aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gi.dgi.daayaa"
''تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم ہو''! اس نے مجھے جھنجوڑا''مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی'' میں نے احتجاج کیااس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! تم'' سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ ہو''''ٹھہرو! ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے...... تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں''اس نے گھبرا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور ذرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پرجوش ہو کر بولا''دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو''''ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں''اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا...... ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیںاس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا''دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو''''مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی'' میں نے دہائی دیوہ غصے سے کانپنے لگا..... پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا''خود کو ثابت کرو خدا را نہیں تو میں مٹ جاؤں گا!ہماری تکمیل ضروری ہے''''ناگزیر ہے! میں نے تائید کیآؤ میں تمہیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محروم ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے''''ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہوگی'' اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا......اور پھر ہم نے دیکھا... رنگ... روشنی... سبزہ... مایہ... حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی جاگیریں تھیںباہر تو صرف دھواں تھا
مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیرسر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہاروشنی چاہیئے، چاندنی چاہیئے، زندگی چاہیئےروشنی پیار کی، چاندنی یار کی، زندگی دار کیاپنی آواز سنتا رہا رات دندھیرے دھیرے یقیں دل کو آتا رہاسونے سنسار میںبے وفا یار میںدامن دار میںروشنی بھی نہیںچاندنی بھی نہیںزندگی بھی نہیںزندگی ایک راتواہمہ کائناتآدمی بے بساطلوگ کوتاہ قدشہر شہر حسدگاؤں ان سے بھی بدان اندھیروں نے جب پیس ڈالا مجھےپھر اچانک کنویں نے اچھالا مجھےاپنے سینے سے باہر نکالا مجھےسیکڑوں مصر تھے سامنےسیکڑوں اس کے بازار تھےایک بوڑھی زلیخا نہیںجانے کتنے خریدار تھےبڑھتا جاتا تھا یوسف کا موللوگ بکنے کو تیار تھے
چلا دھیمے دھیمے سے کچھوے کی چالپہنچتے پہنچتے اسے غار تک شام ہونے لگیاسے دیکھ کر شیر بھنا گیاچھٹنکی برابر یہ خوراک بھیجی ہے جنگل نےاور اس قدر دیر سےمٹا دوں گا خرگوش کی ذات کومیں جنگل کا جنگل ہی کھا جاؤں گاسنا اور خرگوش رونے لگاگڑگڑانے لگاحضور اس میں میری نہیں ہے خطانہ جنگل سبھا کا کوئی دوش ہےکہ جنگل نے تو سات خرگوش بھیجے مگرمگر کیامگر سرمگر کیا کیوں ہکلا رہے ہو بتاؤ مجھےمگر مگر مگر سرکہاں ہیں تمہارے چھ غدار ساتھیوہ خرگوش پھر سے سسکنے لگاہمیں راستے میں حضور ایکظالم نے روکا تھااور بہت گالیاں آپ کو دیںکہا میں دہراؤں کیسے وہ سب کچھ حضورکہا جاؤ کہہ دو مرے ساتھیوں کو وہی کھا گیایہ سننا تھا کہ شیر غرایا مونچھوں میں بل آ گئےاکڑنے لگی اس کی ہنٹری پونچھاور آنکھوں میں بس خون اترنے لگاکہاں ہے کدھر ہے بتا کون ہےمرے ہوتے کس کا ہوا حوصلہکہ میری رعایا پہ کوئی ظلم کر سکے
