aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vaarid"
وہ دیر سے انتظار گہ میںہر آنے والے کو نظروں نظروں میں ناپتی تھیلباس کی شوخی و جسارتسنگھار کی جدت و مہارت کے باوجوداس کا گوشۂ چشم عمر کی چغلی کھا رہا تھانگاہ نو وارد اجنبی پر پڑی تو اس طرح مسکرا دیکہ جیسے اس کی ہی منتظر تھیاٹھی قریب آئی اور بولیمیں ایک مدت سے خدمت خلق کر رہی ہوںدکھے دلوں کا علاج کرتی ہوںرنگ اور روشنی کے شہروں میںشام تنہائی کی دل افسردگی سے واقف ہوںآپ اکیلے ہیں تو کوئی انتظام کر دوںیہاں سے میں دور دور ملکوں کوہر طبیعت کے گاہکوں کی پسند کا مال بھیجتی ہوںوفا محبت پرانی باتیں ہیں اب انہیں کون پوچھتا ہےبڑے بڑے اونچے اونچے لوگوں سے رات دن میرا واسطہ ہےیہ صاحبان وقار و نخوتخریدنا اور بیچنا خوب جانتے ہیںیہ دام دیتے ہیں اور راحت خریدتے ہیںبجا ہے یہ بھی کہ بے بسوں کی انا و عزت خریدتے ہیںمگر جب آتے ہیں بیچنے پرتو بے تکلف ضمیر تک اپنا بیچ دیتے ہیںجاہ و ثروت کی منڈیوں میںمیں کہہ رہی تھی کہ آپ چاہیں توآج کی رات کا کوئی انتظام کر دوں
کچھ ہی دن بعد اک دوسرا چور وارد ہواجو کفن بھی چراتاقبر کو بھی کھلا چھوڑ دیتادوسرا چور بھی رکن انصاف کے پاس لایا گیااور مہمان زنداں ہوا
ترے آسماں کا،میں اک تازہ وارد ستارا سہیجانتا ہوں کہ، اس آسماں پربہت چاند، سورج، ستارے ابھر کرجو اک بار ڈوبے تو ابھرے نہیں ہیںفراموش گاری کے نیلے افق سے،انہی کی طرح میں بھینا تجربہ کار انساں کی ہمت سے آگے بڑھا ہوں،جو آگے بڑھا ہوں،تو دل میں ہوس یہ نہیں ہےکہ اب سے ہزاروں برس بعد کی داستانوں میںزندہ ہو اک بار پھر نام میرا!یہ شام دل آویز تو اک بہانہ ہے،اک کوشش ناتواں ہےشباب گریزاں کو جاتے ہوئے روکنے کیوگرنہ ہے کافی مجھے ایک پل کا سہارا،ہوں اک تازہ وارد، مصیبت کا مارامیں کر لوں گا درد تہ جام پی کر گزارا!
