غالب کے گھر میں ایک شام

محمد دین تاثیر

غالب کے گھر میں ایک شام

محمد دین تاثیر

MORE BYمحمد دین تاثیر


    تاریخ، شب قدر اور دیوالی کا دن۔ قبل غدر دلی میں، 

    وقت، مابین عصر و مغرب۔ سایہ ڈھل رہا ہے۔ 

    کردار، 
    ۱-میرزا غالب

    ۲- بیگم غالب

    (ایک مردانہ کمرہ۔ دیواروں پر تازہ سفیدی پھری ہوئی، بوسیدہ ایرانی قالین جس پر چیتے کی کھال کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا ہے۔ تین تکیے ادھر ادھر پڑے ہوئے ایک پر کلاہ پیاخ، ایک کے پاس جام سفال، ایک پر اوندھی مینائے مے۔ پاس ہی ایک شمع خاموش اور ایک چوسر کی بساط بچھی ہوئی ہے، دائیں طرف باہر کا ایک دروازہ۔ کنڈی لگی ہوئی۔ وسط میں ایک مقفل دروازہ قفل ابجد والا۔ بائیں جانب ایک افسردہ گلخن، آدھی جلی ہوئی لکڑیوں سے بھرا ہوا۔ عین چھت کے قریب جالے سے ڈھنپا ہوا روزن۔ )

    پردہ اٹھنے پر میرزا غالب تنہا کھلا ہوا قبا پہنے ادھر ادھر ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ کچھ گنگنا رہے ہیں۔ کبھی قلم سے کاغذ پر کچھ لکھ دیتے ہیں۔ 

    میرزاغالب۔۔۔، ہفت اورنگ۔ اے جہاندارِ آفتاب آثار۔۔۔ آفتاب آثار انقلاب آثار۔ آفتاب کو قافیہ کردوں، بادشاہ کوایسی ہی زمین پسند آتی ہے۔ ان ’’لیلے ٰ آشنا‘‘ اور ’’بے پروا نمک‘‘ والی غزلوں پر بہت خوش ہوئے تھے، جبھی وظیفہ مقررکردیا، مگر یہ کچھ اس بدذوق کا اندازہ ہوجاتا ہے، اور پھر خواہ مخواہ کی دماغ سوزی۔ ’’آثار‘‘ ٹھیک ہے۔ ’’افگار‘‘ اور ’’فگار‘‘ دونوں طرح کے قافیے بندھ سکیں گے۔ ہاں تو ’’تھا میں اک درد مند سینہ فگار۔‘‘ ٹھیک! تھا میں اک بے نوائے گوشہ نشین‘‘ اور ع تھا میں افسردہ دل شکستہ۔۔۔ مگر یہ میرا اپنا مرثیہ نہیں ان کا قصیدہ ہے، سینہ فگار ہی کافی ہے تو پھر کیا ہوامجھے؟ ع ’’ہوگئی میری گرمیٔ بازار‘‘ ہاں ’’تم نے جو مجھ کو آبرو بخشی۔ ہو گئی میری گرمیٔ بازار‘‘ بڑی! 

    مومن خاں کو فقرہ کسنے کا موقع مل گیا۔ اور تو کچھ نہ ہوا، کہتا تھا۔ ’’اب تم وظیفہ خوار ہو دوشاہ کو دعا۔‘‘ لیکن اس کی تعلیوں سے کیا ہوتا ہے۔ آپ تو رمل فال سے پیسے کما لیتا ہے، گوڈھونگ طبابت کارچا رکھا ہے۔ خیر مجھے مصرع ہاتھ آگیا۔ مقطع نہیں بنتا تھا۔ نہ جانے یہ مقطع کیوں ضروری ہے۔ مشاعرہ کی غزلوں میں کہنا ہی پڑتا ہے۔ اچھا بھلا ہوگیا تھا، ’’غالب وظیفہ خوار ہو دو شاہ کودعا۔ وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں۔‘‘ جیسے مشاعرے ویسی غزلیں عجیب عجیب شعروں پر داد ملتی۔ ’’خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں۔‘‘ ہائے! ع ’’آخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں۔‘‘ اس پر بس مومن اور مفتی صاحب (یعنی آزردہ) کو جنبش ہوئی باقی تو وہ خاک بنے رہے۔ 