دوا کی شیشی میںسورجاداس کمرے میں چانداکھڑتی سانسوں میں رہ رہ کےایک نام کی گونج۔۔۔۔!تمہارے خط کو کئی بار پڑھ چکا ہوں میںکوئی فقیر کھڑا گڑگڑا رہا تھا ابھیبنا اٹھے اسے دھتکار کر بھگا بھی چکا
میں دیکھتا ہوںویران شاہراہوں پر رینگتی خاموشیسورج کے گھر لوٹتے ہیبے لباس ہو کر ناچنے لگتی ہےاور تلاش کرتی ہے کچھ مسکراتے چہرےاندھیرا چھانے لگتا ہےویرانی دالان میں بیٹھی بین کرتی اوراپنی محرومی کا اظہار کرتی ہےکرائے کے قبرستان میں دفن مردےرات بھر احتجاج کرتے ہیںاپنی نامکمل خواہشوں کو سڑکوں پر جلاتے ہیںجس کے دھوئیں سے آسمان کارنگ کالا پڑ جاتا ہےرات کی تاریکی منحوس آوازیں نکالتی ہےویران سڑک کے ایک طرف کھڑی بوڑھی طوائفاپنے گاہک کے رویے سے خوفزدہ ہےالو اور چمگادڑ بھی رات سے خفا ہو کراب دن میں سفر کرتے ہیںمردہ رات گہری ہو جاتی ہےجاڑے کی ٹھٹھراتی سردی میںفٹ پاتھ پر بیٹھی ایک ننھی کلیایک روٹی کے لیے خدا کے سگنیچر کی منتظر ہےمہنگی گاڑیوں کے سامنےگڑگڑاتی طوائف کا ایک آنسومیرے ذہن میںبے شمار سوالات چھوڑ گیا ہے
بہت عیار تھے وہ لوگوہ سارا دن خدا کو یاد کرتےمسجدوں میں جاتےروتے گڑگڑاتے اور تسبیحیں پڑھا کرتےزمانہ معتقد تھا اس قدر ان کاوہ جب باہر نکلتےلوگ ان کے راستے کی گرد کواپنے عماموں سے ہٹاتے تھےان کی خاطر خوان پر نعمت سجاتے تھے
ہے انداز نیم سحر نرالا آجہنس ہنس کے غنچوں کو گدگدایا آجآنگن میں در آئی نویلی کرنپہنے اجلا سنہری پیرہنبعد ثنا گیت چڑیوں نے گایاہو مبارک سال نیا آیانظر سے حوادث کی بچانا خداہر دن خوشی کا دکھانا خداہر نیا سال کہتے کہتے یہ آئےچمن سدا مسکرائے گل کھلائے
میں لکھ دوں وہاںوہ لفظجو میرے اندر مر رہے ہیںپر لکھ نہیں سکتادیواریں روکتی ہیں مجھےروکتی ہیںمیرے اندردیواروں کو گرنے سےایک جنرل کہتا ہےیا عوام کا نمائندہ کہتا ہےچپ رہوگڑگڑاتے ہوئے بولومیں لکھ دوںمیری ماں کو میری محبوبہ ہونا چاہیئے تھااور میرے باپ کومیری آنکھوں سے دور
مری سانس کا سلسلہیوں نہ ٹوٹے کہ اک تند جھونکے کے مانند اڑتی ہوئی عمر میریکسی بند اجڑے ہوئے شہر میں دفعتاً خود کو پائےبھیانک خموشی کا اک ڈولتا قہقہہاس کی رگ رگ میں اترے تو وہ بوکھلائےقطاروں میں لیٹی ہوئی مردہ گلیوں میں بھٹکےمکانوں میں اترے منڈیروں پہ آئےسیہ چھوٹی اینٹوں کی فرسودہ دیوار کو اپنی پوروں سے چھو کرکوئی در ڈھونڈے کوئی راہ مانگےاچانک کسی سرد کھمبے کی بے نور آنکھوں سے جھانکےبڑے کرب سے گڑگڑائےخدارا کوئی مجھ کو باہر نکلنے کا رستہ بتائےخدارا کوئی مجھ کو باہر نکلنے کا رستہ بتائے
مری تنہائیوں کو لوریوں سے گدگدایا ہےمرے اشکوں کو تو نے اپنی پلکوں پر اٹھایا ہےکہیں تب جا کے یہ معصوم بچپن مسکرایا ہے
در پہ آئے ہیں جی ووٹوں کے گداگر دیکھومانگتے ہیں بھیک کیسے گڑگڑا کر دیکھو
