Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اردو ادب اور عالم گیریت

سراج انورمحمد میراں

اردو ادب اور عالم گیریت

سراج انورمحمد میراں

MORE BYسراج انورمحمد میراں

    عالم گیریت انگریزی اصطلاح (Globalization) کا ترجمہ ہے۔ اس سے مراد دورحاضر کا ایک ایسا جدید تر معاشی اور سماجیاتی نظام ہے جس کے ماتحت دنیا بھر میں یکساں زندگی کے فروغ کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گلوبلائز بیشن کے تحت دنیا بھر میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں نے انسانی تاریخ کے ایک نئے عہد کا آغاز کر دیا ہے۔تاہم ابھی کچھ پیچیدگیوں کے باعث دنیا پرگلوبلائزیشن کے اثرات کو عام آدمی کے لیے مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ عالم گیریت کو کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، کرنا چاہے یا نہ کرنا چاہے مگر یہ مظہر برا بر اثر پذیر اور اپنے اہداف کے حصول کی طرف عمل پیرا ہے۔ میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے دنیا کے دور دراز علاقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دنیا ایک’’ گلوبل ولیج ‘‘کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نئے بین الاقوامی رجحانات، مسائل، تجزیات، علوم سے استفادہ کر رہا ہے اور کسان اور تا جروں کو معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع حاصل ہورہے ہیں۔ گلوبلائزہ پیشن نے مجموعی طور پر انسانی زندگی کے کم و بیش سبھی شعبوں کی کایا کلپ کی ہے اور اس طرح مذہب کی بجائے عقلیت، برادری کی بجائے افراد بیت، روحانیت کی بجائے مادیت، مابعد الطبیعیات کی بجائے سائنس، کلیت کی بجائے تجزی تفصیل کی بجائے اختصار باطن کے بجائے ظاہر، وضاحت کی بجائے ابہام کے رجحانات سامنے آئے ہیں۔

    گلوبلائز یشن کے عمل کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسے تیز تر ذرائع نقل وحمل سے فاصلے مٹ گئے ہیں۔ میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے معلومات کی ترسیل میں برق رفتاری آئی ہے۔ پس ماندہ ممالک کے عوام بین الاقوامی رجحانات اور علوم سے استفادہ کر رہے ہیں۔ پس ماندہ ممالک کے عوام جدید ترین تحقیقات و ایجادات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دنیا ایک’’ گلوبل ولیج ‘‘بن گئی ہے اور مختلف معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع مل رہا ہے۔ کسانوں کو جدید طریقہ زراعت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری سے روزگار میں اضافہ ہوا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سرمائے کی عالمی تر میل ممکن ہوئی ہے اور کاروباری مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔ مقابلے کی منڈی کی وجہ سے اشیا کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ غیر ملکی تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ صارف دوست کلچر وجود میں آیا ہے جس سے صارف کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تکنیکی معلومات کا حصول ممکن اور آسان ہوا ہے۔ مختلف ثقافتیں ایک دوسری سے متعارف ہوئی ہیں تعلیم عام ہوگئی ہے۔ جرائم اور غیر اخلاقی اقدار کے لیے بین الاقوامی قانون سازی کی گئی ہے۔ ماحولیاتی بچاؤ کی عالمی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جانوروں کے حقوق سے آگاہی اور قانون سازی ہوئی ہے۔سمندری حیات کا تحفظ ممکن ہوا ہے۔ جنگلی حیات کا تحفظ ممکن ہوا ہے جس سے مختلف انواع کے نا پید ہونے کا عمل مست کیا گیا ہے۔ جغرافیائی رکاوٹیں دور ہوئی ہیں۔

    گلوبلائزیشن نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب زبان اور ادب کے لیے بھی الگ تھلگ رہ کر اپنا وجود قائم رکھنا ممکن نہیں۔ جب زندگی یا معاشرہ کسی نے عمل، اند از طریق کا ریا نظریے سے متاثر ہوتا ہے تو لا محالہ ادب اور زبان بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ گلوبلائز یشن کے زیر اثر دنیا میں رابطے اور علمی اور ادبی ترسیل کی یکساں زبان کے فروغ کی کوششوں کے سلسلے میں اردو سمیت دنیا کی سب زبانیں متاثر ہوئی ہیں۔ اردو زبان میں انگریزی اور دیگر زبانوں کے نفوذ نے صرف اس کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ کر کے اس کا دامن بے حد وسیع نہیں کیا بل کہ زبان کی صرفی اور نحوی ترتیب کو بھی متاثر کیا ہے اور مزید کر رہا ہے۔ اس سے اردو زبان کی گر امر بھی تبدیل ہو رہی ہے اور اس تبدیلی سے اردو زبان کا حلیہ بدل رہا ہے۔ اردو کے رسم الخط میں تبدیلی کر کے انگریزی رسم الخط کو شامل کیا جارہا ہے اور انگریزی، اردو کو سخت کر کے نئے افعال گھڑے جارہے ہیں مخلوط زبان بھی اردو پر عالم گیریت کے اثرات کی مرہون ہے اور ایسے فقرے اور جملے بہت روانی سے تحریر و تقریر میں مستعمل ہیں:

