aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "stricker"
ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہےاسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیںانہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سےکھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سےآمد و رفت ان کنیزوں کیلگی رہتی ہے کمروں میںکہیں گوری کہیں کالی کبھی رانیعجب ہے کھیل کیرم کا
زندگی ہے کہ مال سرقے کاچور بازار ہے کہ دنیا ہے!
یہ ہمارا شہر جو شہر کلیمؔ و شادؔ ہےدوست اس کا آج کل چرخ ستم ایجاد ہےاک زمانہ تھا کہ گنگا کا یہ ہمسایہ نگرشعر و حکمت کے لیے تھا درس گاہ معتبربھائی چارہ اور روا داری کا تھا ہر سو رواجاپنے اپنے شغل میں مصروف رہتا تھا سماجشاعران خوش نوا دن رات آتے تھے نظرگنگناتے شعر کہتے ہر گلی کے موڑ پرایسے بے فکروں کو جن کی طبع موزوں ہی نہ تھیشوق تھا کنکوے بازی کا، بجائے شاعریملک میں تحریک آزادی کا آیا دور جبمشغلے تفریح کے، ڈھونڈے گئے کچھ اور تبتھی کبھی تو بھوک ہڑتال اسٹرائک، مار دھاڑاور کبھی تھی نعرے بازی دھر اسے اس کو پچھاڑبعد آزادی نئی مصروفیت کا در کھلانیم تو ہے نیم ہی اس پر کریلا بھی چڑھااک نئی تحریک آئی لے کے کچھ تبدیلیاںیعنی اب تفریح کا سامان نو ہیں ریلیاںجس طرح ہوں کھیتیوں پر حملہ آور ٹڈیاںیوں ہی اہل شہر کے حق میں ہیں لعنت ریلیاںکرسیوں سے جو سیاست زادگاں محروم ہیںریلیاں ان کے لیے با مقصد و مفہوم ہیںرنگ داروں کو ملا کر بھیڑ اکٹھی کی گئیچپہ چپہ پر گلی کوچوں کے جو قابض ہوئیدفعتاً مفلوج ہو کر رہ گیا ہر کام کاجشہر میں چلتا رہا کچھ دیر تک راون کا راجاتفاقاً گر کوئی دوکاں کھلی پائی گئیخوب جی بھر کے وہ لوٹی اور جلوائی گئیہر در و دیوار کے نیچے کھٹالوں کی قطاربیچ سڑکوں پر مویشی اور غلاظت کی بہاراور اس منظر کے پیچھے ریلی بازوں کا ہجومتجھ کو لے آیا کہاں اے شہر تیرا بخت شوم
بیاض چوری ہوئی ہے جناب عالیؔ کیبیاض چور نے چوری بڑی مثالی کیضرور چور کوئی سارق ادب ہوگااسے بیاض چرانے کا خاص ڈھب ہوگامیں ایسے چور کی دانش وری پہ ہوں حیرانجو ایک رات میں بن بیٹھا صاحب دیوانجناب عالیؔ کے کالم تھے جتنے مطبوعہسمجھ کے چھوڑ گیا ان کو نثر ممنوعہعجیب چور تھا نثری کلام چھوڑ گیابیاض لے گیا کالم تمام چھوڑ گیاغزل کے ساتھ گئی مثنوی بھی دوہا بھیتمام شہر نے مانا تھا جس کا لوہا بھیچھپا ہوا تھا جو شاعر نکل رہا ہوگاوہ اس بیاض کے مقطع بدل رہا ہوگاجناب عالیؔ کی فکر جمیل تھی یہ بیاضرباعیوں میں بڑی خود کفیل تھی یہ بیاضجس انجمن میں یہ جاتی تھی حشر کرتی تھیادب کے ساتھ سیاست بھی نشر کرتی تھیمشاعروں میں بصد احترام آتی تھییہی بیاض مصیبت میں کام آتی تھیاسی بیاض سے دوہوں کو آزمانا تھاوہ شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا
بڑا سا کینوس ہے یہبہت کچھ ہو گیا ہے کامابھی تھوڑا سا باقی ہےسارے پس منظر تو پورے ہو چکےاسٹروکدائرےخطوطگہریپھیکی لکیریںزاویےروشنی اندھیراابھی کچھ اور منظر ہیںاجاگر جن کو کرنا ہےحسین و دل ربا دل کشمرقعے پیش کرنے ہیںذرا سا رہ گیا ہے کاموہ بھیہو ہی جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books