    یہ بھی ضلع جگت ہوگئی۔ کمبخت درباریوں کی صحبت میرا مذاق بگاڑ رہی ہے قصیدے بھی لکھنے پڑے۔ ابھی تین شعر ہی ہوئے ہیں اور یہ مصرعہ ’’ہوگئی میری۔۔۔‘‘ کچھ سست سا ہے قطع کیوں نہ کرڈالوں۔ ع ’’ہوئی میری وہ گرمیٔ بازار‘‘ ٹھیک، ع کہ ہوا مجھ سا ذرۂ ناچیز‘‘ کیا ہوا؟ ذرہ کو آفتاب بنانا پڑے گا جبھی سمجھیں گے۔ ہاں ع۔۔۔ مجھ سا ذرۂ ناچیز۔ کیا ہوگیا۔۔۔؟ مطلع الانوار۔۔۔؟ قافیہ تو خوب ہے۔ ع روکش مہر مطلع الانوار۔۔۔؟ بے معنی معلوم ہوگا انہیں۔ پہلے ہی مہمل گو کہنے لگتے ہیں۔۔۔ ع ہے آفتاب ثوابت سیارہ؟ نہیں نہیں ع روشناس ثوابت سیار، یہ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ پھر میرا اپنا قصیدہ ہوجاتا ہے۔ 

    اس کمبخت کو کان بھرنے کا موقع مل جائے گا۔ کیاکروں، ناحق درباری بن گیا۔ اس کے لیے تو باعث آبرو تھا یہ عہدہ۔ اس دن چوٹ سمجھا نہیں۔ ع ’’بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔‘‘ مقطع کام آگیا۔ سب ہنس رہے تھے اور وہ حیران تھا۔۔۔ ہاں۔۔۔ تو ع ’’بادشاہ کاغلام کارگزار۔‘‘ یہ ٹھیک رہے گا۔ اس میں اپنی کارگزاری بھی آگئی۔۔۔ مسلسل کرڈالوں اسے۔ ایک، دو، تین۔ ٹھیک تینوں بیٹھ گئے ہیں، گرچہ ازروئے ننگ بے ہنری ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار، اگر اپنے کو میں کہوں خاکی۔ جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار۔ شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہوں۔ بادشہ کاغلام کارگزار۔ بادشاہ سلامت کو معرفت کا بھی دعویٰ ہے۔ بچارا صوفی مزاج ہے۔ اس دن ع ’’اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے‘‘ پر خاصی داد دی تھی۔ 

    اس دن سے کبھی کبھی غزل میں ایک آدھ تصوف کا شعر جوڑنا ہی پڑجاتا ہے، پیر و مرشد جوہوئے۔ ع خانہ زاد اور مرید اور۔۔۔ خدا جانے کیا؟ مرید اور نوکر؟نہیں نوکری کا الگ ذکر چاہیے۔ اس مقطع پر کہا گیا تھا کہ ع وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں‘‘ میں رعونت پائی جاتی ہے، گویا متاسن ہوں، اور ہوں بھی۔۔۔ ہاں تو، خانہ زاد اور مرید اور۔۔۔ مداح تھا ہمیشہ سے یہ۔۔۔ کیا تھا میں پہلے؟ سوانح نگار تھا مگر یہ لفظ بیٹھتا نہیں تو پھر کیا ہو۔۔۔؟ ہاں، ’’عریضہ نگار۔‘‘ ع ’’تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ نگار۔۔۔‘‘ ٹھیک! ، خانہ زاد اور مرید اور مداح۔ تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ نگار۔‘‘ اور ع بارے نوکر بھی ہوگیا۔۔۔ صدحیف! ۔۔۔ سچ تو یہی ہے مگر۔۔۔ 

    (مقفل دروازہ پر زنانہ دستک ہوتی ہے )

    کھولتا ہوں۔ کھولتا ہوں، صبر کرو، کیا حرف تھے۔ قفل ابجد لگا ہواہے۔ تمہاری ہی پسند ہے، صبر کرو (بڑی مشکل سے حروف جوڑ کر کھولتے ہیں اور بیگم صاحبہ ناک پر رومال رکھے داخل ہوتی ہیں۔ )