    میں بہت بور ہو رہا ہوں۔

    مجھے بڑائی ٹینشن ہے۔

    میں نے اسے کال کی لیکن اس کا فون بزی جار ہا تھا۔

    اس طرح کی مخلوط زبان شعر و ادب میں بھی جگہ بنا چکی ہے،

    جو کمیٹی کا بھی ممبر ہو گیا

    وہ بھی تقریاً منسٹر ہو گیا

    اس کی اردو میں تھی انگریزی بہت

    لوگ سمجھے یہ کمشنر ہو گیا۔

    بیرونی اصطالحات کے استعمال کو ہم تین صورتوں میں استعمال کرتے ہیں۔ پہلے نمبر.

    بیرونی اصطلاحات کے استعمال کو ہم تین صورتوں میں استعمال کرتے ہیں۔ پہلے نمبر پر ان اصطلاحات کو جوں کا توں قبول کر کے رائج کر دیا جاتا ہے جیسے کمپیوٹر (Computer)ٹرک (Truck)، سی ڈی (CD) فریم (Frame) فنون (Phone) کال (Call)، انٹرنیٹ (Internet)، ویب سائٹ (Website) وغیرہ۔ دوسرے نمبر پر وہ اصطلاحات ہیں جن کا اردو زبان میں ترجمعہ کر لیا جاتا ہے جیسے Globalization سے عالم گیریت، Criticism سے تنقید Capital سرمایہPsychology سے نفسیات Economics سے معاشیات، Symbolism علامت نگاری، Absurdism سے لایعنیت وغیرہ۔ تیسری قسم ان اصطلاحات کی ہے جن کو مورد کرالیا جاتا ہے جیسے Montage کو مونتاژ، Collage کو کولاژ، Sabotage کو سبوتاثر، Hospital سے ہسپتال اور بعد ازاں اسپتال، Towell سے تولیہ وغیرہ۔

    انگریزی کے تتبع میں اضافتوں کے خاتمے اور علاقائی زبانوں۔لہجوں، کلوکیل زبان، جار گن اور سلینگ کا بھی معیاری زبان کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح طر ز زندگی کے تبدیل ہونے کی وجہ سے اس کی تحریری پیش کش یعنی ادب بھی نئی کروٹیں لے رہا ہے۔ آج دنیا بھر میں تخلیق ہونے والا ادب ہر جگہ پر بڑی سرعت سے پہنچ جاتا ہے جو مقامی ادب اور ادیب دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح عالم گیر واقعات اور تبدیلیوں سے بھی ادب اور ادیب متاثر ہوتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت اردو ادب بھی عالم گیریت کے عمل سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے اور اس میں موضوعات، پیش کش، اسلوب اور تکنیک کے حوالے سے نئے تجربات کیے جارہے ہیں جو کہ گلوبلائز یشن ہی کی عطا ہے۔

