکوتیہ نیم تیرہ فضا روز گرم کا تابوتدھواں دھواں سی زمیں ہے گھلا گھلا سا فلک۲یہ چاندنی یہ ہوائیں یہ شاخ گل کی لچکیہ دور بادہ یہ ساز خموش فطرت کےسنائی دینے لگی جگمگاتے سینوں میںدلوں کے نازک و شفاف آبگینوں میںترے خیال کی پڑتی ہوئی کرن کی کھنک۳یہ رات چھنتی ہواؤں کی سوندھی سوندھی مہکیہ کھیت کرتی ہوئی چاندنی کی نرم دمکسگندھ رات کی رانی کی جب مچلتی ہےفضا میں روح طرب کروٹیں بدلتی ہےیہ روپ سر سے قدم تک حسین جیسے گناہیہ عارضوں کی دمک یہ فسون چشم سیاہیہ دھج نہ دے جو اجنتا کی صنعتوں کو پناہیہ سینہ پڑ ہی گئی دیو لوک کی بھی نگاہیہ سر زمین سے آکاش کی پرستش گاہاتارتے ہیں تری آرتی ستارہ و ماہسجل بدن کی بیاں کس طرح ہو کیفیتسرسوتی کے بجاتے ہوئے ستار کی گتجمال یار ترے گلستاں کی رہ رہ کےجبین ناز تری کہکشاں کی رہ رہ کےدلوں میں آئینہ در آئینہ سہانی جھلک۴یہ چھب یہ روپ یہ جوبن یہ سج یہ دھج یہ لہکچمکتے تاروں کی کرنوں کی نرم نرم پھواریہ رسمساتے بدن کا اٹھان اور یہ ابھارفضا کے آئینہ میں جیسے لہلہائے بہاریہ بے قرار یہ بے اختیار جوش نمودکہ جیسے نور کا فوارہ ہو شفق آلودیہ جلوے پیکر شب-تاب کے یہ بزم شہودیہ مستیاں کہ مئے صاف و درد سب بے بودخجل ہو لعل یمن عضو عضو کی وہ ڈلک۵بس اک ستارۂ شنگرف کی جبیں پہ جھمکوہ چال جس سے لبالب گلابیاں چھلکیںسکوں نما خم ابرو یہ ادھ کھلیں پلکیںہر اک نگاہ سے ایمن کی بجلیاں لپکیںیہ آنکھ جس میں کئی آسماں دکھائی پڑیںاڑا دیں ہوش وہ کانوں کی سادہ سادہ لویںگھٹائیں وجد میں آئیں یہ گیسوؤں کی لٹک۶یہ کیف و رنگ نظارہ یہ بجلیوں کی لپککہ جیسے کرشن سے رادھا کی آنکھ اشارے کرےوہ شوخ اشارے کہ ربانیت بھی جائے جھپکجمال سر سے قدم تک تمام شعلہ ہےسکون جنبش و رم تک تمام شعلہ ہےمگر وہ شعلہ کہ آنکھوں میں ڈال دے ٹھنڈک۷یہ رات نیند میں ڈوبے ہوئے سے ہیں دیپکفضا میں بجھ گئے اڑ اڑ کے جگنوؤں کے شرارکچھ اور تاروں کی آنکھوں کا بڑھ چلا ہے خمارفسردہ چھٹکی ہوئی چاندنی کا دھندلا غباریہ بھیگی بھیگی اداہٹ یہ بھیگا بھیگا نورکہ جیسے چشمۂ ظلمات میں جلے کافوریہ ڈھلتی رات ستاروں کے قلب کا یہ گدازخنک فضا میں ترا شبنمی تبسم نازجھلک جمال کی تعبیر خواب آئینہ سازجہاں سے جسم کو دیکھیں تمام ناز و نیازجہاں نگاہ ٹھہر جائے راز اندر رازسکوت نیم شبی لہلہے بدن کا نکھارکہ جیسے نیند کی وادی میں جاگتا سنسارہے بزم ماہ کہ پرچھائیوں کی بستی ہےفضا کی اوٹ سے وہ خامشی برستی ہےکہ بوند بوند سے پیدا ہو گوش و دل میں کھنک۸کسی خیال میں ہے غرق چاندنی کی چمکہوائیں نیند کے کھیتوں سے جیسے آتی ہوںحیات و موت میں سرگوشیاں سی ہوتی ہیںکروڑوں سال کے جاگے ستارے نم دیدہسیاہ گیسوؤں کے سانپ نیم خوابیدہیہ پچھلی رات یہ رگ رگ میں نرم نرم کسک