    بیگم، یہ دروازے بند کرکے کیا کر رہے تھے؟ بارے آج خلوت ہے۔ مینا خالی جو ہے (ناک سے رومال ہٹاکر) مگر بدبو بدستور آرہی ہے۔ سارا کمرہ متعفن ہے۔ 

    میرزا، کام کر رہا ہوں، اب یہ پرانی بحث ازسرنو شروع کرنے سے کیا حاصل، میرے کھانے پینے کے برتن تو الگ کر رکھے ہیں تم نے۔ 

    بیگم، تم نے وہ برتن بھی تو بیچ ڈالے، اب مٹی کے آبخوروں پر جام جم کے تصور میں خوش ہو رہے ہو نہ جانے تمہاری فاقہ مستی کیا رنگ لائے گی۔ مگر اچھا ہوا وہ سارا شیطانی کارخانہ بھی ساتھ ہی برباد ہوگیا۔ شراب سب کو لے ڈوبی۔ آخر تمہیں ایسی بدبودار چیز سے اتنی محبت کیوں ہے؟ 

    میرزا، (مسکرا کر )تم جیسی نکیرین کو بھگانے کے لیے، کہا جو ہے کام کر رہا ہوں۔ مطلب کی بات کہو۔ 

    بیگم، کام؟ کیوں کام کا نام بدنام کر رہے ہو۔ کیا کام تھا۔ 

    میرزا، کام کانام بدنام! ماشاء اللہ مقفے ٰ عبارت بولنے لگی ہو۔ آخر شاعر کی بیوی ٹھیریں۔ 

    بیگم، تم شعر بھی تو کام کے نہیں کہتے۔ 

    میرزا، (بگڑ کر) کیا ہوا میرے شعروں کو؟

    بیگم، یہی تو میں پوچھتی ہوں۔ نہ جانے کیا ہوا ہے ان کو۔ آغا عیش کی بیوی کہتی تھی کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آتے۔ 

    میرزا، سمجھ ہو تو آئیں۔ مگر تم اچھی بیوی ہو، دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملاتی ہو۔ 

    بیگم، سچ بولتی ہوں جھوٹ کی عادت نہیں مجھے، تمہارا ہی کہا کیا ہے۔ 

    میرزا، (مسکرا کر) بارے میرے شعر تو یاد ہونے لگے تمہیں۔ آہستہ آہستہ سمجھنے بھی لگوگی۔ 

    بیگم، تم نے کچھ کچھ میری زبان سیکھنی شروع کی ہے تو سلجھ گئے ہو ورنہ وہ آغائی اردو کسے یاد ہوسکتی ہے۔ ”ناخن تیشۂ مضراب نہیں۔ نہ جانے کیا تھا، حکیم عیش کی بیوی کچھ سنا رہی تھی۔“ 

    میرزا، (بگڑ کر) کیا بیہودگی ہے۔ میرا شعر کب ہے؟ یہ سب اسی بیگماتی آغا کی تہمت تراشی ہے۔ چاہتے ہیں میں بھی زنانی بولی لکھا کروں۔ ہم آبائی سلح بند ٹھیرے (تن کر) سو سال سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری۔ کچھ۔۔۔ 

    بیگم، (بیچ میں بات کاٹ کر) سچ کہتے ہو۔ واقعی یہ تمہاری قسم کی شاعری ذریعہ عزت نہیں ہوسکتی۔ اس میں تم سے وہ حجام کا لڑکا ہی اچھا رہا خاقانی، ہند، ملک الشعرا، نہ جانے کیا کیا کچھ کہلایا۔ کاش تم بزرگوں کی طرح سلح بند ہی رہتے۔ یہ شعر گوئی کیوں شروع کی۔ بزرگوں کانام ڈبونا ہی تھا تو کوئی اور کام کرتے، جس سے کچھ آمد ہوتی۔ 

    میرزا، کام تو کر رہاتھا۔ تم یو نہی تضیع اوقات کر رہی ہو۔ 

    بیگم، خاک کام کر رہے تھے۔ کیا کام تھا جو تالے چڑھا کر یوں جتے ہوئے تھے۔ 

    میرزا، اب تمہیں تو جب تک کوئی گھاس کھودتا نظر نہ آئے، کام معلوم نہیں ہوتا۔ قصیدہ لکھ رہا ہوں۔ بادشاہ سلامت کا اور آج رات دربار میں حاضری ہے، سنانا ہے۔ 

