aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maddaah"
ہماری چاہتوں کی بزدلی تھیورنہ کیا ہوتااگر یہ شوق کے مضموںوفا کے عہد نامےاور دلوں کے مرثیےاک دوسرے کے نام کر دیتےزیادہ سے زیادہچاہتیں بد نام ہو جاتیںہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیںتو کیا ہوتایہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیںیہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی، تنہائیاں سوچیںیہ تحریریںہماری آرزو مندی کی تحریریںبہم پیوستگی اور خواب پیوندی کی تحریریںفراق و وصل و محرومی و خورسندی کی تحریریںہم ان پر منفعل کیوں ہوںیہ تحریریںاگر اک دوسرے کے نام ہو جائیںتو کیا اس سے ہمارے فن کے رسیاشعر کے مداحہم پر تہمتیں دھرتےہماری ہمدمی پر طنز کرتےاور یہ باتیںاور یہ افواہیںکسی پیلی نگارش میںہمیشہ کے لئے مرقوم ہو جاتیںہماری ہستیاں مذموم ہو جاتیںنہیں ایسا نہ ہوتااور اگر بالفرض ہوتا بھیتو پھر ہم کیاسبک ساران شہر حرف کی چالوں سے ڈرتے ہیںسگان کوچۂ شہرت کے غوغاکالے بازاروں کے دلالوں سے ڈرتے ہیںہمارے حرف جذبوں کی طرحسچے ہیں، پاکیزہ ہیں، زندہ ہیںبلا سے ہم اگر مصلوب ہو جاتےیہ سودا کیا برا تھاگر ہماری قبر کے کتبےتمہارے اور ہمارے نام سے منسوب ہو جاتے!
نظموں کی کتاب میںلوگوں کو اس کی آخری خواہش ملیاس نے لکھا تھامیری آنکھیں اس گلو کار کو دے دیناجو اپنے مداح اور رنگ دیکھنا چاہتا ہواور میرا دل اس مجسمہ ساز کے لیے ہےجو اپنا دل کسی مجسمے میں رکھ کے بھول گیا ہو
اٹھو اٹھو اٹھو اٹھوکمر کسو کمر کسوسحر سے پہلے چل پڑوکڑی ہے راہ دوستوتھکن کا نام بھی نہ لوبڑھے چلو بڑھے چلوجھجک نہ دل میں لاؤ تمبس اب قدم اٹھاؤ تمذرا نہ ڈگمگاؤ تمخدا سے لو لگاؤ تمملول و مضطرب نہ ہوبڑھے چلو بڑھے چلواٹھا دیا قدم اگرتو ختم ہے بس اب سفرہے راہ صاف و بے خطرنہ کوئی خوف ہے نہ ڈرچلے چلو بڑھے چلوبڑھے چلو بڑھے چلوتمہارے ہم سفر جو تھےوہ منزلوں پہ جا لگےسب آگے تم سے بڑھ گئےمگر ہو تم پڑے ہوئےذرا سمجھ سے کام لوبڑھے چلو بڑھے چلودلوں میں جو ہو ولولہتو ڈال دو گے زلزلہرہے بلند حوصلہوہ سامنے ہے مرحلہوہیں پہنچ کے سانس لوبڑھے چلو بڑھے چلو
ڈری اور سہمی مگر پھر بھی جاری یہ آواز دل چیرتی ہےہمارے وطن میں بھی ہوگاہمارے وطن میں بھی ہوگامیں درباریوں میں تو کیا نوکروں کے جلو میں بہت دور بیٹھالباس شاہی کا مدح خواں تو اب بھی نہیںاشاروں کنایوںعلامات سے یا خرافات سےکچھ نہ کچھ نظم میں کچھ نہ کچھ نثر میں بڑبڑاتا رہا ہوںمگر واں بھی یاں کا یہ افسانہ سب کو سناتا رہا ہوںوہ غالبؔ نہ ہو اور جالبؔ رہے پھر بھی ایسا ہی بچہہمارے وطن میں بھی ہےاور رہے گا
اے نکتہ سنج شاعر یہ تو ہے کام تیراایسا ترانہ دیکھا بے شک کلام تیراکچھ ایسی تان چھیڑی محظوظ ہو گئے سبممنون ہو رہا ہے ہر خاص و عام تیرازلف سخن کی تیری اللہ ری رسائیہر سو بچھا ہوا ہے دنیا میں دام تیراتیرا کلام کیا ہے تسخیر کا عمل ہےہندو ہو یا مسلماں ہر اک ہے رام تیراسرشار ہے زمانہ اس بادۂ سخن سےدنیا کی محفلوں میں چلتا ہے جام تیراآوازہ تیرا پہنچا یونان میں عجم میںواصف ہے روم تیرا مداح شام تیراتو ایشیا میں بیٹھا کرتا ہے نکتہ سنجیپہنچا ہے جا کے یورپ لیکن کلام تیراچھوٹا نہیں ابھی تک پابندیٔ وطن سےغربت میں کیسے پہنچا باسطؔ یہ نام تیراتیرے شکستہ پر میں پرواز بھی نہیں ہےایسی رسا تو تیری آواز بھی نہیں ہے
زندگی تجھ سے مَیں پیار کرتا رہاایک محبوبۂ دو جہاں کی طرحمہ رخاں کی طرحجان جاں کی طرحدیکھ اے زندگییاں بہت ہم نظر یاں بہت ہم سفرتیرے مداح ہیںچاہے دار و رسن ہو کہ دل داریاںتیرے نقش قدم مٹ نہ پائیں کبھی
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میںضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہواسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںمدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہوبہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںبدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہوکسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میںکسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوحقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہوہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
متاع دل متاع جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤبہت کچھ بہہ گیا ہے سیل ماہ و سال میں اب تک
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیمرے خود سے گزرنے کے زمانے سے سوا ہوگیمرے قامت سے اب قامت تمہارا کچھ فزوں ہوگامرا فردا مرے دیروز سے بھی خوش نموں ہوگاحساب ماہ و سال اب تک کبھی رکھا نہیں میں نےکسی بھی فصل کا اب تک مزہ چکھا نہیں میں نےمیں اپنے آپ میں کب رہ سکا کب رہ سکا آخرکبھی اک پل کو بھی اپنے لیے سوچا نہیں میں نےحساب ماہ و سال و روز و شب وہ سوختہ بودشمسلسل جاں کنی کے حال میں رکھتا بھی تو کیسےجسے یہ بھی نہ ہو معلوم وہ ہے بھی تو کیوں کر ہےکوئی حالت دل پامال میں رکھتا بھی تو کیسےکوئی نسبت بھی اب تو ذات سے باہر نہیں میریکوئی بستر نہیں میرا کوئی چادر نہیں میری
اے عشق خدارا دیکھ کہیں وہ شوخ حزیں بد نام نہ ہووہ ماہ لقا بد نام نہ ہو وہ زہرہ جبیں بد نام نہ ہوناموس کا اس کے پاس رہے وہ پردہ نشیں بد نام نہ ہو
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھاسر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھاماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھاشہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پرندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے
ابلیسیہ عناصر کا پرانا کھیل یہ دنیائے دوںساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوںاس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارسازجس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوںمیں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خوابمیں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوںمیں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کامیں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوںکون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سردجس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروںجس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلندکون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوںپہلا مشیراس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظامپختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوامہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجودان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیامآرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیںہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خامیہ ہماری سعئ پیہم کی کرامت ہے کہ آجصوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمامطبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھیورنہ قوالی سے کچھ کم تر نہیں علم کلامہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیاکند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیامکس کی نو میدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدیدہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرامدوسرا مشیرخیر ہے سلطانیٔ جمہور کا غوغا کہ شرتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبرپہلا مشیرہوں مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھےجو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطرہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباسجب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگرکاروبار شہر یاری کی حقیقت اور ہےیہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصرمجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہوہے وہ سلطاں غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظرتو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظامچہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک ترتیسرا مشیرروح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطرابہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جوابوہ کلیم بے تجلی وہ مسیح بے صلیبنیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتابکیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوزمشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساباس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فسادتوڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طنابچوتھا مشیرتوڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھآل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خوابکون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہواگاہ بالد چوں صنوبر گاہ نالد چوں ربابتیسرا مشیرمیں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیںجس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجابپانچواں مشیر ابلیس کو مخاطب کر کےاے ترے سوز نفس سے کار عالم استوارتو نے جب چاہا کیا ہر پردگی کو آشکارآب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و سازابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کارتجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیںسادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگارکام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طوافتیری غیرت سے ابد تک سر نگوں و شرمسارگرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تماماب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتباروہ یہودی فتنہ گر وہ روح مزدک کا بروزہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تارزاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغکتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگارچھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پرجس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبارفتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آجکانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبارمیرے آقا وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہےجس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹییشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
آج پھر درد و غم کے دھاگے میںہم پرو کر ترے خیال کے پھولترک الفت کے دشت سے چن کرآشنائی کے ماہ و سال کے پھولتیری دہلیز پر سجا آئےپھر تری یاد پر چڑھا آئےباندھ کر آرزو کے پلے میںہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
وہ میرے آسماں پر اختر صبح قیامت ہےثریا بخت ہے زہرہ جبیں ہے ماہ طلعت ہےمرا ایماں ہے میری زندگی ہے میری جنت ہےمیری آنکھوں کو خیرہ کر گئیں تابانیاں اس کی
ماہ و سال کے غارت گر سے میری ٹھنی ہےمیری جان پر آن بنی ہے
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books