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےدھواں کہ برق حسن کا مہکتا شعلہ ہے کوئیچٹیلی زندگی کی شادمانیاں لئے ہوئےلبوں سے پنکھڑی گلاب کی حیات مانگے ہےکنول سی آنکھ سو نگاہ مہرباں لئے ہوئےقدم قدم پہ دے اٹھی ہے لو زمین رہگزرادا ادا میں بے شمار بجلیاں لئے ہوئےنکلتے بیٹھتے دنوں کی آہٹیں نگاہ میںرسیلے ہونٹ فصل گل کی داستاں لئے ہوئےخطوط رخ میں جلوہ گر وفا کے نقش سر بسردل غنی میں کل حساب دوستاں لئے ہوئےوہ مسکراتی آنکھیں جن میں رقص کرتی ہے بہارشفق کی گل کی بجلیوں کی شوخیاں لئے ہوئےادائے حسن برق پاش شعلہ زن نظارہ سوزفضائے حسن اودی اودی بجلیاں لئے ہوئےجگانے والے نغمۂ سحر لبوں پہ موجزننگاہیں نیند لانے والی لوریاں لئے ہوئےوہ نرگس سیاہ نیم باز مے کدہ بہ دوشہزار مست راتوں کی جوانیاں لئے ہوئےتغافل و خمار اور بے خودی کی اوٹ میںنگاہیں اک جہاں کی ہوشیاریاں لئے ہوئےہری بھری رگوں میں وہ چہکتا بولتا لہووہ سوچتا ہوا بدن خود اک جہاں لئے ہوئےز فرق تا قدم تمام چہرہ جسم نازنیںلطیف جگمگاہٹوں کا کارواں لئے ہوئےتبسمش تکلمے تکلمش ترنمےنفس نفس میں تھرتھراتا ساز جاں لئے ہوئےجبین نور جس پہ پڑ رہی ہے نرم چھوٹ سیخود اپنی جگمگاہٹوں کی کہکشاں لئے ہوئے''ستارہ بار و مہ چکاں و خورفشاں'' جمال یارجہان نور کارواں بہ کارواں لئے ہوئےوہ زلف خم بہ خم شمیم مست سے دھواں دھواںوہ رخ چمن چمن بہار جاوداں لئے ہوئےبہ مستیٔ جمال کائنات، خواب کائناتبہ گردش نگاہ دور آسماں لئے ہوئےیہ کون آ گیا مرے قریب عضو عضو میںجوانیاں، جوانیوں کی آندھیاں لئے ہوئےیہ کون آنکھ پڑ رہی ہے مجھ پر اتنے پیار سےوہ بھولی سی وہ یاد سی کہانیاں لئے ہوئےیہ کس کی مہکی مہکی سانسیں تازہ کر گئیں دماغشبوں کے راز نور مہ کی نرمیاں لئے ہوئےیہ کن نگاہوں نے مرے گلے میں باہیں ڈال دیںجہان بھر کے دکھ سے درد سے اماں لئے ہوئےنگاہ یار دے گئی مجھے سکون بے کراںوہ بے کہی وفاؤں کی گواہیاں لئے ہوئےمجھے جگا رہا ہے موت کی غنودگی سے کوننگاہوں میں سہاگ رات کا سماں لئے ہوئےمری فسردہ اور بجھی ہوئی جبیں کو چھو لیایہ کس نگاہ کی کرن نے ساز جاں لئے ہوئےستے سے چہرے پر حیات رسمساتی مسکراتینہ جانے کب کے آنسوؤں کی داستاں لئے ہوئےتبسم سحر ہے اسپتال کی اداس شامیہ کون آ گیا نشاط بے کراں لئے ہوئےترے نہ آنے تک اگرچہ مہرباں تھا اک جہاںمیں رو کے رہ گیا ہوں سو غم نہاں لئے ہوئےزمین مسکرا اٹھی یہ شام جگمگا اٹھیبہار لہلہا اٹھی شمیم جاں لئے ہوئےفضائے اسپتال ہے کہ رنگ و بو کی کروٹیںترے جمال لالہ گوں کی داستاں لئے ہوئےفراقؔ آج پچھلی رات کیوں نہ مر رہوں کہ ابحیات ایسی شامیں ہوگی پھر کہاں لئے ہوئے(۲)مگر نہیں کچھ اور مصلحت تھی اس کے آنے میںجمال و دید یار تھے نیا جہاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے آدمیجبیں پہ شاہکار دہر کا نشاں لئے ہوئےاسی نئے جہاں میں آدمی بنیں گے دیوتاطہارتوں کا فرق پاک پر نشاں لئے ہوئےخدائی آدمی کی ہوگی اس نئے جہان پرستاروں کے ہیں دل یہ پیش گوئیاں لئے ہوئےسلگتے دل شرر فشاں و شعلہ بار برق پاشگزرتے دن حیات نو کی سرخیاں لئے ہوئےتمام قول اور قسم نگاہ ناز یار تھیطلوع زندگیٔ نو کی داستاں لئے ہوئےنیا جنم ہوا مرا کہ زندگی نئی ملیجیوں گا شام دید کی نشانیاں لئے ہوئےنہ دیکھا آنکھ اٹھا کے عہد نو کے پردہ داروں نےگزر گیا زمانہ یاد رفتگاں لئے ہوئےہم انقلابیوں نے یہ جہاں بچا لیا مگرابھی ہے اک جہاں وہ بدگمانیاں لئے ہوئے
