aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "julaab"
وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپشوجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھیبچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میںوہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھیسبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئےسپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
وہ جہان شوق کی بستیاںوہ شراب عشق کی مستیاںوہ حریم ناز کی رفعتیںوہ سر نیاز کی پستیاںوہ سکوت منظر جوئے آبوہ خموش جلوۂ ماہتابوہ نیاز و ناز کی محفلیںوہ سکوں نوازیٔ اضطرابوہ جوانیوں میں شرارتیںوہ طبیعتوں میں حرارتیںوہ نفس میں زیست کی گرمیاںوہ نوائے دل میں بشارتیںوہ خموشیوں میں حکایتیںوہ دبی زباں سے شکایتیںوہ حجاب جلوۂ آرزووہ حدیث دل کی نزاکتیںوہ خطوط اور وہ گزارشیںوہ مزے مزے کی نگارشیںوہ غرور حسن کی نرمیاںوہ نگاہ لطف کی بارشیںکف نازنیں میں وہ جام مےوہ سرور ساغر پے بہ پےوہ نگاہ مست کی گردشیںوہ نظر فروش ہر ایک شےمری آنکھ اشک فشاں نہ تھیمرے لب پہ آہ و فغاں نہ تھیمرے ولولوں میں شباب تھامجھے کوئی فکر جہاں نہ تھیکبھی لطف اور کبھی ستمکبھی عشرت اور کبھی المکبھی بزم عیش میں قہقہےکبھی جوش گریہ سے چشم نمکبھی مجھ سے تم کو بھی چاہ تھیکبھی مجھ پہ بھی تو نگاہ تھیمرا حال یوں نہ اداس تھامری زیست یوں نہ تباہ تھیوہ زمانہ مجھ کو تو یاد ہےتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہےبلائے جان آدمی نشان بزدلی ہے یہزوال آدمی ہے یہ وبال آدمی ہے یہاگر کہوں درست ہے کہ مرگ آدمی ہے یہیہ گندگی کا ڈھیر ہے غلاف میں ڈھکا چھپایہ خوفناک زہر ہے مٹھاس میں ملا جلاوبائے ہولناک ہے بلائے ہولناک ہےیہ چلتی پھرتی آگ ہے دیار و ملک و شہر میںنفاق سے خدا بچائے روگ یہ خبیث ہےلباس جسم آدمی میں کوڑھ ہے چھپا ہوامنافقوں کی خصلتیں عجیب ہیں غریب ہیںزباں پہ کچھ ہے دل میں کچھ کہیں گے کچھ کریں گے کچھزباں پہ دوستی کا راگ آستین میں چھریدلوں میں بغض ہے بھرا مگر لبوں پہ ہے ہنسیزبان پر خدا کی رٹ دلوں میں فکر شیطنتیہ اپنے آپ ہیں خدا غرض کو پوجتے ہیں یہیہ نفس کے غلام ہیں مفاد کے غلام ہیںیہ اپنے آپ مقتدی یہ اپنے خود امام ہیں
میں نان سوختہ کا ذائقہاتارتا ہوںروز و شبزبان پرکہ اس کی ہمدمی میںدوستی میںعمر کے نشیب میںاگر میں ڈھل سکوںتو فصل آفتاب کاوہ برگ زرد بن سکوںجو دائرے کی انتہا پہ صرفموسموں کے خواب دیکھتا ہوںصبح و شام سوچتا ہوںآرزوفریب کار شاہدہکہاں ملی تھی اور کون سے حسین موڑ تکچلے گی میرے ساتھ میرے ساتھجوئے آب جوئے مےردائے خاکدور کے سفر کے لوگبد گماں ساعتوں کے شہرمیں چلوں گامیں دشت و کہسار کیاداس ہجرتوں کوننھی منی لوریاں سناؤں گامیں جنگلوں کیسنسناہتوں کے پار جاؤں گا
