aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "faq"
آپ ہیں فضل خدائے پاک سے کرسی نشیںانتظام سلطنت ہے آپ کے زیر نگیںآسماں ہے آپ کا خادم تو لونڈی ہے زمیںآپ خود رشوت کے ذمے دار ہیں فدوی نہیں
شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھےشوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھےاچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تکہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھاجب کوئی اپنا ہیرواپنے آدرش کا پیکر سامنے آتاجی یہ چاہتاآنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیںباتیں سنیں اتنی باتیںسیل زماں سے اونچی باتیںدل کے گہرے غم کی باتیںدوری اور نزدیکیلفظ بہت چھوٹے ہیںان لفظوں کو پرکھو توانسان اور بھی چھوٹے نکلتے ہیںپاس بلا کر جسے دیکھواس کا چہرہ فق بے رنگبھبھوت کی صورت کالا کالاکیا سورج بہت نیچے آ گیا ہےکیا ماؤں نے بچے جن کردودھ پلانا چھوڑ دیا ہےگولیاں کھا کے دودھ کے سوتےخشک کرنے والی ماؤںپلاسٹک کے بیگز میں رات رات بھربچوں کا پیشاب جذب کرنے والی ماؤںنیند تمہاری بہت میٹھی ہےٹھیک ہے تم بھی بے بس ہومرد گھروں سے غائب ہوں توماں کی مامتا بلک بلک کرنیند کی گولی کے آنگن میں سو ہی جایا کرتی ہےخواب آور گولییہ بھی تو آج کی اہم ضرورت ہےمصنوعی پلکیں آنکھوں سے اتار کےاصلی چہرہ مت دیکھوگولیاں کھاؤ سو جاؤ آرام کروصبح تمہارے سر کے اوپر سورج کیاور بھی گرم شعاعیں رقص کریں گیاچھے لوگ صبح کو کچھ اور شام کو کچھاور رات کو ان کے خون کی طغیانی میںان کے ہاتھ اور ان کی آنکھیںبالکل جنگلی چوہے جیسی معلوم ہوںپہلے پہل یہ اچنبھا تھاخوف کی تہ میں انجانے کو جاننے کی خواہشمکڑی کے جالے کی مانند پھیلیپہلے پہل پستانوں میں درد کی ٹیسیں بہت اٹھیںپھر یاد نہیںمصنوعی پلکیں اتنی لمبی ہیںمیں اپنے پیر کے نقش کے آگے دیکھ نہیں سکتی ہوںکہتے ہیں کہ ہوا چلی ہےکھیپ نئے لوگوں کیجن کو اچھا کہنے والے ساتھ ساتھ ہیںپہنچ گئے ہیں شہر کنارےسورج اب تو اتنا نیچے آ پہنچا ہےاس کو اٹھا کے دور کسی کونے میں دفن کرورات کی چادر اوڑھنے سے پہچان کا رشتہشکر خدایا ٹوٹ تو جاتا ہےاے رب تو والیٔ کون و مکاںتو سب کے دلوں کے حال سے واقف ہےتو ہم کو بتا ہم کیا سوچیںہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دئے ہیں
چاندی کی انگوٹھی پہ جو سونے کا چڑھا جھولاوچھی تھی لگی بولنے اترا کے بڑا بولاے دیکھنے والو تمہی انصاف سے کہناچاندی کی انگوٹھی بھی ہے کچھ گہنوں میں گہناچاندی کی انگوٹھی کے نہ میں ساتھ رہوں گیوہ اور ہے میں اور یہ ذلت نہ سہوں گیمیں قوم کی اونچی ہوں بڑا میرا گھراناوہ ذات کی گھٹیا ہے نہیں اس کا ٹھکانامیری سی کہاں چاشنی میرا سا کہاں رنگوہ مول میں اور تول میں میرے نہیں پاسنگمیری سی چمک اس میں نہ میری سی دمک ہےچاندی ہے کہ ہے رانگ مجھے اس میں بھی شک ہےیہ سنتے ہی چاندی کی انگوٹھی بھی گئی جلاللہ رے ملمع کی انگوٹھی تیرے چھل بلسونے کی ملمع پہ نہ اترا میری پیاریدو دن میں بھڑک اس کی اتر جائے گی ساریکچھ دیر حقیقت کو چھپایا بھی تو پھر کیاجھوٹوں نے جو سچوں کو چڑھایا بھی تو پھر کیامت بھول کبھی اصل تو اپنی اری احمقجب تاؤ دیا جائے گا ہو جائے گا منہ فقسچے کی تو عزت ہی بڑھے گی جو کریں جانچمشہور مثل ہے کہ نہیں سانچ کو کچھ آنچکھونے کو کھرا بن کے نکھرنا نہیں اچھاچھوٹے کو بڑا بن کے ابھرنا نہیں اچھا