آج سے پہلے میرا گھرسویا سویا رہتا تھاسورج روز نکلتا تھاروز سویرا ہوتا تھاآنگن میں دیواروں پردھوپ چمکتی رہتی تھیگھر کی اک اک کھڑکی میںنور کی ندی بہتی تھیسارا سارا دن چھت پرکاگے شور مچاتے تھےنل نیچے پانی پینےروز کبوتر آتے تھےدروازے پر دستک کیمہریں چمکا کرتی تھیںسرد ہوائیں پردوں میںٹھنڈی آہیں بھرتی ہیںادھر ادھر جاتی گلیاںدھوم مچایا کرتی تھیںان جانے جانے بوجھےگیت سنایا کرتی تھیںلیکن پھر بھی میرا گھرسویا سویا رہتا تھا!گھر کا اک اک دروازہکھویا کھویا رہتا تھا!آج مگر اک نو واردبچے کا رونا سن کرچونک پڑے دیوار و درجاگ اٹھا ہے میرا گھر
تم مجھ پر وارد ہوئےاک ستم گر کی طرحمئی کی وہ شام تھیمجھے آج بھی یاد ہےسفید رنگ کی شرٹ پہنےہاتھ میں اخبار رول کئےتم پنڈال کی کرسی پر براجمان تھےپہلی نظر میں تم عام سے تھےجیسے تم عاشق ہو اور میں محبوبمیری نظر کا لمس تمہیں خاصا خاص کر گیادیکھوکہانی نے پلٹا کھایاتم محب بن گئے اور میں دیوانی کہلائیمیرے آتے ہی تم سمٹ گئےتب سے آج تک ویسے ہی میری روح میںایک کونپل کی طرح سمٹے بیٹھے ہومیں منتظر ہوںکب احساس کا نازک پرندہ انگڑائی لےتم اپنی بانہیں پھیلائےاسی پنڈال کی اسی کرسی پرگہری خاموشی سے شور کرتے ہوئےمیری طرف بڑھوکہ دیکھنے والوں کو پاکیزہ محبترقص کرتی دکھائی دےجس میں نہ نمائش ہو نہ ہوسبس اک سرور ہواور میںمیں زمین کے اسی بے بس بے حس ٹکڑے پر آنکھیں موندے تمہیں دیکھتی رہوںپچھتاوے کا جال آج تک مجھے لپیٹ میں جکڑے ہےمیں کسی اسیر زادی کی طرحاپنی قید کو تقدیر کا لکھا جان کر خوش ہوںمیں اظہار و اقرار سے بریاپنی خواہش پر حیا کی چادر ڈالےمحبت کا طوق گلے میں لٹکائےخموشی کو لبوں پر سجائےنا امیدی کو شکست دیتے ہوئےگونگی بہری اندھی محبت پر اکتفا کئے ہوئے ہوںکہ اسیر خواہش و فرمائش کا حق نہیں رکھتے
وہ قہوہ خانے میں آیااور ہماری میز کے کنارے بن پوچھے ہی بیٹھ گیاہم باتوں میں کھوئے ہوئے تھےسوچ رہے تھے دنیا کیا ہےکیا یہ اسٹیج ہے جس پر جیون کا ناٹک ہوتا ہےکیا ہم اس بے نام ڈرامے کے ہیں بس فرضی کردار؟الجھی تھی اپنی گفتاراور اچانک وہ نو واردسگریٹ کا ایک گہرا سا کش لے کر اٹھاہم لوگوں کو غور سے دیکھااور یہ کہہ کر جانے لگاتم سب اتنا سوچ رہے ہومجھ سے پوچھو دنیا کیا ہےہم نے سوچا بات کرے گالیکن ایک برقی سرعت سے وہ نو وارد جا بھی چکا تھا(بیرے نے بتلایا صاحب! آنے والا دیوانہ تھا)اب ہم لوگ یہ سوچ رہے تھےوہ تو خیر ایک فرازانہ تھالیکن ہم اس فکر کے ہاتھوں اک دن پاگل ہو جائیں گےسگریٹ اور کافی دھوئیں میں اڑ کر بادل ہو جائیں گے!!