وہ رات گہریاس پر ٹوٹتے جسموں کا بوجھجھونپڑوں میں اونگھتے ننگے چراغوں کی بھڑککرب کا اعلان تازہیک بیکمسجدوں میں جل اٹھی نعروں کی بوسیدہ زباںتھرتھرا کر گر پڑے سجدوں میں لوگگولیوں کی تڑتڑاہٹخون مشعل ظلم موتخنجروں کے پاؤں سے روندی ہوئی دوشیزگیکچھ نہیں کچھ بھی نہیں ہےخوف سے لرزاں شرافت خودکشی کا نام ہےبندگی پوجا عبادت اس لئے بدنام ہےسب گنوا کر گاؤں والے گڑگڑاتے رہ گئےگاؤں کی سب بیٹیاں ڈاکو اٹھا کر لے گئےپاسباں خاموش ہیں اہل سیاست بھی خموشرشوتوں پر بکنے والی ہر عدالت بھی خموش
ہم اس مسیحا کی آمد کے آثار کے منتظر ہی رہےپھر سڑکوں پر چند طوائفیں نظر آئیںشاید وہ نظر آ گیا ہےہاں ہاں طوائفوں نے للچائی آواز میں کہاچلو ہمیں اپنی گاڑیوں میں لے چلودرخت آبنوسی خیالوں میں مدغم رہےجب اس نے گلے سے لٹکتے مائکرو فون پر کئی دن تک چیخ چیخ کر کہا میں مسیحا ہوںتو ادارۂ امداد باہمی والوں نے اسے کھانے پر بلایاکھا پی کر اس نے تقریر کیگڑگڑا کر کہا میں مسیحا ہوں مجھے صلیب پر لٹکا دولوگوں نے واپسی کا کرایہ دے کر اسے رخصت کر دیا
اگر کبھی اسے میری یاد آئےمیری طرح اپنیہر انادفن کر آئےمیری خاطر جہاں سے لڑ جائےڈھونڈے مجھےدیوانہ وار نظروں سےمحفل میں توکبھی تنہائی میںقریہ قریہ پھرےصحرا صحرا جائےپھرے جنگلوں میںدنیا کےمارا مارارکھے دل پہ ہاتھشام و سحربھرے سرد آہکبھی جو ڈھونڈنے مجھ کو سمندروں کے سفر پہ نکلےچاند کا عکس جب پانی میں دیکھےبے اختیار چونکےکبھی خود سے لپٹتی ہوا سے پتہ میرا وہ پوچھےنہ ملوں جب اس جہاں میں اسےمصلے پہ جا کے درد اپنا سنائےاور ہچکیاں باندھ کر گڑگڑائےپھر اسے اپنی ہر بے رخی یاد آئےتڑپ تڑپ کے وہ نام میرا دہرائےشایدکبھی ایسا ہو جائے
خیر کا درس ہم تکپہاڑوں میں بہتے ہوئے پانیوں میں سے ہوتا ہواایک خاموش لمحے میں ملتا رہانا خدا اپنی کشتی کا چپو پکڑتے ہوئےگڑگڑاتے ہوئے اس خدا سےزمان و مکاں کے سفر تککا اک راستہ چاہتا ہےایسے رستوں کی خیرجن پہ چلتے ہوئے سب کے سببے خطر ہیں اور ان کے قدم ڈگمگاتے نہیںان پرندوں کی خیرگھونسلوں میں جو تیز آندھیوں میں کبھی پھڑپھڑاتے نہیںان بزرگوں کی خیرجو مصیبت میں بھی ورد رب تعالیٰ سے غافل نہیںان مکانوں کی خیرجن میں روشن دیے آخری سانس لیتے ہوئےبجھ گئےخیر سیاروں کیجو خدا کے بتائے ہوئے راستوں پر سفر کرتے کرتے نہیں تھک رہےایسی بہنوں کی خیرجن کی عزت کو وحشی اڑا لے گئےایسی ماؤں کی خیراپنے بچوں کو جو خیر کا درس دیتی رہیںجانے والوں کی خیر آنے والوں کی خیرسب زمانوں کی خیرمسکراتے ہوئے ایسے لوگوں کی خیرجن کے دل غم کی دہشت سے لرزاں گئےان ستاروں کی خیرگمشدہ قافلوں کو جو رستے بتاتے ہوئےبجھ گئےچاک پر رکھے ایسے وجودوں کی خیراپنے خالق کی خواہش پہجیسے بنائے گئے بن گئےمیں کہاں تک ازالہ کروںایسی روحوں کی خیرجو خدا سے تعلق نبھاتے ہوئےاپنی پرواز سے تھک کے گرتی نہیں
تم کسی شجر کو بھییوں فضول مت کاٹواس کی اہمیت کیا ہے کاش جان جاؤ تواس کو تم اگاؤ گےسینچ کر لہو سے بھیکیونکہ اس کے دم سے ہی اس جہاں میں رونق ہےیہ خدائے برتر کی اک حسین نعمت ہےاور ان کے دم سے ہیسانس لینے والوں کی زندگی سلامت ہےیہ اگر نہیں ہوتے کوئی بھی نہیں جیتااس لئے سبھی مل کر بارگاہ یزداں میںکیوں نہ گڑگڑائیں ہمپھول پھل اناجوں سےلہلہاتے کھیتوں کو اور ان درختوں کواے خدا سلامت رکھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books