فرش گل کی جا ہے بستر خار کارنگ فق ہے ہر جگر افگار کاصدمہ ہے اندوہ کے آزار کادل فسردہ حال ہے بیمار کاپا برہنہ گھر سے نکلے مرد و زنلوگ دہلی کے ہیں سارے نعرہ زن
فندک فندک فندک فکدھنک دھنک دھن دھنک دھنکتانت بجی اور نکلا راگروئی بنی صابن کا جھاگکیسی چھنتی جاتی ہےبادل بنتی جاتی ہےکتنا ڈھیر ہوا آہامیں اس ڈھیر پہ کودوں گاکوئی چوٹ نہ آئے گیروئی مگر دب جائے گیاتی روئی اتنا ڈھیرہو گئی بارہ تیرہ سیرلے اب روئی ہو گئی صافبھر لے تکیے اور لحافان سے سب سکھ پاتے ہیںاوڑھتے اور بچھاتے ہیںملتا ہے سب کو آرامواہ رے دھنیے تیرا کامواہ ری دھنکی دھنک دھنکفندک فندک فک فک فک
سورج کے دم سے بچو دنیا میں ہے اجالاسورج نہ ہو تو چہرہ دنیا کا ہوگا کالاسورج میں مادے کی حالت پلازمہ ہےپوچھو یہ آج ہم سے کیسی ہے اور کیا ہےہاں گیس سے زیادہ ہلکی پلازمہ ہےبچو یہ تیز گرمی کی خود ہی رہنما ہےسورج کی روشنی سے بنتا ہے بھاپ پانیلیتی ہے جنم بچو بادل کی پھر کہانیاک سرخ شعلہ بن کر سورج دہک رہا ہےسورج کی روشنی سے چندا چمک رہا ہےسولر ہیٹروں کو سورج نے دی حرارتسورج کی پیڑ پودوں پہ ہوتی ہے عنایتحافظؔ یہ شام کو جو چہرہ ہے خود ہی فق ہےسورج کے ڈوبنے سے آکاش پر شفق ہے
میں نے دکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھامیں نے سکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھادنیا میری ہتھیلی سے باہر کیا رہی ہوگی میں نے دیکھازمین پر شاید سیلاب آیا تھامیں نے دیکھا کہ دھوپ چونکیاور بھاگ کر درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئی اس کا رنگ فق تھااور اس کی عمر تیرہ برس سے زیادہ نہ تھیسیلاب نے اس کے پاؤں چھو لئے اسے پھر بھی یقین نہیں آیاجیسے کہہ رہی ہوجاؤ مجھے اپنے یقینی پر کبھی یقین نہیں آیابے ایمان آدمی کی طرحمیں بے یقین ہوںیہ لوگ کہانی سناتے سناتے رک جاتے ہیںاور خاموشی کو سناتے سناتے رک جاتے ہیںجیسے تیر آرزو ہوا اور پرندہ چھدے ہوئے ترچھے زاویے بنا کرزن سے گزر گئے ہوںاور جیسے ان سب کو ایک نظر میں سب نے دیکھ لیا ہوجن سمندروں پر یہ پرندے گریں گےوہاں بہت شور ہوگااور لوگ کہانیوں کو امانت کر کے دریا میں بہا دیتے ہوں گےیہ لوگ تمباکو کے پتوں میں اپنے دل لپیٹ کر بو دیتے ہوں گے
چھک چھک پھک پھک شور مچاتی چلی ریل سرکاری ہےیہ منے کی پھلواری ہے
خواب پرست! اجالا نہ کرمیرا خون سفید اور رنگ فق ہےمجھے ناخن سے کرید، آ چل کے کہیں بیٹھیںبادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہو گئیموم بتی کی طرحمجھے الگنی پر ٹانگ دے کہ میری دوہرگی کا بوجھبان بٹنے والے پہ ہو تجھ پر نہ ہوخواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جاناکیونکہ نہیں جانا جس نے جو جانابھیڑ بہت ہے اور بیگانگی اس سے بھی بہتلیکن میں تجھے بہتوں میں سے بھی ڈھونڈ لوں گیبا محبت با ایمان خوشبو دریچہ دریچہ پھریاور کہتی تھی صدیوں کا کہابوند بوند مٹی کشید کرنے کا فنکہو کہہ چکوخوں بہا اناروں کے کھیتپوشیدہ خزانوں کے خوابانگوٹھی پہ مہر تیری آنکھیںاور تو حاکم شہرمہرباں! مہرباں! مہرباںعذاب زیست سے حکم، رہائی کا دےایک موقعہ مجھے جگ ہنسائی کا دے!