دیکھنے میں گلاب تھا وہ شخصروکش آفتاب تھا وہ شخصخود نگر خود نما خدا جیساطنطنہ تھا عتاب تھا وہ شخصدل میں کچھ تھا زبان پر کچھ تھاپھر بھی کیا کامیاب تھا وہ شخصبے طلب تھی کبھی عطا اس کیبے سبب کا عتاب تھا وہ شخصگاہ سنجیدہ گاہ خندیدہایک معمہ جناب تھا وہ شخصآپ اپنی مثال تھا گویاآپ اپنا جواب تھا وہ شخصچال مستانہ آنکھ مے خانہمیکدے کا شباب تھا وہ شخصفتنہ گر تھا مگر بہ فیض زباںنعرۂ انقلاب تھا وہ شخصروغن قاز تھا بہت ارزاںبخشش بے حساب تھا وہ شخصمشتعل جیسے آتش سوزاںاور کبھی جوئے آب تھا وہ شخصاس میں سیماب جیسے پنہاں تھامستقل اضطراب تھا وہ شخصپھر ہوا یوں کہ جزر و مد کے سببنذر طوفان آب تھا وہ شخصبجلیوں کا شباب تھا وہ شخصروکش آفتاب تھا وہ شخصاس کو دیکھو تو دیکھتے رہ جاؤخوبرو بے حساب تھا وہ شخصدیدنی تھی شگفتگی اس کیاک مہکتا گلاب تھا وہ شخصنغمۂ جاں تھی ہر صدا اس کیجیسے تار رباب تھا وہ شخصمنبع نور تھے لب و رخسارچاند سورج کا باب تھا وہ شخصآئنہ تھا وہ ذات کا اپنیآپ اپنا جواب تھا وہ شخصمیرے پیمانۂ محبت میںزندگی کی شراب تھا وہ شخصنیچی نظریں جھکی ہوئی پلکیںاک سراپا حجاب تھا وہ شخصلفظ ملتے نہیں سراپا کوکس قدر لا جواب تھا وہ شخصاک زمانے کے بعد کل دیکھاپھر بھی کھلتا گلاب تھا وہ شخص
دن کو اس کا لہو تھا ارزاںپھر آئی یہ شام غریباںطوق گلے میں، پاؤں بہ جولاںصبر ہے گریاں، ظلم ہے خنداںشام ہوئیکرب و بلا، سناٹا ہر سوہر سو اس کے لہو کی خوشبومیرے لفظ اور اس کے جادوشام ہوئی
اے کہ دل تیرا ہے فکر بادۂ گلفام میںزہر بھی ہوتا ہے اکثر خوب صورت جام میںاے کہ سینہ میں ترے ارمان گل ہے بے قراردیکھنا بیداد نوک خار سے بھی ہوشیاراس سکوت عارضی پر خوش نہ ہو جانا کہیںتو نے مد و جزر موجوں کا ابھی دیکھا نہیںکر نہ دے خیرہ تری نظروں کو تزئین غلافہاں اسی پردہ میں ہے اک تیغۂ خارا شگافباعث دل بستگی الفاظ کا جادو نہ ہودیکھ لفظوں میں نہاں دم کا کوئی پہلو نہ ہوہے تری تشنہ لبی کو آرزوئے جوئے آبجستجو تیری نہ ہو وارفتۂ دشت سرابہے نظر افروز اگرچہ جلوۂ برق تپاںخرمن دہقاں سے لیکن پوچھ اس کی داستاںآگ سے بچ کام میں لا قوت تمئیز کوکہہ نہیں سکتے ہیں سونا ہر چمکتی چیز کوشعلۂ بے باک بھی ہے مطلع انوار بھیشمع کی فطرت میں غافل نور بھی ہے نار بھیخوبیٔ آغاز ہی پر دل نہ ہو جائے نہاںتلخی انجام کا بھی دل میں کر لیتا خیالپی نہ جانا بادۂ عشرت کا جام خوش گوارہے بہت تکلیف دہ اعضا شکن اس کا خمارظاہری حالت پہ ہرگز کر نہ باطن کا قیاسخوبیٔ تن پر دلالت کر نہیں سکتا لباسہے دل سادہ ترا وارفتۂ حسن حجابزشت روئی کا کہیں پردہ نہ ہو رنگیں نقابہو نہ جائے معتقد دل ظاہری تنویر کادیکھ لینا دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا
تمام عمر کے سود و زیاں کا بار لیے؟ہر انقلاب زمانہ سے منہ چھپائے ہوئےحیات و مرگ کی سرحد پہ نیم خوابیدہمیں منتظر تھامسرت کی کوئی دھندلی کرنزماں مکاں سے پرے اجنبی جزیروں سےدم سحر مجھے خوابوں میں ڈھونڈتی آئےفشار وقت کی سرحد سے دور لے جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books