Filter : Date

Section:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

شکیل

شکیل بدایونی مشہور فلمی نغمہ نگار 'شاعرشباب' کہلاتے تھے. اپنی غزلوں اور ترنم سے مشاعرے لوٹ لینے والے شکیل بدایونی کو پہلی بار جو معاوضہ ملا تھا وہ پانچ روپے تھے۔ یہ 1937 کی بات ہے  جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے کر رہے تھے، شاعری کی شہرت ہو چکی تھی،  قصبہ اچھرہ کے رئیس نے ایک مشاعرہ کیا، جس میں شکیل نے خوب داد سمیٹی اور لفافے میں پانچ  روپے کا ایک نوٹ پایا تھا.
کئ سال بعد شکیل فلم ساز کاردار کے بلاوے پر دلی سے اپنی نوکری چھوڑ کر بمبئ گئے اور فلمی دنیا میں اپنے نغموں سے دھوم مچادی۔ سنگیت کار نوشاد اور شکیل کی جوڑی بہت کامیاب تھی، نوشاد چاہتے تھے کہ وہ کسی اور کے ساتھ کام نہ کریں۔ نوشاد انھیں ہر گانے کے پانچ ہزار روپے دیتے تھے۔ ہر فلم  ہٹ ہونے کے ساتھ نوشاد اپنا معاوضہ بڑھوا لیتے  لیکن شکیل کا معاوضہ نہیں بڑھاتے تھے۔ فلم "چودھویں کا چاند" ڈائرکٹ کرنے کے گرودت نے ابرار علوی کو فلم کی ہدایت سونپی تو وہ شکیل کو گیت کار کے طور پر لے کے آئے۔ گرودت نے معاوضے کی بات کی تو انھوں نے سادگی سے ایک گانا لکھنے کے پانچ ہزار مانگے تو گرودت مسکرائے اور ان کو ہر گانے کے لئے پچیس ہزار روپے کی پیش کش کی۔ فلمی نغموں کی کامیابی کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں بھی شکیل کی بہت مانگ تھی، اتنے مشاعروں میں بلائے جاتے کہ بیزار  ہو گئے تھے۔1958 کے اپنے ایک نجی خط میں وہ لکھتے ہیں  "اب  یہ عالم ہو گیا ہے کہ مشاعروں کے نام سے چڑ جاتا ہوں۔ شاعر بن کر خود کو پبلک پراپرٹی سمجھنے لگا ہوں". 

کیا آپ کو معلوم ہے؟

مرزا

غالب 13 برس کی عمر میں آگرہ سے دلی چلے آئے۔ یہاں کئی کرائے کے مکان بدلے۔ ان کا آخری مکان ایک مسجد کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد جو گھر حقیقی طور پر اُن کے نام سے مشہور ہوا، وہ دلی کے چاندنی چوک کے علاقے بلی ماراں کی گلی قاسم جان میں تین کمروں پر مشتمل گھر تھا، جہاں اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری نو سال گزارے۔ یہ اب غالب کی حویلی کہلاتا ہے۔ مولانا حالی اپنی عظیم کتاب "یادگار غالب" میں لکھتے ہیں کہ کچھ عرصے غالب اپنے دوست  کالے خان کے مکان پر بھی رہے۔ ایک زمانے میں یہاں لکڑیوں کی ٹال بن گئ تھی۔ اسے 1997 میں بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے حاصل کر کے اسے ہیریٹیج سائیٹ کی حیثیت دے دی۔ اس کے پیچھے دہلی کی ایک معروف ادبی اور سماجی شخصیت فیروز بخت اور ایک قانون داں اطیب صدیقی کی کوششیں شامل تھیں، جنھوں نے حویلی کو ہیرٹیج بنانے کے لیے عدالت میں ایک پٹیشن داخل کی۔ ایک طویل عرصے کی قانونی جنگ کے نتیجے میں بالآخر 8 اگست 1997 کو جسٹس چندر موہن نیر نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا کہ دہلی حکومت چھ ماہ کے اندر غالب کی رہائش گاہ کو محفوظ کر کے اس عظیم شاعر کے شایانِ شان ایک یادگار قائم کرے۔

