aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "surgery"
اگرچہ ہیں اپنی جگہ سارے کاممگر ڈاکٹر کا ہے اپنا مقامذرا درد میں مبتلا ہوں اگرپکارے ہیں سب ڈاکٹر ڈاکٹرکہیں پر اگر ہو برا حادثہتو پھر کام آتا ہے یہ ناخداکہیں آپریشن کہیں سرجریبھلا کس سے ہوگی یہ چارہ گریبدن کا ہر اک زخم بھرنے کو ہیںمسیحا ہی یہ کام کرنے کو ہیںمگر کام یہ ذمہ داری کا ہےاور احساس ایمانداری کا ہےہے اس کام میں یوں تو محنت بڑیخدا ان کو دیتا ہے عزت بڑیبڑے ہو کے سوچا ہے میں نے یہیکہ میں ڈاکٹر ہی بنوں گی کبھیغریبوں سے میں فیس لوں گی نہیںکبھی یہ گناہ میں کروں گی نہیںمری یہ دعا سن لے میرے خدامجھے ایسی خدمت کے لائق بنا
پہلی آواز غصیلی گرجتیدیکھیو مت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہدیکھیو ان راستوں میں جل بجھے گی روشنیآسماں کے جسم اودے جسم سے رسنے لگے گی پیپ بھیدوسری آواز ڈرتے ہوئے سرگوشیاس کی دھڑکن ہی سے چلتی ہے زماں کی نبضپہلی آواز غصیلی گرجتیاور تیری زباں چپزمہریری سانس اس کی عصر یخبندان لے آئے گی گیتی پرمت کھولیومت کھولیودیکھنے کو میرا سینہ ہے دراصل اس کی کچھارجس کی ڈھلوانوں کے دلدل لوتھڑے ہیں خون کےجس پہ اگ آئیں ہیں خود رو جھاڑیاں کچھ سانس کیگھات میں آ جائے گا اس پریت کےباگھ کے سر سانپ کے دھڑ والا یہ عفریتکھوب دے گا دانت گردن میں تریدیکھیو مت کھولیومت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہاژدر کا منہاجگر کا منہافعی کا منہاس وش بھرے موذی کا منہیہ رگیںدور تک پھیلی ہوئیبرزخ تلک پھیلی ہوئی جڑگڑ نہ جائیں تجھ میں بھییہ سرخ سانپ اس کینہ ور کی دم ہیںکھا سکتی ہیں سب دنیا کا سبزدیکھیو یہ بھوت آدم خور ہےسانس لیتا ہر منش کھا جائے گامت کھولیومت کھولیو اس وش بھرے موذی کا منہاس خبیث آزاردہ کو مرنے دےاس جھڑوس ایذا رساں کو مرنے دےاس کے مر جانے میں انساں کا بھلااس کے مر جانے میں یزداں کا بھلا
حاکم ہیں ایسے دیش کا قانون توڑ دیںرشوت ملے تو قتل کے مجرم بھی چھوڑ دیںنگراں جو ملزمان کی آنکھیں بھی پھوڑ دیںسرجن ہیں ایسے پیٹ میں اوزار چھوڑ دیںسب کچھ ہے اپنے دیس میں روٹی نہیں تو کیاوعدہ لپیٹ لو جو لنگوٹی نہیں تو کیا
دوڑا دوڑا آیا سرجنکرنا تھا جس کو آپریشن
دور کہیں دنیا کے سینے میںسانسوں کا لوہاکندن کرنے والےعمر عزیز کے حلق میںسسکی کا اک چھلا ٹوٹ گیا ہےماہر سرجنبانہوں میں ناکامی کا خمیازہ بھر کرسوچ رہا ہےکار مسیحائی کا دعویٰجس لمحے ایجاد ہوا تھاوہ ساعتانسانی وقت کے حصے میں آ پائی نہیںبے سمتی کی زرد لکیروں پر چلنا دانائی نہیںنباضی کے نشتر سے بھیموت کا پتھر نوکیلا ہےنرگس فاطمہ دیکھ رہی ہےآپریشن تھیٹر کے اندرسرجن کی مضبوط آنکھوں نے کمزوری سے ٹیک لگا کرحرکت کرنا چھوڑ دیا ہے
بلب کا جبڑا کھلے آگ برس جائے توگر یہ استخر ابھی خون سے بھر جائے تویا یہ استخرجہاں آب کے منشوروں سےرنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہےکوئی استخر نہ ہو کوکھ ہو میری ماں کیاور میں میں نہیں شاید وہ اچھلتا پانیجس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھاوائے قسمت کہ مرے ہاتھ میں رسی نہ رہیآہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جائےاس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جائےاس قدر خون کہ سرجن کا لبادہ میرےسرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جائےاور تانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھیمیرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books