aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "komal"
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
کچھ لوگجو میرے دل کو اچھے لگتے تھےعمروں کے ریلے میں آئےاور جا بھی چکےکچھ دھندوں میں مصروف ہوئےکچھ چوہا دوڑ میں جیتے گئےکچھ ہار گئےکچھ قتل ہوئےکچھ بڑھتی بھیڑ میںاپنے آپ سے دور ہوئےکچھ ٹوٹ گئے کچھ ڈوب گئے
جو کومل سندر لڑکی ہوتو دل اپنا سوغات کرو
تن کومل من سندر ہیں بچے بڑوں سے بہتر ہیںان میں چھوت اور چھات نہیں جھوٹی ذات اور پات نہیںبھاشا کی تکرار نہیں مذہب کی دیوار نہیں
کیا سلگتی رات ہے میرے ندیمآتشیں شورش زدہ تیرے خیالتو کہ کوسوں دور مجھ سے پر یقینتو یہیں پاس میرے ہے کہیںرنگ ہے کہ نور کی برسات ہےچاندنی اور پیار کی کومل صداتیرے سانسوں کی مہک پھیلی ہوئیکتنی گڈمڈ ہو گئی ہیں دھڑکنیںلاکھ میں نے باندھ کے رکھا بدنتیری نظروں سے جو پگھلا موم تھاروح کو لذت تمہارے قرب میںاور آنکھوں میں تیرا منظر رہارات کتنے کرب میں ڈھلتی رہیموم پگھلاتا رہا تیرا خیالمیں کہ میرے جسم کا ہر ساز توتو کہ تیری بے نیازیکیا کہوں!!
برکھا آئی بادل آئےاوڑھے کالے کمبل آئےٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیںکالی کالی چھائیں گھٹائیںگرمی نے ڈیرا اٹھوایادھوپ پہ سایہ غالب آیابادل سے امرت جل برساامرت جل کیسا کومل برساہو گئی زندہ مردہ کھیتیڈھل گئے ذرے چمکی کھیتیدریا اور سمندر ابھرےتازہ موجیں لے کر ابھرےباغوں میں سبزہ لہرایاپھولوں کلیوں میں رس آیاپھر شاخوں نے خلعت پہنیپھر پائے ہریالے گہنےپھول کھلے کلیاں لہرائیںکونپلیں پھر شاخوں میں آئیںموتی بادل نے برسائےپتوں نے دامن پھیلائےتالابوں میں مینڈک بولےسیپوں نے منہ اپنے کھولےبادل گرجا بجلی چمکیآئی صدا رم جھم رم جھم کی
کانوں میں بیلے کے جھمکے آنکھیں مے کے کٹورےگورے رخ پر تل ہیں یا ہیں پھاگن کے دو بھونرےکومل کومل اس کی کلائی جیسے کمل کے ڈنٹھلنور سحر مستی میں اٹھائے جس کا بھیگا آنچلفطرت کے مے خانے کی وہ چلتی پھرتی بوتلآئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی
ہم اک چائے کی میز پہ آ کرعشق کا قصہ لے بیٹھے تھےہر خاتون بڑی کومل تھیمرد نہایت دل والے تھے
وہ انسان کہاں ہےآج وہ اپنی دھرتی اپنے جیون کی بربادی کیتیاری میںویست ہے مصروف ہے گم ہےبچوں کے کومل بدن کے ٹکڑےہتھیاروں کے ودھان کی جھاڑیوں جنگلوں میںلا وارث لاشیںجن کومردار خور پیٹ بھرے جانورکھائے بنا ہی گزر جائیںپھر کھائیں کیونکر
پھول سا نازک بیل سا کوملننھا منا گڈو اپنادنیا کے چہرے کی رونقفطرت کی آنکھوں کا سپناصورت اس کی بھولی بھالیگال ہیں اس کے گورے گورےجسم ہے یا پھولوں کی ڈالیبال ہیں یا ریشم کی ڈورےاس کی دنیا پیار کی دنیااس کی باتیں پیار کی باتیںبچپن کے ہیں سمے سہانےہنستے دن اور ہنستی راتیںکاش اس کی شفاف جبیں پررنج و الم کی گرد نہ چھائےکاش یہ دنیا ظالم دنیااس پر کوئی ظلم نہ ڈھائےمیرے بس کی بات اگر ہومیں نہ جواں ہونے دوں اس کویوں ہی خوشیوں کے جھولے میںہنستا گاتا دیکھوں اس کو
اس سے جب کہتا ہوں میںمیرا ایکننھا منا دوست ہےپوچھتا ہے کون ہےسامنے کی دانت اس کےآٹھسب شفاف موتیمشعلیںاس کی شریر پر آنکھوں میں روشنلب پہ اس کےنت نئے تازہ حسیں الفاظشاعر اولیں شاعرطلسماتی زباں کا اولیں شاعروہ شیروں ہاتھیوں گینڈوںسنہری بطخوں کی بندروں کی حمد گاتا ہےکھلونا گاڑیوں میںشہر کی مصروف سڑکوں پرمجھے اور ماں کو امی اور ابا کو گھماتا ہےمری باتوں پہ میرا ننھا منا دوست ہنستا چہچہاتا ہےمیں ننھا دوست ہوںمیں ہی وہ ننھا دوست ہوںمیں دوست ہوںمیں دوست ہوں
لوگ کہتے ہیںآواز کاایک چہرہ بھی ہوتا ہےانداز بھی جسم بھیسرخ سورج کا سونادرختوں کے اس پارمہتاب کی سیم گوں موج عریاںسمندر کی آویزشوں کاپر اسرار نغمہمحبت کی لذت کی گرمیکبھی شبنمی ننھی منی سی لوریکہانیسیہ کار شب میںکوئی خون آلودہ باب عدالتمکافات کا سلسلہدل کی ویرانیوں سے گزرتا ہواکوئی حرف ملامتندامت
تیرگی میں بھیانک صدائیں اٹھیںاور دھواں سا فضاؤں میں لہرا گیاموت کی سی سپیدی افق تا افقتلملانے لگیاور پھر ایک دمسسکیاں چار سو تھرتھرا کر اٹھیںایک ماں سینہ کوبی سے تھک کر گریاک بہن اپنی آنکھوں میں آنسو لیےراہ تکتی رہیایک ننھا کھلونے کی امید میںسر کو دہلیز پر رکھ کے سوتا رہاایک معصوم صورت دریچے سے سر کو لگائے ہوئےخواب بنتی رہیمنتظر تھیں نگاہیں بڑی دیر سےمنتظر ہی رہیںموت کی سی سپیدی افق تا افقتلملاتی رہی
چپکے سے کانوں میں کہہ جاخوشیوں کا سندیس سنا جاپریم تو اپنی ڈگر بتا جاکیا تو جوگن بن بیٹھیدور کہیں مایا سے چھپ کرتو بن گئی انوکھیدیکھ ری تیرے سوگ میں کیسا حال کیا ہم نے اپنادکھ کے کنکر پتھر چنتے کومل ہاتھ ہیں پتھرائےجیون کے رستے پر بکھرے کانٹے سو سو ڈنک اٹھائےنفرت کی آندھی سے دھندلے پڑ گئے چندا تارےگھر آئی ہے چاروں اوردیکھ گھٹا گھنگھورآنکھوں سے اوجھل ہے امبرپاپ کا جھونکا چلے بھینکرہلچل مچ گئی باہر اندرچاروں اور بگولے اڑتے ادھر ادھر بولائےجیسے ان کو کھوج کسی کیسر ٹکراتے سر کو اٹھائے سر کو جھکائےسر کے بل کچھ پھرتے ہیںسب کو کھوج ہے تیریپریم کہاں تو چھپ کر بیٹھیہم سے کیوں ہے روٹھیآ دیکھ کہ تیرے نہ ہونے سےکیا کیا دکھ ہم نے جھیلےپریم پجاری جتنے تھے سب بن گئے اتیاچاریخود ہی اتیاچار کرے ہےبن بیٹھے بے چارےاپنے اتیاچار کو بھوگےکیسے کھیل نرالےلیکن ان کے من میں کیسی جوالا جاگ اٹھی ہےاب تو تیری ہی ان کو بس انتم آس لگی ہےاے جوگنکیا تو بھی ڈھونڈھے کوئی پریم پجاریاس کی کھوج میں بن گئی ہے تو بالکل ہی بن باسیمن میں جھانک کے دیکھ لے سب کےتیری چاہ بسی ہےدوری تیری بھڑکائے ہے اب تو من میں ڈاہاور ہمارے ہونٹوں کا ہر شبد بنا ہے آہ
کیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانکل یہ مہکتے پھول بنیں گے آج ہیں ننھی کلیاںسایہ ان پر کئے ہوئے ہیں آشاؤں کی پریاںزہریلے کانٹوں سے نہ الجھیں یہ ننھی سی جانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانننھی منی کومل کلیاں کہیں نہ مرجھا جائیںخوشبو مہکے کیاری کیاری مہکیں اور مہکائیںگلشن کے سب رکھوالوں پر فرض ہے ان کا دھیانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانجیون میں اجیالا ان سے یہ دھرتی کے تارےگورے ہیں یا کالے ہیں یہ بچے پیارے پیارےماؤں کی ممتا سے پوچھو سب ہیں ایک سمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانبستی بستی نگر نگر یہ امرت جل برساؤجیون جوت جلاؤ ہر سو علم کا دیپ جلاؤجب ہوں بڑے یہ آج کے بچے نکلیں سب ودوانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانصحت کی سندرتا پائیں سب کو رنگ و روپ ملےتازہ ہوا بھرپور غذا ہو ان کو سنہری دھوپ ملےپھولے پھلے پروان چڑھے یہ بھارت کی سنتانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شانامن کی ٹھنڈی چھاؤں میں کھیلیں ان کو سب کا پیار ملےدکھ نہ انہیں پہنچائے کوئی ان کو سکھی سنسار ملےدیس کی ساری مائیں دل میں رکھتی ہیں ارمانکیسی سہانی کیسی رسیلی بچوں کی مسکانہنستے اور مسکاتے بچے بھارت دیس کی شان
دسمبر چیختا ہے جب رگوں میںلطف سے عاری پریشاں محفلوں میںمجھ کو وہ بدنام دشمن یاد آتا ہےجو میرے خون کا پیاسا گلی سے جب گزرتا تھامرے اعصاب میں اک سنسنی سی دوڑ جاتی تھیمیں اس لمحے کی برہم آگ میں جلتا ہوامحسوس کرتا تھامیں زندہ ہوں مسلسل ہوںمیں زندہ ہوں مسلسل ہوںوہ دشمن مر گیایا دوستوں آ آ ملامیں سوچتا ہوں پوچھتا ہوںکون بتلائے گامیرے فکر اور احساس کی بے سمت روبہتی ہے روز و شبدسمبر چیختا ہے ابکہاں منزل کہاں منزل
صبا کے ہاتھ پیلے ہو گئےمیں ساعت سرشار میںلاکھوں دعائیںخوبصورت آرزوئیںپیش کرتا ہوں
برکھا آئی بادل آئےاوڑھے کالے کمبل آئےٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیںکالی کالی چھائیں گھٹائیںگرمی نے ڈیرا اٹھوایادھوپ پہ سایہ غالب آیاپھیلا دن کے ساتھ دھندلکابھورا بھورا ہلکا ہلکابدلی آئی شور مچاتیبھیگے بھیگے نغمے گاتیبادل سے امرت جل برساامرت جل کیا کومل برساہو گئی زندہ مردہ کھیتیدھل گئے ذرے چمکی ریتیدریا اور سمندر ابھرےتازہ موجیں لے کر ابھرےتازگیاں ہیں جنگل جنگلہر جنگل میں ہے اب منگلیہ رت یا برسات کا موسمہے گویا جذبات کا موسم
کبھی دل سوچتا ہے ان طوائف زادیوں کی زندگی لکھوںکہ جن کے روز و شب کوٹھے کی چھوٹی کوٹھری میں ملگجی سی روشنی میں زندگی کی تلخیاں چن کر گزرتی ہیںکہ جن کے پھول سے کومل بدن نے تھوک سے لتھڑے بدن کا فاصلہ سا طے کیا ہو چند لمحوں میںکہ جن کے تن سے لاکھوں وحشیوں نے رات و دن کے ہر پہر میں جانفشانی سے ہوس کی فصل کاٹی ہو
بھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھدیکھ رہے ہیں پھول اور پودےباغ کے یہ معصوم تماشےچنچل لڑکی یہ کیا جانےکھلے ہیں قدرت کے آئینےبھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھڈالے نین میں کاجل لڑکیاپنی دھن میں بے کل لڑکیپھیلائے ہے آنچل لڑکیدوڑ رہی ہے چنچل لڑکیبھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھجگنو اس کو دوڑاتا ہےپاس آ کر بھی مڑ جاتا ہےشاخ میں اس کو الجھاتا ہےبھائی بن کر اتراتا ہےبھاگ رہی ہے چنچل لڑکی اک جگنو کے ساتھڈالی ڈالی پھیلاتی ہے اپنے کومل ہاتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books