ہم کیا کرتے کس رہ چلتےہر راہ میں کانٹے بکھرے تھےان رشتوں کے جو چھوٹ گئےان صدیوں کے یارانوں کےجو اک اک کر کے ٹوٹ گئےجس راہ چلے جس سمت گئےیوں پاؤں لہولہان ہوئےسب دیکھنے والے کہتے تھےیہ کیسی ریت رچائی ہےیہ مہندی کیوں لگائی ہےوہ کہتے تھے کیوں قحط وفاکا ناحق چرچا کرتے ہوپاؤں سے لہو کو دھو ڈالو!یہ راہیں جب اٹ جائیں گیسو رستے ان سے پھوٹیں گےتم دل کو سنبھالو جس میں ابھیسو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے
جب سے بے نور ہوئی ہیں شمعیںخاک میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں نہ جانے کس جاکھو گئی ہیں مری دونوں آنکھیںتم جو واقف ہو بتاؤ کوئی پہچان مریاس طرح ہے کہ ہر اک رگ میں اتر آیا ہےموج در موج کسی زہر کا قاتل دریاتیرا ارمان، تری یاد لیے جان مریجانے کس موج میں غلطاں ہے کہاں دل میراایک پل ٹھہرو کہ اس پار کسی دنیا سےبرق آئے مری جانب ید بیضا لے کراور مری آنکھوں کے گم گشتہ گہرجام ظلمت سے سیہ مستنئی آنکھوں کے شب تاب گہرلوٹا دےایک پل ٹھہرو کہ دریا کا کہیں پاٹ لگےاور نیا دل میرازہر میں دھل کے، فنا ہو کےکسی گھاٹ لگےپھر پئے نذر نئے دیدہ و دل لے کے چلوںحسن کی مدح کروں شوق کا مضمون لکھوں
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھےایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے تھےکانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علاحدہ تھےروگ علاحدہ بستی میں تھے اور علاج علاحدہ تھےدو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھےگنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھےچاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھےاوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھےدریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیںلنگوروں کی دم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیںچھوت کی اک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کانوں میںبھوک کے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میںروز کئی کانے بے چارے مرتے تھے بیماری میںکہتے ہیں راجا سوتا تھا سونے کی الماری میںگھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھےپیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھےتب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجااور کالا چشمہ پہن کے سنگھاسن پر آیا راجادکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیںدیکھا اس کانے راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیںجھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہےجا کر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنتا ہوا سائباںاونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواںدیکھ پہنچا ہے آخر کہاں سے کہاںجھانکتا صورت خیل آوارگاںغرفہ غرفہ بہر کاخ و کو شہر میں
امتحاں سر پر ہے لڑکے لڑکیاں ہیں اور کتابڈیٹ شیٹ آئی تو گویا آ گیا یوم الحسابصرف اک کاغذ کے پرزے سے ہوا یہ انقلابخود بہ خود ہر اک شرارت کا ہوا ہے سد بابپہلے تھیں وہ شوخیاں جو آفت جاں ہو گئیں''لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں''
وہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںوہ مر چکا ہےوہ مر چکا ہےکہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نےبدن کی خوش رنگ زینتوں کوچھپا کے رکھاجنہوں نے بیتاب حدتوں کوبدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کوسنبھالے رکھاجنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپاوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںبدل کے وہ بھیس بادلوں کاہمارے تازہ کنوارے جسموں کی سوندھی مٹی سے آ کے لپٹےہمارا خون بوند بوندگوندھےہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ گونجے گجر کی صورتہمارے سنسان گنبدوں میںکبھی وہ بھڑکے الاؤ بن کرہمارے تا یک طاقچوں میںکبھی وہ جسموں کی بنسیوں میںشگاف ڈالےلذیذ دردیلا گیت بن کرلبوں سے نکلےکبھی وہ چمکے ستارہ بن کرہماری کوکھوں میں پھول مہکیںہماری کوکھوں میں پھل جنم لےنگر کی سب لڑکیاں پکاریںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںہماری خواہش وہ دودھ بن کرہماری زرخیز چھاتیوں کی نمی میں اترےہماری خواہش ہمارے بچےاسی کے ہاتھوں میں آنکھ کھولیںہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ پچھلے پہر دریچوں پہ کھلتے مہتاب سے یہ کہتیںکہاں ہے وہ شہسوار جس کوبوقت رخصت گلے میں ہم نےسفید پھولوں کے ہار ڈالےوہ پھول کب سرخ پھول بن کرہماری ویران خواب گاہوں کی سیج ہوں گےسیندور کب کب میں میں گایہ پھول کب سرخ پھول ہوں گےکبھی وہ تنہا بر آمدے کے ستون سے لپٹیلچکتی بیلوں کے زرد پتوں سے پوچھتیں یہبہار کی رت کہاں کھڑی ہےیہ پھول اب کس سے کھلیں گےبہار کی رت ابھی کہاں ہےہر اک مسافر کو روکتیں وہبتاؤ وہ شہسوار اب کبنگر کو لوٹے گا پوچھتیں وہکنوارے لمحوں کا بھید کنوارہکنوارے گیتوں کی لے کنواریکنوارے جسموں کی کچی کلیوں کا نم کنوارہنگر کی تمام نو عمر لڑکیوں نےکلی کلی کو سنبھالے رکھاکہ وہ اگر آئے اوس بن کرتو قطرہ قطرہ کلی میں اترےکلی کو کھولےمگر وہ لفظوں کے دائروں کے سفر سے گزراپرانی سنسان سیڑھیوں کے بھنور سے نکلاجو گھر سے باہر ہزار انجانے راستوں پر بکھر گیا تھاکہ بجھتے سورج کا کھوج پائےہر ایک سائے کا بھید کھولےجو اپنی آنکھوں میں خواہشوں کا الاؤ لے کراندھیرے جنگل میں چل رہا تھاجو پوچھتا تھاگیان کیا ہےجو پوچھتا تھا نجات کس میں ہےاصل کیا ہےوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں
مری شاعری چاند تاروں کی دنیایہ رنگیں گھروندا طلسم زمانہکھلونوں کا ہے اک بڑا کارخانہہوا باندھنا اور غبارے بناناغبارے بنا کر فضا میں اڑانامرے شعر کا شعبدہ ہے پرانامری شاعری چاند تاروں کی دنیا