کیا آپ کو معلوم ہے؟

اظہار

اظہار اثر (1929.2011)  ایک دلچسپ، ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ پہلے ایسے ادیب تھے جنھوں نے اردو میں تسلسل سے سائنس فکشن لکھا۔ صرف میٹرک پاس تھے لیکن اردو اور ہندی میں  تقریباؑ ایک ہزار سائنسی، سماجی اور جاسوسی  ناول لکھے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کئ برسوں تک کتھک رقص کا ریاض بھی کرتے رہے تھے، اسٹیج شو بھی کئے اور دوسروں کو بھی کتھک سکھایا۔ انھوں نے  200 سائنسی مضامین لکھے تھے جو ہند و پاک کے رسالوں میں شائع ہوتے رہے اور مضامین کے مجموعے "سائنس کیا ہے" اور "آج کی سائنس" بھی شائع ہوئے تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور انھوں نے سائنسی فکر اور امیجری کو نظموں میں ڈھالنے کی بھی کوشش کی۔ ان کے شعری مجموعے"لا شریک " میں زیادہ تر نظمیں سائنسی موضوعات پر ہیں۔ شمع گروپ کے جاسوسی ناول "مجرم" کے لئے "قانون والا" نام سے لکھا کرتے تھے۔ ان کا ایک ریڈیائ ڈرامہ "تیسری آنکھ" بے حد مقبول ہوا تھا اور آل انڈیا ریڈیو کے تمام اسٹیشنوں سے براڈ کاسٹ ہوا تھا۔ انھوں نے دوسرے لوگوں کے لئے ان کے نام سے قلیل معاوضہ لےکر سیرئیل بھی لکھے تھے۔ آزاد صحافی تھے اور کئ رسالے اور ڈائجسٹ بھی نکالے تھے ۔ 
میں تو افلاک سے آگے کا پرندہ ہوں اثر 
بال جبریل بھی شامل ہے مرے شہپر میں

کیا آپ کو معلوم ہے؟

وہ الفاظ جو گفتگو میں ہزاروں بار بولے جاتے ہیں ان پر غور کریں تو وہ بھی بہت سے روپ دکھاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ 'نہ' اور 'نا' کا ہے۔ 
گونجتی ہے تری حسیں آواز
جیسے نادیدہ کوئی بجتا ساز
جاں نثار اختر 
نادیدہ یعنی جو نظر نہ آرہا ہو۔ اور اسی سے ملتا جلتا لفظ ہے 'ندیدہ' یعنی لالچی شخص۔ اس کا لفظی مطلب یے، جس نے دیکھا نہ ہو۔ لالچی شخص کسی چیز کو ایسے ہی دیکھتا ہے جیسے اس سے پہلے کبھی اُس نے دیکھی ہی نہ ہو۔ 'نا' دوسرے لفظوں کے ساتھ جڑ کر نفی کا کام کرتا ہے۔ جیسے 'نالائق 'ناخوش' وغیرہ ۔
' نہ ' اور 'نا' اور 'نہیں' کہاں استعمال ہوگا کہاں نہیں اس بارے میں اہل زبان خوب جانتے ہیں ۔ 'نہ'  کہاں لکھا اور بولا جائے گا غالب کے اس شعر سے واضح ہے  : 
 
نہ سنو گر بُرا کہے کوئی
نہ کہو گر بُرا کرے کوئی
لیکن فلمی شاعری میں جاوید اختر کے لکھے مشہور گانے میں "کچھ نا کہو ۔ کچھ بھی نا کہو" موسیقی کی ضرورت کے تحت لکھا گیا ہے اور کچھ ایسا بُرا بھی نہیں لگتا۔ اب اہل زبان چاہے جو بھی کہیں۔
'نا‘ کا استعمال اردو میں تاکید اور تائید کے لیے بھی ہوتا ہے: 
کسی بزرگ کے بوسے کی اک نشانی ہے
ہمارے ماتھے پہ تھوڑی سی روشنی ہے نا

کیا آپ کو معلوم ہے؟

جوشؔ

جوش ملیح آبادی نے چند برس پونا میں شالیمار اسٹوڈیوز میں گزارے اور وہاں چند فلموں کے لئے گانے لکھے۔ 1944میں ریلیز ہوئ  مشہور فلم "من کی جیت" جو مشہور انگریزی مصنف تھامس ہارڈی کے ناول"  Tess of the d'Urbervilles "  سے ماخوذ  تھی اور ڈبلیو زیڈ احمد کی ہدایت کاری میں بنی تھی، اس فلم کے سات میں سے چھ گانے جوش نے لکھے تھے۔
  اس فلم میں ان کا ایک  گیت زہرا بائ انبالے والی کا گایا ہوا بہت مشہور یوا تھا۔ 
  " مورے جبنا کا دیکھو ابھار "حکومت وقت کو اس کا مکھڑا فحش لگا تھا اور اس گیت کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر کرنے پر پابندی عائد کردی گئ تھی۔ حالانکہ اس گیت میں محبوبہ کے حسن کی مثالیں بہت انوکھی تھیں : 
جیسے بھونروں کی جھوم
 جیسے ساون کی دھوم 
جیسے ساگر کی بھور 
جیسے اڑتا چکور 
جیسے ندی کی موج
 جیسے تُرکوں کی فوج
 بالکل اسی انداز پر برسوں بعد جاوید اختر نے فلم " 1942 اے لو اسٹوری" کےلئے گانا لکھا تھا "ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا "
جوش نے جتنی بھی فلموں کے لئے گانے لکھے وہ کبھی پہلے سے ترتیب دی ہوئ  موسیقی کے مطابق نہیں لکھے بلکہ ہمیشہ فلم کی سچوئیشن کے مطابق تحریر کئے۔ ان فلموں کے ہدایت کار اور موسیقار کی ذمہ داری تھی کہ وہ انھیں موسیقی  میں ڈھالیں۔