سب نے فق چہروں کے ساتھمڑ کے دیکھاایک لمحے کے لیے بازار ساکتاور اسکوٹر روانہ ہو گیا
میں تھا جدید شاعری کرنے کے موڈ میںذہن رسا سے رات تخیل اڑا رہامفہوم شعر ایک طرف کو پڑا رہاآیا مری زباں پہ نہ فعلن نہ فاعلنچھوٹا رہا کوئی کوئی مصرع بڑا رہاتھا اس ادھیڑ بن میں کہ کچھ آئیں شاعراتجن کا قدیم رنگ میں جھنڈا گڑا رہامیں نے کہا کہ کچھ کہو رنگ جدید میںسن کر یہ ان کا روئے سخن فق پڑا رہاپر پھڑپھڑا کے رہ گئیں بے چاری شاعراتپائے خیال اپنی جگہ پر اڑا رہابزم جدید میں نہ گئیں شب کی مرغیاںسورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
پہلے بھی تو گزرے ہیںدور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کےپھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندیتم مگر یہ کیا جانولب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیںہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کرنور کی زباں بن کرہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کرروشنی سے ڈرتے ہوروشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیںروشنی سے ڈرتے ہوشہر کی فصیلوں پردیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخراژدہام انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکےآدمی چھلک اٹھےآدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ہاں ابھی تو تم بھی ہوہاں ابھی تو ہم بھی ہیںتم ابھی سے ڈرتے ہو
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
دو دن ہی میں عہد طفلی کے معصوم زمانے بھول گئےآنکھوں سے وہ خوشیاں مٹ سی گئیں لب کو وہ ترانے بھول گئےان پاک بہشتی خوابوں کے دلچسپ فسانے بھول گئے
تو معراج فن تو ہی فن کا سنگھارمصور ہوں میں تو مرا شاہکار
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرخدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کراٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساںسفال ہند سے مینا و جام پیدا کرمیں شاخ تاک ہوں میری غزل ہے میرا ثمرمرے ثمر سے مے لالہ فام پیدا کرمرا طریق امیری نہیں فقیری ہےخودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
اے میرے وطن کے فن کارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارویہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یاروورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہتوہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سود نہیں نقصان بہتوہ نار یہ کہہ کر دور ہوئی 'مجبوری ساجن مجبوری'یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟اس روز ہمیں معلوم ہوا اس شخص کا مشکل سمجھانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیواناگو آگ سے چھاتی جلتی تھی گو آنکھ سے دریا بہتا تھاہر ایک سے دکھ نہیں کہتا تھا چپ رہتا تھا غم سہتا تھانادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں اس عالم میں نادانوں کواس شخص سے ایک جواب ملا سب اپنوں کو بیگانوں کو'کچھ اور کہو تو سنتا ہوں اس باب میں کچھ مت فرمانا'اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانااب آگے کا تحقیق نہیں گو سننے کو ہم سنتے تھےاس نار کی جو جو باتیں تھیں اس نار کے جو جو قصے تھےاک شام جو اس کو بلوایا کچھ سمجھایا بیچارے نےاس رات یہ قصہ پاک کیا کچھ کھا ہی لیا دکھیارے نےکیا بات ہوئی کس طور ہوئی اخبار سے لوگوں نے جانااس بستی کے اک کوچے میں اک انشا نام کا دیوانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books