جب دن ڈھل جاتا ہے، سورج دھرتی کی اوٹ میں ہو جاتا ہےاور بھڑوں کے چھتے جیسی بھن بھنبازاروں کی گرمی، افرا تفریموٹر، بس، برقی ریلوں کا ہنگامہ تھم جاتا ہےچائے خانوں ناچ گھروں سے کمسن لڑکےاپنے ہم سن معشوقوں کوجن کی جنسی خواہش وقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےلے کر جا چکتے ہیںبڑھتی پھیلتی اونچی ہمالہ جیسی تعمیروں پر خاموشی چھا جاتی ہےتھیٹر تفریح گاہوں میں تالے پڑ جاتے ہیںاور بظاہر دنیا سو جاتی ہےمیں اپنے کمرے میں بیٹھا سوچا کرتا ہوںکتوں کی دم ٹیڑھی کیوں ہوتی ہےیہ چتکبری دنیا جس کا کوئی بھی کردار نہیں ہےکوئی فلسفہ کوئی پائندہ اقدار نہیں، معیار نہیں ہےاس پر اہل دانش ودوان، فلسفیموٹی موٹی ادق کتابیں کیوں لکھا کرتے ہیں؟فرقتؔ کی ماں نے شوہر کے مرنے پر کتنا کہرام مچایا تھالیکن عدت کے دن پورے ہونے سے اک ہفتہ پہلےنیلمؔ کے ماموں کے ساتھ بدایوں جا پہنچی تھیبی بی کی صحنک، کونڈے، فاتحہ خوانیجنگ صفین، جمل اور بدر کے قصوںسیرت نبوی، ترک دنیا اور مولوی صاحب کے حلوے مانڈے میں کیا رشتہ ہے؟
اک صاحب جو سوچ رہے ہیں پچھلے ایک پہر سےیوں لگتے ہیں جیسے بچہ روٹھ آیا ہو گھر سےکافی کی پیالی کو لبوں تک لائیں تو کیسے لائیںبیرے تک سے آنکھ ملا کر بات جو نہ کر پائیں
بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیںضبط کے زرد آنچل میں اپنےسارے درد چھپا لیتی ہیںروتے روتے ہنس پڑتی ہیںہنستے ہنستے دل ہی دل میں رو لیتی ہیںخوشی کی خواہش کرتے کرتےخواب اور خاک میں اٹ جاتی ہیںسو حصوں میں بٹ جاتی ہیںگھر کے دروازے پر بیٹھیامیدوں کے ریشم بنتے ساری عمر گنوادیتی ہیں
شہر کے ایک کشادہ گھر میںاپنے اپنے کام سنبھالےمیں اور ایک مری تنہائیہم دونوں مل کر رہتے ہیںباتیں کرتے روتے ہنستےہر دکھ سکھ سہتے رہتے ہیں
آ لگی ہے ریت دیواروں کے ساتھسارے دروازوں کے ساتھسرخ اینٹوں کی چھتوں پر رینگتی ہےنیلی نیلی کھڑکیوں سے جھانکتی ہےریتریت رک جاکھیل طے کر لیںسنہرے تاش کے پتوں سے درزوںروزنوں کو بند کر لیں ریترک جاسست برساتیں کہ جن پر دوڑ پڑناجن کو دانتوں میں چبا لیناکوئی مشکل نہ تھاتو نے وہ ساری نگل ڈالی ہیں راترات ہم ہنستے رہے اے ریتتو دیوانی بلی تھی جو اپنی دم کے پیچھےگھومتی جاتی تھیاس کو چاٹتی جاتی تھی راتریت کی اک عمر ہے اک وقت ہےلیکن ہمیںخود سے جدا کرتی چلی جاتی ہے ریتناگہاں ہم سب پہ چھا جانے کی خاطریہ ہماری موت بن کر تازہ کر دیتی ہےیادیں دور کی یا دیر کیریت کو مٹھی میں لے کر دیکھتے ہیںاپنے پوروں سے اسے چھنتے ہوئےہم دیکھتے ہیںاپنے پاؤں میں پھسلتے دیکھتے ہیںریت پر چلتے ہوئےاپنے گیسو سے اٹ جاتے ہیںبھر جاتے ہیں پیراہنہمارے باطنوں کو چیرتی جاتی ہے ریتپھیلتی جاتی ہے جسم و جاں کے ہر سوہم پہ گھیرا ڈالتی جاتی ہےریتریت اک مثبت نفی تھیریت سرحد تھی کبھیریت عارف کی اذیت کا بدل تھیآنسوؤں کی غم کی پہنائی تھی ریتاپنی جویائی تھی ریتریت میں ہر کس تھے ہمدوسرا کوئی نہ تھاریت وہ دنیا تھی جس پر دشمنوں کیمہر لگ سکتی نہ تھیاس کو اپنا تک کوئی سکتا نہ تھاریت پر ہم سن رہے ہیں آجپیرانہ سری کی اپنی تنہائیکی چاپدن کے ساحل پر اتر کرآنے والی رات کے تودے لگاتیجا رہی ہےناگہاں کی بے نہایت کو اڑا لائی ہےریتدل کے سونے پن میں در آئی ہےریتریت
ہر اک جیب چھلنی ہر اک آنکھ پیاسیہر اک رخ پہ پھیلی ہوئی بد حواسیہو منسوخ روپیوں کی کیسے نکاسییہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books