     

    بیگم، گھاس کھود سکتے تو یوں در و دیوار پر سبزہ تو نہ اگ رہا ہوتا، گھر صحرا معلوم ہوتا ہے۔ اتنا سبزہ ہے کہ بازار میں بیچنے سے رات کی روٹی کا سامان آجاتا۔ اسی لیے آئی تھی۔ نہ لکڑی ہے نہ کوئلہ، آرام کے اسباب تو کیا سامان خوردو نوش بھی نہیں، مہینے بھر سے روز کہتی ہوں ختم ہوگیا مگر تم ہر بار مذاق میں ٹال دیتے ہو۔ 

    میرزا، مہینہ بھر سے روز کہتی ہو اور ختم آج ہوا ہے۔ تم عورتوں کی کسی بات کا اعتبار کیا ہو۔ اور پھر میں کیا کروں ماما کو پیسے دو۔ منگوا لو۔ 

    بیگم، پیسے دو۔ منگوا لو! پیسے کہاں سے دوں؟ چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں؟ مردوں کی چھ ماہی کی طرح تنخواہ ملتی ہے تمہیں۔ ایک تہائی ساہوکار کے نذر ہوجاتی ہے، کچھ شراب و کباب میں اڑا ڈالتے ہو۔ جائداد پہلے ہی سے رہن ہے۔ خدا جانے تم شراب کیو ں پیتے ہو، خدا اور رسول کا خیال نہیں تو جیب ہی کا فکر ہوتا۔ شراب کی محبت ہے تو اگلے جہاں میں محرومی کے خوف ہی سے رک جاؤ۔ 

    میرزا، وہاں ملتی رہے گی، فکر نہ کرو۔ تمہیں عادت نہیں ہے، تم اپنا خیال کرو۔ اچھوپہ اچھو آئیں گے، ہمارا کیا ہے، ساقی کوثر کی بخشش پر سہارا ہے، اور یہاں تو تمہارے رویے کو برداشت کرنے اور بھلانے کی خاطر پیتا ہوں۔ کل بیمار تھا۔ اکیلا پڑا سڑا کیا، تمہیں اتنی توفیق نہ ہوئی کہ پوچھ لیتیں، شراب نہ پیوں تو اور کیا کروں۔ 

    بیگم، بیمار؟ زیادہ پی لی تھی اور کیا اور پھر تم نے خود ہی تو کہہ رکھا ہے۔ 

    ’’پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار۔‘‘ میں نے تمہارا کہا کر دیکھا۔ 

    میرزا، ساتھ ’’ہم سخن کوئی نہ ہواو رہم زباں کوئی نہ ہو‘‘ کی شرط بھی تو تھی۔ اس روز کی چڑچڑ سے تنگ آکر لکھا تھا۔ بھلا اس تو تو میں میں میں کیا کام ہوسکے، اور روپیہ کہاں سے آئے۔ 

    بیگم، تو کیا روپیہ کمانے کا کام کر رہے تھے؟ کیا تھا وہ کام؟

    میرزا، قصیدہ لکھ رہا تھا بادشاہ سلامت کا۔ 

    بیگم، تم روپیہ کمانے کا ذکر کر رہے تھے، ان قصیدوں میں کیا رکھا ہے، پہلے لکھ کر کیا ملا! سڑی ہوئی مونگ کی دال! اکڑی ہوئی بیسنی روٹی، سیم کے بیج! جو اب دعوے باندھ رہے ہو۔ یہی غنیمت ہے سال میں چند ٹھیکریاں مل جاتی ہیں جیسا کام ویسے دام۔ خدا جانے یہ سلسلہ بھی کس طرح قائم ہے۔ تمہارے شعر بھی تو اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ 

    میرزا، دیکھو، مذاق کی حد ہوتی ہے۔ میں نے تمہیں نماز پر کچھ ہنسی مذاق میں کہا تھا تو تم میکے چلے جانے کی دھمکیاں دینے لگی تھیں۔ میرے شعروں کے متعلق یہ اندازِ گفتگو جاری رکھا تو پھر میں بھی کھوٹے ہتھیاروں پر اتر آؤں گا۔ 