وہی پرانا جواب میراوہی گرہ وارد چمن کی صدائے پرواز پر لگا دی ہےجس کا حلقہ مری زباں پر پڑا ہوا ہےمجھے یقیں ہے کہ یہ نیا ہم صفیر میرامری طرح سے زمیں کے شیشے کی شش جہت سے نہ آگے پرواز کر سکے گاوہ ایک میٹھی صدا کی ندیجو رات دن کی جلی زمینوں سے دور سر سبز جنگلوں میں رواں ہے نغمےکوئی سدھایا ہوا پرندہ نہ اس کے سربستہ ساحلوں پر اتر سکے گا
وہ دیکھ کہ موجیں رقص کناں ہیں سطح زمیں پر گنگا کینو وارد آریہ حیرت میں ہیں دیکھ کے شان اس دریا کیگنگوتری سے آتی ہے چلی اٹھکھیلیاں کرتی دھار اس کیآزادی ہے تیور سے عیاں متوالی ہے رفتار اس کی
اس میں یہ دشت تھااس دشت میںمخلوق کب وارد ہوئیخدا معلوملیکنسب بڑے بوڑھے یہ کہتے ہیںادھر اک دشت تھاجانے کیوں ان کو یہاںلمبی قطاروںشہر کی گنجان گلیوںدفتروںشاہراہوںراستوں اور ریستورانوںجلسے جلوسوںریلیوں اورایوان ہائے بالا و زیریں میںخوش لباسی کے بھرم میںناچتی وحشت نظر آتی نہیں
پرانی بات ہےلیکن یہ انہونی سی لگتی ہےامیر شہر راتوں کوبدل کر بھیسگلیوں میں پھرا کرتاوہ دیواروں پہ لکھیہر نئی تحریر کو پڑھتاسرائے میں ہر اک نو وارد شب سےسفر کا ماجرا سنتاگھروں کی چمنیوں کو دیکھ کراندازۂ نان جویں کرتاپریشاں حالیوں سے با خبر رہتامزاروں مقبروں کی چوکھٹوں کو چومتااور شب گئے مسجد میں آتاصبح تکیاد الٰہی میں بسر کرتاہوا اک رات یوںچاروں طرف دریا امڈ آیاکوئی جاگا نہیںتنہاامیر شہر کے بازوفصیل شہر کی بنیاد کو تھامے رہے شب بھربدن کی ڈھال سےسیلاب کو روکے رہے شب بھرسنا ہے پھر کبھیدریا کی طغیانیفصیل شہر کو ڈھانے نہیں آئیامیر شہر کی نیکیزمانے تکخطا کاروں کے کام آئی
ایک دندفع آسیب و رفع بلا کے لیےکچھ پر اسرار فقروں کی گردان کرتا ہواجادۂ خوف پر گامزن تھامیں اپنے شبستاں کی جانبکہ اک لرزش ناگہاں سے گزرنا پڑاتو اندھے زمانوں کی صحرا نوردی کے آخر میںوہ ایک تاریک لمحہ تھا جبسگ ہم سفر اور میںماندہ و گرسنہیہاں اس علاقے میں وارد ہوئےاور اندھیرے میں کچھ فاصلے پر تری روشنی دیکھ کررقص کرنے لگےسگ ہم سفر اور میںسگ ہم سفر اور میں
دل میں جب پہلا سا وہ پیار نہیںاب گلابوں پہ وہ نکھار نہیںکھو چکے اپنا تیکھا پن بادامسنبھلی سنبھلی ہیں آج کل مادامچپ ہوا خواہشوں کا آوازہبوئے تازہ سے ہے تہی غازہاور کاجل میں وہ خمار نہیںبانکپن اب مزہ نہیں دیتاحسن بھی ہو چلا اداس اداساب نہیں ہے لباس میں بھی پیاسپیری ہونے لگی ہے اب واردہو گئیں آپ دفعتاً باردکتنے ہی دن ملن نہیں ہوتاپیار کا یہ چلن نہیں ہوتا
وہ ایک ذرہ کہ جس کے دم سے دمک اٹھیں گینجانے کتنی ہی کہکشائیںورید جاں سے ٹپکنے والی امید کا بے مثال جوہرعجب کرشمے دکھا رہا ہے
مجھ پر وارد ہوا ہےکوئی اسمجس کا حجمزمان و مکاں سے بڑا ہےبے پر ہےمگر اڑتا ہےبے آواز ہےمگر بولتا ہےبے گھر ہے مگرہر گھر میں ہےسانس لیتا ہےمیرے ساتھ جیتا ہےمیرے درد میں رہتا ہےمیرے درد میں رہتا ہےمجھ میں لمحہ لمحہ اترتا ہے
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
