aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raqs-e-bismil"
ظالموں کی محفل میںاب بھی رقص بسمل ہےتیری حکمرانی میںظلم اب بھی جاری ہےعصمتیں کیوں لٹتی ہیںان سیاہ راتوں میںتو ہے قادر مطلقظلم کرنے والوں سےاحتساب کب ہوگاہر لہو کے قطرے کایاں حساب کب ہوگاانقلاب کب ہوگاظلم سہنے والوں کوحکم دے بغاوت کاظلم کرنے والوں کیگردنیں اڑا ڈالیںہاتھ جو اٹھیں ان پران کو کاٹ کر رکھ دیںپند اور نصائح سےظلم رک نہیں سکتاصرف ایک رستا ہےظلم کرنے والوں کےہاتھ ہی قلم کر دو
زانو حسن پہ اب نیند کسے ہوگی نصیبکس کو راس آئے گی دامن کی ہوا تیرے بعد
کسے مرگ بسملؔ کا احساس ہوگاوہ بیکس بھی تھا اور خوددار بھی تھاگوارا نہ تھی اس کو ضبط محبتنمود محبت سے انکار بھی تھااسے کچھ شکایت تھی اک نازنیں سےوہ اسلوب دنیا سے بیزار بھی تھانوید جنوں جس کی طرز جفا تھیاسی پیکر ناز سے پیار بھی تھامئے لالہ گوں پر تھی جان اس کی صدقہوہ دل دادۂ چشم بیمار بھی تھاجوانی کا اور روپ کا وہ پجاریعروس حیا کا پرستار بھی تھاوہ آغوش دولت میں پیدا ہوا تھامگر نام دولت سے بیزار بھی تھاتھی محبوب اسے عشق کی خود ستائیوہ خاطر ذرا ناز بردار بھی تھایہ ہستی تھی اس کے لیے بار خاطروہ شاعر تھا دانائے اسرار بھی تھا
ادب سے جھک کے عقیدت بھری نگاہوں سےفلک نے تم کو سر شاخسار دیکھا ہےمہ تمام نے عکس رخ تجلی میںقدم قدم پہ تمہیں جلوہ بار دیکھا ہےخود اپنے سایہ سے ڈر کر بدن چرائے ہوئےتمہیں ستاروں نے دیوانہ وار دیکھا ہےشفق نے تم کو اکیلے میں کسمسائے ہوئےہزار بار نہیں لاکھ بار دیکھا ہےخود اپنے حسن کی تنویر میں نہائے ہوئےسحر نے تم کو سراپا بہار دیکھا ہےتمہیں چمن میں ٹہلتے ہوئے اداؤں سےگلوں نے دیکھا ہے اور بار بار دیکھا ہےنسیم صبح کی اٹھکھیلیوں نے روز و شبشرارتوں سے تمہیں ہمکنار دیکھا ہےمگر قریب سے اس روز تم کو بسملؔ نےبس ایک بار فقط ایک بار دیکھا ہےسمجھ لو پھر مجھے تم التفات کے قابلبنا دو میری خوشی کو حیات کے قابلتمہارے رس بھرے ہونٹوں کی مسکراہٹ کوشب دراز کی تنہائی یاد کرتی ہےحیا کے سایہ میں گفتار کی حلاوت کوجواں امنگوں کی رعنائی یاد کرتی ہےنگاہ ناز سے آئی تھی جس میں رنگینیتمہیں وہ انجمن آرائی یاد کرتی ہےنظر کی گود میں پھر ایک بار آ جاؤدل گرفتہ کی انگڑائی یاد کرتی ہےتمہیں سنورتے ہوئے آئنے میں ہنستے ہوئےمرے خیال کی گہرائی یاد کرتی ہےمیں جانتا ہوں جوانی کی لغزشیں کیا ہیںشب وصال کی دل کش گزارشیں کیا ہیں
تو نے دستور محبت کا اڑایا ہے مذاقکیا یہ وحشت تری روداد کی غماز نہیںدل منور ہے مگر سوز دروں سے محرومفکر زندہ ہے مگر مائل پرواز نہیںحسن غلطیدۂ دریائے تحیر کیوں ہےسینۂ عشق میں پوشیدہ کوئی راز نہیںیوں تو وہ جلوہ گہہ ناز سے باہر آ جائیںجذبۂ درد میں ڈوبی ہوئی آواز نہیںخود فریبی میں گرفتار نہیں ہے بسملؔکیا یہ تخلیق برائے نگہ ناز نہیں
تو وہ شہکار زمانہ ہے جسے دنیا نےاپنی تسکین کا سامان بنا رکھا ہےخواب گاہوں میں تجھے اپنی سجا رکھا ہےشوق و جذبات و خیالات کی ملکہ بن کرتو نے لوگوں کے مقدر کو سنوارا لیکنپھر بھی تاریک ہمیشہ رہی تیری دنیاتو نے ہر دور میں شاہوں پہ حکومت کی ہےزندگی کے سبھی گوشے ہیں منور تجھ سےحاکم وقت ترے پاؤں کی ٹھوکر میں رہےپھر بھی روٹھا نظر آتا ہے مقدر تجھ سےتجھ سے روشن ہیں دیے اب بھی کمیں گاہوں کےتجھ سے آباد ہیں یہ بزم سخن کی راتیںتجھ سے قائم ہیں صنم خانے بھی میخانے بھیتو سرشام گلی کوچوں کی رونق بن کراب بھی آباد کیا کرتی ہے مے خانوں کورند کو پیر مغاں ساقی و پیمانوں کودل کے دیوانوں کو پروانہ بنا رکھا ہےجب ترے شہر نگاراں سے گزرتا ہوں کبھیمیری تخئیل کی مضراب کی پائل کی کھنکتیرے سر تال میں ڈوبے ہوئے نغموں کی کسکمیرے سوئے ہوئے احساس جگا دیتی ہےتیرے حالات کا دیوانہ بنا دیتی ہےسوچتا ہوں یہ ترا رقص یہ سر تال کا رنگشوخیٔ حسن بھی ہے عشق کا اعجاز بھی ہےعشوہ و ناز و ادا پیار کی غماز بھی ہےکیف و مستی بھی ہے انگڑائی کا انداز بھی ہےشکوۂ جور و جفا سوز کی آواز بھی ہےنوجوانوں کے حسیں خواب کی تعبیر ہے توذہن ناپختہ کی روٹھی ہوئی تقدیر ہے تودرد کا ساز ہے اور سوز کی تاثیر ہے توراہ پرخار بھی آساں ہے تصور سے ترےشب تاریک میں ہر سو ہے اجالا تجھ سےتیری یادوں میں سرشام چراغاں ہر سوآج بھی تیری وفاؤں کے بہت چرچے ہیںبے وفائی کا سر بزم تری شکوہ ہےاب بھی کھلتے ہیں خیالوں میں تمنا کے کنولاب بھی ہر روز امیدوں کے دیے جلتے ہیںتجھ سے آباد ہیں محلوں کی سہانی راتیںبیٹھتی ہے تو دلہن بن کے شبستانوں میںاور کبھی پھرتی ہے دردر پہ پسارے دامنتو نے اک روپ میں بہروپ بنا رکھا ہےتو وہ شہکار زمانہ ہے جسے دنیا نےاپنی تسکین کا سامان بنا رکھا ہےخواب گاہوں میں تجھے اپنی سجا رکھا ہے
شیشہ و ساغر سے ٹکرا کر گئی توبہ مچلرنگ لایا پھر وہاں حسن تدبر کا عملفکر احساس تخیل جب گئے لفظوں میں ڈھلگنگنا کر رقص فرمانے لگی روح غزلگویا میخانے میں کوئی نرگس مستانہ ہےجس کے دم سے رقص میں یہ ساغر و پیمانہ ہے
بھلائی سب کی ہو جس سے وہ کام اس کا ہےجہاں بھی جاؤ وہیں احترام اس کا ہےاٹھائے سر کوئی کیا سر اٹھا نہیں سکتامقابلے کے لئے آگے آ نہیں سکتاکسی سے اس کو محبت کسی سے الفت ہےکسی کو اس کی ہے اس کو کسی کی حسرت ہےوفا و لطف ترحم کی خاص عادت ہےغرض کرم ہے مدارات ہے عنایت ہےکسی کو دیکھ ہی سکتا نہیں ہے مشکل میںیہ بات کیوں ہے کہ رکھتا ہے درد وہ دل میںوہ رشک شمع ہدایات ہے انجمن کے لئےوہ مثل روح رواں عنصر بدن کے لئےوہ ایک ساغر نو محفل کہن کے لئےوہ خاص مصلح کل شیخ و برہمن کے لئےلگن اسے ہے کہ سب مالک وطن ہو جائیںقفس سے چھوٹ کے زینت دہ چمن ہو جائیںجفا شعار سے ہوتا ہے بر سر پیکارنہ پاس توپ نہ گولا نہ قبضے میں تلوارزمانہ تابع ارشاد حکم پر تیاروہ پاک شکل سے پیدا ہیں جوش کے آثارکسی خیال سے چرخے کے بل پہ لڑتا ہےکھڑی ہے فوج یہ تنہا مگر اکڑتا ہےطرح طرح کے ستم دل پر اپنے سہتا ہےہزار کوئی کہے کچھ خموش رہتا ہےکہاں شریک ہیں آنکھوں سے خون بہتا ہےسنو سنو کہ یہ اک کہنے والا کہتا ہےجو آبرو تمہیں رکھنی ہو جوش میں آؤرہو نہ بے خود و بیہوش ہوش میں آؤاسی کو گھیرے امیر و غریب رہتے ہیںندیم و مونس و یار و حبیب رہتے ہیںادب کے ساتھ ادب سے ادیب رہتے ہیںنصیب ور ہیں وہ بڑے خوش نصیب رہتے ہیںکوئی بتائے تو یوں دیکھ بھال کس کی ہےجو اس سے بات کرے یہ مجال کس کی ہےرفاہ عام سے رغبت ہے اور مطلب ہےانوکھی بات نرالی روش نیا ڈھب ہےیہی خیال تھا پہلے یہی خیال اب ہےفقط ہے دین یہی بس یہی تو مذہب ہےاگر بجا ہے تو بسملؔ کی عرض بھی سن لوچمن ہے سامنے دو چار پھول تم چن لو
ناز کیوں ہو نہ تجھے کرشن دلاری جمناتو تو رادھا کی سہیلی بنی پیاری جمنارتبہ عالی ہے ترا مرتبہ بھاری جمناہر جگہ فیض اتم رہتا ہے جاری جمناہے یقیں گرم کسی دن بھری محفل ہوگیراس منڈل کی وہ لیلا لب ساحل ہوگیمٹ گیا لطف ترا چھن گیا گہنا تیراجب کنھیا نہیں بے لطف ہے رہنا تیراغم اٹھانا ستم و جور کو سہنا تیراپانی ہو ہو کے شب و روز یہ بہنا تیراآتش ہجر کچھ اس درجہ لگی ہے تن میںدل نہ متھرا میں بہلتا ہے نہ بندرابن میںبات بگڑی نہیں اب بھی ہے وہی بات تریوہی جاڑا وہی گرمی وہی برسات تریدن اسی ڈھنگ اسی رنگ کی ہے رات تریکون کہہ سکتا ہے کچھ بھی نہیں اوقات تریکرشن صدقے ہیں تو رادھا ہیں فدائی جمناہر طرف خلق میں ہے تیری دہائی جمناسادی سادی ہے روش وضع ہے بھولی بھالیہے روانی بھی غضب چال بھی ہے متوالینیلی موجوں سے پشیماں ہوئیں زلفیں کالیحسن و آرائش و زینت سے بڑھی خوشحالیاللہ اللہ رے اس ناز و ادا کی ہستیتیرے آگے نہیں کچھ آب بقا کی ہستیپوچھے رادھا سے کوئی قدر حقیقت تیریکرشن سے جانچے کوئی خوبی عزت تیریساری دنیا میں ہے پھیلی ہوئی عظمت تیریاس کو جنت ملی کی جس نے بھی خدمت تیریاپنا ہم رتبہ جو پایا تجھے گنگا جی نےاپنے پہلو میں بٹھایا تجھے گنگا جی نےباعث ناز ہے بے شبہ ہمالہ کے لئےسبب فخر و شرف گوکل و متھرا کے لئےخاص اک نعمت حق وادی و صحرا کے لئےمختصر یہ ہے بڑی چیز ہے دنیا کے لئےدل کی سربستہ کلی فرط خوشی سے کھل جائےاس کو امرت ملے جس کو ترا پانی مل جائےسچ ہے اسرار حقیقت کا خزانہ تو ہےحال و مستقبل و ماضی کا زمانہ تو ہےلطف آگیں طرب آمیز فسانہ تو ہےسب ہیں بیگانے اگر ہے تو یگانہ تو ہےصاف آئینے کی صورت ہے صفائی تیریبندگی کیوں نہ کرے ساری خدائی تیرینگۂ فضل و ترحم سے اشارا کر دےجو نہ ہو کام کسی سے وہ خدارا کر دےرنج و غم درد و قلق دور ہمارا کر دےپیاری مخلوق میں کچھ اور بھی پیارا کر دےرہنمائی تری بسملؔ کے لئے سب کچھ ہےنا خدائی تری بسملؔ کے لئے سب کچھ ہے
کس قدر دل کش سہانی شام ہے برسات کیبولنے والی ہے اب تصویر گویا رات کیدامن مغرب میں پوشیدہ رخ خورشید ہےآمد آمد ہے قمر کی اس کا شوق دید ہےخامۂ قدرت کے پائے ڈھب شفق کے رنگ میںسر بہ سر ڈوبے ہوئے ہیں سب شفق کے رنگ میںسر اٹھا کر آسماں کی جامہ زیبی دیکھیےاس کی رنگینی میں کیا ہے دل فریبی دیکھیےیہ رو پہلا یہ سنہرا رنگ ہی کچھ اور ہےرنگ ہی کچھ اور بے شک ڈھنگ ہی کچھ اور ہےکام سونے کا بنا ہے گنبد افلاک پرضو فگن ہوتا ہے عالم اس کا فرش خاک پربزم گردوں پر ہوا ہے انجمن آرا کوئیجھانکتا پردے سے ہے شاید یہ مہ پارہ کوئیمیں نہ کیوں قربان جاؤں اس ادا اس ڈھنگ کےآسماں پر کھل رہے ہیں پھول لاکھوں رنگ کےہیں لکیریں مختلف رنگوں کی رنگیں داغ ہےیہ خدا کی شان ہے کیا آسماں پر باغ ہےشام ہے برسات کی دلچسپ منظر ساتھ ہےدیکھیے ہوتا ہے کیا قدرت کا اس میں ہاتھ ہےصورت تصویر چپ بسملؔ ہوئے یہ بول کرحسن کی دنیا ہے دیکھو دیدۂ دل کھول کر
آ کنھیا کہ ترے واسطے ہم بسملؔ ہیںکہنے سننے کے لئے دل ہے مگر بے دل ہیں
مایۂ ہندوستاں تھا بال گنگا دھر تلکاس چمن کا باغباں تھا بال گنگا دھر تلکخوش کلام و خوش بیاں تھا بال گنگا دھر تلکمہرباں تھا راز داں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدپارسا تھا پارسا تھا بال گنگا دھر تلکبے ریا تھا بے ریا تھا بال گنگا دھر تلکرہنما تھا رہنما تھا بال گنگا دھر تلکپیشوا تھا پیشوا تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدملک کی روح رواں تھا بال گنگا دھر تلکباعث آرام جاں تھا بال گنگا دھر تلکہر کسی کا قدرداں تھا بال گنگا دھر تلکاس زمیں پر آسماں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدافتخار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکجاں نثار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکنو بہار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکپاس دار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدمرد میدان سیاست بال گنگا دھر تلکبا مروت با محبت بال گنگا دھر تلکصاحب اقبال و شوکت بال گنگا دھر تلکپاک صورت پاک سیرت بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدہر گھڑی سینہ سپر تھا بال گنگا دھر تلککتنا