    بیگم، لیکن نماز تو فرمودۂ خدا ہے تمہارے شعروں سے کیا نسبت؟

    میرزا، میرے شعر بھی تو نوائے سروش ہیں۔ غیب سے مضامین آتے ہیں۔ 

    غالب اگر ایں فن سخن دین بودے 
    آں دین را ایزدی کتاب این بودے۔ 

    بیگم، ٹھیک۔ خدا کی باتیں خدا ہی جانے۔ غیب ہی سے مضامین آتے ہوں گے جو معنی یوں غائب رہتے ہیں اور زبان تو واقعی اوپر والی ہے۔ اس زمین پر بسنے والے تو نہیں بولتے، کم از کم دلی میں تو نہیں بولتے ہیں۔ 

    میرزا، دلی دلی! دلی کو میں کیا جانتا ہوں؟ خود اردو کی کیا حیثیت ہے؟ میرے معانی آنے والی نسلیں سمجھیں گی۔ 

    بیگم، صحیح ہوگا۔ مگر روٹی تو آج چاہیے۔ آنے والی نسلیں خدا جانے کب آئیں۔ قصیدہ تو بہادر شاہ، دلی کے بادشاہ کو سنانا ہے۔ 

    میرزا، اور ایسا لکھ رہا ہوں کہ بادشاہ سن کر پھڑک جائے۔ سنو کیسے پرزور اشعار ہیں، 

    اے شہنشاہِ آسماں اورنگ
    اے جہاندارِ آفتاب آثار

    تھا۔۔۔ 

    بیگم، (ٹوک کر) یہ پہلا شعر ہے کیا؟ مطلع کہاں ہے؟ 

    میرزا، مطلع مقطع کیا ہوتا ہے، تم شعر سنو۔ 

    اے شنہشاہ۔۔۔ 

    تھا میں اک بے نوائے گوشہ نشیں
    تھا میں اک درد مند سینہ فگار

    تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
    ہوئی میری وہ گرمیٔ بازار

    کہ ہوا مجھ سا ذرۂ ناچیز
    روشناس ثوابت و سیار

    گرچہ ازروئے ننگ بے ہنری
    ہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار

    کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکی
    جانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار

    شاد ہوں اپنے جی میں کہ ہوں
    بادشہ کا غلام کار گزار

    خانہ زاد اور مرید اور مداح
    تھا ہمیشہ سے یہ عریضہ نگار

    بارے نوکر بھی ہوگیا صد شکر
    نسبتیں ہوگئیں مشخص چار

    بیگم، اس میں آدھی فارسی ہے اور کام کی بات ندارد۔ یہ داستان ماضی ہے، آج کی حالت بیان کرو۔ مگر تمہیں سیدھاصاف لکھنا ہی نہیں آتا۔ میں یہ تھا اور میں وہ تھا، اب کیا ہو یہ کہو۔ لیکن اب وقت کم ہے اور ایسی مشکل زبان میں لکھنا کوہ کندن کے برابر ہے۔ 

    میرزا، کوہ کندن کیا۔ لکھنا کیوں نہیں آتا۔ میں کیا ہوں، یہ لکھوں۔ لو ابھی لو۔ (فی البدیہہ کہنے لگتے ہیں)، 

    آج مجھ سا نہیں زمانے میں
    شاعر نغزگوئے خوش گفتار

    رزم کی داستان گر سنیے
    ہے زباں میری تیغ جو ہردار

    بزم کا التزام گر کیجیے
    ہے قلم میرا ابر گوہر بار

    بیگم، (ٹوک کر) یہ اپنا قصیدہ کہہ رہے ہو کہ بادشاہ کا، مطلب کی بات کہو، صاف صاف کہو تنخواہ ماہوار چاہیے، اوپر سردیاں آرہی ہیں، کپڑے نہیں ہیں، آخر تم درباری ہو، تمہاری بے آبروئی دربار کی بے آبروئی ہے۔ قرضہ بڑھ رہا ہے۔ 

    میرزا، تو یہ بھٹ گری ہوئی۔ 

    بیگم، تو قصیدہ اور کیا ہوتا ہے۔ میری مانو، سیدھی سیدھی باتیں لکھو، مگر وہی آغا عیش کی بیوی کی بات، تم اس طرح لکھ ہی نہیں سکتے۔ 