تمہاری قبر پرمیں فاتحہ پڑھنے نہیں آیامجھے معلوم تھاتم مر نہیں سکتےتمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھیوہ جھوٹا تھاوہ تم کب تھےکوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھامری آنکھیںتمہارے منظروں میں قید ہیں اب تکمیں جو بھی دیکھتا ہوںسوچتا ہوںوہ وہی ہےجو تمہاری نیک نامی اور بد نامی کی دنیا تھیکہیں کچھ بھی نہیں بدلاتمہارے ہاتھ میری انگلیوں میں سانس لیتے ہیںمیں لکھنے کے لیےجب بھی قلم کاغذ اٹھاتا ہوںتمہیں بیٹھا ہوا میں اپنی ہی کرسی میں پاتا ہوںبدن میں میرے جتنا بھی لہو ہےوہ تمہاریلغزشوں ناکامیوں کے ساتھ بہتا ہےمری آواز میں چھپ کرتمہارا ذہن رہتا ہےمری بیماریوں میں تممری لاچاریوں میں تمتمہاری قبر پر جس نے تمہارا نام لکھا ہےوہ جھوٹا ہےتمہاری قبر میں میں دفن ہوںتم مجھ میں زندہ ہوکبھی فرصت ملے تو فاتحہ پڑھنے چلے آنا
لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے ہی انہی کی غم خواریہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباریابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سےیہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیںکہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئےوہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتااس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھیکاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئیتم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیاسیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولومیں سمجھ گئی اب اس کی آنکھیںکیٹسؔ کی آنکھیں ہوئی جاتی ہیںمیں جو سوہنی کا گھڑا اٹھائے ہوئے تھیاپنا نام لیلیٰ بتا چکی تھیمیں نے کہالیلیٰ مجمع کی باتیں میرے سامنے مت دہرایا کروتنہائی بھی کوئی چیز ہوتی ہےشیکسپئیر کے ڈراموں سے چن چن کر اس نے ٹھمکے لگائےمجھے تنہا دیکھ کرسارتر فرائڈؔ کے کمرے میں چلا گیاوہ اپنی تھیوری سے گر گر پڑتامیں سمجھ گئی اس کی کتاب کتنی ہےلیکن بہر حال سارتر تھااور کل کو مجمع میں بھی ملنا تھامیں نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا تو بولااتنے سارے سارتروں سے مل کر تمہیں کیا کرنا ہےاگر زیادہ ضد کرتی ہو تو اپنے وارث شاہؔہیر سیال کے کمروں میں چلے چلتے ہیںسارتر سے استعارہ ملتے ہیمیں نے ایک تنقیدی نشست رکھیمیں نے آدھا کمرہ بھی بڑی مشکل سے حاصل کیا تھاسو پہلے آدھے فرائڈؔ کو بلایاپھر آدھے راںؔ بو کو بلایاآدھی آدھی بات پوچھنی شروع کیجان ڈنؔ کیا کر رہا ہےسیکنڈ ہینڈ شاعروں سے نجات چاہتا ہےچوروں سے سخت نالاں ہےدانتےؔ اس وقت کہاں ہےوہ جہنم سے بھی فرار ہو چکا ہےاس کو شبہ تھاوہ خواجہ سراؤں سے زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکتااپنے پس منظر میںایک کتا مسلسل بھونکنے کے لیے چھوڑ گیا ہےاس کتے کی خصلت کیا ہےبیاترؔچے کی یاد میں بھونک رہا ہےتمہارا تصور کیا کہتا ہےسارتروں کی تصور کے لحاظ سےاب اس کا رخ گوئٹےؔ کے گھر کی طرف ہو گیا ہے
اردو کے جنازے کی یہ سج دھج ہو نرالیصف بستہ ہوں مرحومہ کے سب وارث و والیآزادؔ و نذیرؔ و شررؔ و شبلیؔ و حالیؔفریاد یہ سب کے دل مغموم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books