aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sar-e-aafaaq"
یہ بڑا چاند چمکتا ہوا چہرہ کھولےبیٹھا رہتا ہے سر بام شبستاں شب کو
قمریاں میٹھے سروں کے ساز لے کر آ گئیںبلبلیں مل جل کے آزادی کے گن گانے لگیں
اور شہر وفا سے دشت جنوں کچھ دور نہیںہم خوش نہ سہی، پر تیرے سر کا وبال گیا
اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کوتو بندۂ آفاق ہے وہ صاحب آفاق
حد آفاق سے جب گزرنے لگادیکھتا کیا ہوں
یہ کیسی ساعت منحوس ہےجس میں ابھی تک
میرا ہر درد مٹا دیتی ہےغم آفاق بھلا دیتی ہے
کھلی کرنوں کی راہروحیں جو وسعت آفاق میں آوارہ سی تھیں
اس سے بڑھ کر کون سا دھندا ہے انٹرنیشنلشہرۂ آفاق عالمگیر ہے اپنا ہنر
اے مرے چارہ گرو عیسیٰ نفسآسمانوں سے پرے انفس و آفاق کی سرحد سے ادھر
جب بھڑک اٹھیں گے ہر سرد و سیہ سینے میںیہی شعلے دل آفاق کو لو بخشیں گے
وسعت آفاق میں پرواز کر کےرات کی آنکھوں میں تاریکی کا پردہ ڈال کر میں
جو قوم ہو پستی کے خیالات پہ مائلاس قوم کو حاصل نہیں پھر رفعت افلاک
دشت پر تبسم کا سیل سیل رحمت پڑے گایہ ساعت نیک جب فراز جود سے خاک پر اتر کر قریب آئے گی
بوئے جاں، وسعت آفاق میں گمیک کف خاک ہے وہ بھی کب تک؟
کسی کی شکل نہ صورت کسی کا رنگ نہ روپتمام انفس و آفاق گم ہیں آپس میں
حق گوئی میں جو شہرۂ آفاق تھے کیا کیالب بیچ رہے ہیں وہ دہن بیچ رہے ہیں
چیر کر سینۂ آفاق کی تاریک فضااز راہ وفا تیری تصویر اٹھا لیتا ہوں
یہ افلاک و آفاق کا بار اب میرے شانوں پہ ہےمہر و ماہ و کواکب سبھی میرے آیات ہیں''
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books