    میرزا، لکھ نہیں سکتا؟ یوں واہیات بکنا کیا مشکل ہے۔ سن لو

    نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
    مدعائے ضروریٔ الاظہار

    پیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیں
    ذوقِ آرائش سرودستار

    کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
    تانہ دے بادِ زمہریر آزار

    کیوں نہ درکار ہو مجھے پوشش
    جسم رکھتا ہوں، ہے اگرچہ نزار

    کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سال
    کچھ بنایا نہیں ہے اب کے بار

    آگ تاپے کہاں تلک انسان
    دھوپ کھائے کہاں تلک جاندار

    دھوپ کی تابش آگ کی گرمی
    وَقِنَا رَبَّنَا عَذَاب النّار

    بیگم، (بیچ میں) بات ہوئی نا؟ اور وہ قرض اور تنخواہ کا معاملہ؟

    میرزا، (کان سے قلم اتار کر پھر لکھنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ پڑھتے جاتے ہیں)، 

    میری تنخواہ جو مقرر ہے
    اوس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار

    رسم ہے مردے کی چھ ماہی ایک
    خلق کا ہے اسی چلن پہ مدار

    مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
    اور چھ ماہی ہو سال میں دوبار

    بسکہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
    اور رہتی ہے سود کی تکرار

    میری تنخواہ میں تہائی کا
    ہوگیا ہے شریک ساہوکار

    ظلم ہے گر نہ دو سخن کی داد
    قہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار

    آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
    تانہ ہو مجھ کو زندگی دشوار

    بیگم، بات ہوئی نا؟ جب تم یو ں لکھ سکتے ہو تو پھر ہمیشہ اسی طرح کیوں نہیں لکھتے۔ دیکھ لینا داد بھی خوب ملے گی اور بادشاہ سلامت کو حقیقت حال بھی معلوم ہوجائے گی۔ 

    میرزا، خیر داد تو جو ملے گی، معلوم۔ البتہ قصیدہ گیا۔ چھتیس کے قریب اشعار ہوگئے ہیں، ایک دو دعائیہ راستہ میں لگادوں گا۔ ترتیب بھی بدل دوں گا، مکمل کام ہوگیا۔ چلو تمہارا کہا بھی کر دیکھتا ہوں۔ 

    (اتنے میں مغرب کی اذان سنائی دیتی ہے، بیگم نماز کے لیے زنانہ میں چلی جاتی ہیں اور غالب کپڑے بدلنے لگتے ہیں۔ کلاہ پیاخ کا ترچھا زاویہ بنا رہے تھے کہ بیگم لوٹ آتی ہیں)

    بیگم، کھانا ابھی کھاؤگے یا واپس لوٹ کر۔ 

    میرزا، کھانا؟ کہاں سے آگیا؟ اور تم اتنی جلدی کیسے لوٹ آئیں؟ نماز تو خدا کے دربار میں حضوری ہوتی ہے مگر تم کرو بھی کیا۔ آخر تمہیں نمازوں سے کیا حاصل؟ جنت میں ہم جائیں تو ہمیں حوریں ملیں گی، تمہیں کیا ملے گا؟ کوئی مسجد کا ملا، نیلا تہمد، کھدر کا کرتہ، کاندھے پر رومال، رومال میں حجرے کی کنجی، سر پر پگڑ۔ اور ہم۔۔۔ جناب دائیں طرف۔۔۔ 

    بیگم، (بگڑ کر) دیکھیے یہ تمسخر اب چھوڑیے، میں کہہ چکی ہوں خدا اور رسول کے احکام پر پھبتیاں نہ کیا کرو، یہ اسی کا وبال ہے کہ میرے بچے زندہ نہیں رہتے۔ عارف کو پالا تھا وہ بھی۔۔۔ (بیگم کی آنکھیں نمناک ہوجاتی ہیں۔ غالب بھی نمناک ہوجاتے ہیں، اتنے میں باہر سے کہاروں کی آواز آتی ہے، ’’پینس حاضر!‘‘)

    بیگم، نواب خیر سے سوار ہوجائیے اور کوئی اچھی خبر لائیے۔ 

    مرزا، (زیر لب) ع ’’بے مایہ چومائی کہ مرازرند ہی۔‘‘ کہتے ہوئے باہر چلے جاتے ہیں، بیگم زنانے میں لوٹ آتی ہیں۔ 

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY