Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

لفظوں کے سفر کی کہانی بھی بہت عجیب ہے۔ ایک لفظ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور ہم تک وہ کس صورت میں پہنچتا ہے، یہ سلسلہ بڑا دلچسپ ہے۔ قدیم ہندوستانی فوج پیادہ، گھڑسوار، ہاتھی اور رتھ پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس لئے سنسکرت زبان میں چَترُنگ کہلاتی تھی۔ انگ یعنی عضو اور چتر یعنی چار۔ جب دو فوجوں کے مقابلے پر بنا ایک کھیل ایجاد ہوا تو یہ ‘چترنگ’ کہلایا ۔ یہ لفظ فارسی میں 'شترنگ' کی صورت داخل ہوا اور فارسی سے متتقل ہوکر عربی میں 'شطرنج' بنا اور واپس اردو میں یہی مستعمل ہوا ۔ یورپی زبانوں میں اس کھیل کا نام اس کے ایک مہرے شہ یا شاہ کے ذریعے داخل ہوا اور کیسی کیسی شکلیں بدلیں، یہ ایک الگ کہانی ہے۔
جس چوکور خانوں والے کپڑے کو بچھا کر شطرنج کھیلی جاتی تھی اسے بساط کہتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شمالی ہند کے پرانے خاندانوں میں خواتین شطرنج کی بساظ کے دو رنگے چوکور خانوں کے طرز پر تخت پوش اور چادریں بناتی تھیں جو شطرنجی کہلاتی تھیں۔ روایتی طور پر اس میں لال ' ٹول' کے کپڑے اور'گزی' یعنی سفید سوتی کپڑے کے چوکور جوڑ کر سئے جاتے تھے۔