بے خوف و خطر تھا بال گنگا دھر تلکدل جلوں سے با خبر تھا بال گنگا دھر تلکسب کا منظور نظر تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدزینت باغ وطن تھا بال گنگا دھر تلکاک پھلا پھولا چمن تھا بال گنگا دھر تلکنوحہ خوان و نعرہ زن تھا بال گنگا دھر تلکواقف رنج و محن تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدرہنمائی کر گیا وہ بال گنگا دھر تلکسر پر احساں دھر گیا وہ بال گنگا دھر تلککب کسی سے ڈر گیا وہ بال گنگا دھر تلکمرنے والا مر گیا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدکاش پھر دنیا میں آئے بال گنگا دھر تلکشکل پھر اپنی دکھائے بال گنگا دھر تلکاور پھر گیتا سنائے بال گنگا دھر تلکبسملؔ آ کر پھر نہ جائے بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعد
درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیںزخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرےجو بھی سانسوں میں گھلا ہے اسے عریاں نہ کروچپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرےایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بتجذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریںمو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجرلفظ نوحوں میں رقم مدح رخ یار کریںرقص مینا سے اٹھے نغمۂ رقص بسملساز خود اپنے مغنی کو گنہ گار کریں
یوم آزادی نے یوں چھڑکا فضاؤں میں گلالگلستاں سے بھینی بھینی خوشبوئیں آنے لگیںتتلیاں اپنے پروں پر پا کے قابو ہر طرفصحن گلشن کی روش پر رقص فرمانے لگیں
میں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھمیرے اندر اور باہر اسلحوں کی گرم بازاری ہے ہر سویہ ہلال نو کسی کے ہجر کا خنجر ہے شایدیہ گھڑی دیوار کی ہر لمحہ مجھ کو کاٹتی ہےیاد کی برچھی مرے سینے پہ حملہ زن ہے ہر دمانتظار ایسا سلگتا ہے مرے اطراف جاں میںآتشیں بارود کا جلتا ہوا ہو ڈھیر جیسےمیری سانسوں میں کسی کی بے رخی کی آریاں سی چل رہی ہیںمیری دھڑکن کی تڑپ میں رقص بسمل کا سماں ہےجیسے دل پر بے وفائی کی چھری پھیری گئی ہوجب بھی پروائی چلے تو ایسا لگتا ہے کہ توپوں کے دہانے کھل گئے ہیںمیں سراپا عشق میری جاں کے درپئے ہے سبھی کچھ
نصیب صحبت یاراں نہیں تو کیا کیجےیہ رقص سایہ سرو و چنار کا موسم
پھر وہی رقص شرار زندگیپھر وہی حسن لطافت ریز کی تابندگی
ان احمریں لبوں پہ ایک رقص نا تمام تھاسکوت سا سکوت تھا کلام سا کلام تھا
پھر بھی کچھ ادراک میں آتا نہیںکیا ہے رقص گردش ایام کیااک شکستہ ناؤ اک خونی بھنورکیا ہے اس افسانے کا انجام کیایہ مفکر کچھ سمجھ سکتے نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books