    گلوبلائزیش کے عمل نے دنیا بھر کے لوگوں کی زندگیوں کو بہت حد تک بدل دیا ہے جس کی وجہ سے ان کا ادب بھی تبدیل ہوا ہے۔ گلوبلائز بیشن نے دنیا بھر کی زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب کو متاثر کیا ہے اور ان کو قریب لانے اور فکری ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اردو میں اب نظموں کے عنوانات انگریزی میں رکھنے کا چلن بہت بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے آپ کوئی رسالہ یا کوئی نیا شعری مجموعہ دیکھیں تو ان میں بہت کی تعداد ایسی نظموں اور غزلوں کے اشعار کی مل جائے گی جو کسی بین الاقوامی زاویہ نظر سے متاثر محسوس ہوں گے۔ اردو ادب میں ایسی نظموں کے عنوانات عموماً تین طرح سے ملتے ہیں۔ پہلے نمبر پر وہ نظمیں ہیں جن میں نظم کے انگریزی یا بدیسی عنوانات کو اردو حروف ہجا میں لکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آٹوگراف از مجید امجد، آرٹسٹ‘‘ از سید ضمیر جعفری: آفس آرڈر از یوسف کامران آئیڈیل از حفیظ صدیقی اسپیشلسٹ از انور مسعود وغیرہ۔ دوسرے وہ جن میں اردو اور بدیسی زبانوں کا ملغوبہ بنا کر عنوان تخلیق کیا جاتا ہے جیسے’’ آج ڈالر کا کیا ریٹ نکلا‘‘ از معین نظامی: ’’آج میر اول ایفریقا ہے‘‘ ار قسم کا میری’’ آنکھوں کا عطیہ رجسٹرڈ کرانے پر‘‘ از جمیل الدین عالی ''اپاہج ماں مٹی کی گولڈن جوبلی ‘‘از کشور ناہید’’ اسٹیل ملز کا ایک خصوصی مزدور ‘‘از پروین شاکر’’ اسکول آگیا‘‘ از سید ضمیر جعفری وغیرہ۔ تیسرے نمبر پر ایسی نظمیں ہیں جن میں عنوان اور زبان دونوں ہی بدیسی اپنا لیے جاتے ہیں۔ ان میں Friendship Band از حمار Good Morning از رفعت ناہید GOOD TO SEE YOU از پروین شاکر HORSE TRADING از کشور ناہید HOT LINE از پروین شاکر II MISS YOU از پروین شاکر، Impossible از وصی شاہ اور اسی قبیل کی دیگر نظمیں شامل ہیں۔

    جدید اردو شاعری نے فکری طور پر دنیا میں ہونے والے اہم اور متاثر کن واقعات سے گہرا اثر لیا ہے اور اب شاعر کا میدان نظر بہت وسیع ہو گیا ہے۔ عالم گیر یکساں ثقافت نے یکساں مسائل پیدا کئے ہیں جن سے یکساں سوچ اور فکر کا مرحلہ سامنے آگیا ہے۔ اردو شاعری میں موضوعاتی سطح پر جو پھیلا ئو آیا ہے اس میں گلوبلائز بیشن کا بڑا ہاتھ ہے۔ تنہائی و بیگانگی، پیدائش اور موت کا مسئلہ، تصور زمان و مکاں، انسان کی کم ادر اکی، زندگی کی لامرکز بیت، بے معنویت اور لایعنیت، رائیگانی کا احساس، ڈر اور خوف، ڈپریشن، تشکیک، امید اور عزم، رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، تصویر معاشی، جنگیں اور ان کے امکانات، دہشت گردی اور عدم تحفظ تسخیر کائنات، لا حاصلی تیل اور اس کے حصول کی لڑائی، دیگر زبانوں کی اساطیر، سائنسی افکار و اصطلاحات میڈیا اور سائبر ورلڈ کی پیش کش، تیسری دنیا کی بے بسی، مزاحمت، تائیثیت، مدنیت، ماحولیات، شاعری اور ادب، اردو ادب میں گلوبلائزیشن کے زیر اثر ورود کرنے والے یا اس کی وجہ سے پہلے سے تبدیل شدہ حالت میں جانے والے موضوعات ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں کے تراجم سے بھی ایسے موضوعات اردو ادب اور شاعری کا حصہ بن رہے ہیں جن کا تعلق دور دراز معاشروں اور دیگر ممالک میں تخلیق ہونے والے ادب سے ہے۔

    اردو کی جدید شاعری نے فنی حوالوں سے گلوبلائز یشن کی لہر کے زیر اثر دنیا کی دیگر زبانوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب سے بہت استفادہ کیا ہے جس سے اردو شاعری کو وسعت اور وقار نصیب ہوا ہے۔ اردو شاعری نے دیگر معاشروں اور زبانوں کے ادب سے نئی تکنیکیں اور ہیتیں وصول کی ہیں۔ اس کے علاوہ اردو شاعری میں بہت کی اصناف سخن ایسی ہیں جو دیگر علاقوں اور زبانوں سے آئی ہیں۔ اردو شعرا نے بہت سی بیرونی اصناف ادب کو اختیا ر کر کے اردو ادب کا دامن وسیع کیا ہے۔ اردو ادب اور بالخصوص اردو شاعری نے گلوبلائز بیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کے زیر اثر دیگر ممالک اور زبانوں کے ادب سے فنی طور پر بھی بہت کچھ اخذ و قبول کیا ہے۔ اردو شاعری میں گلوبلائز یشن کے تحت دوسرے ممالک اور زبانوں کے ادب سے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ گلوبلائز یشن کے عمل نے جہاں ہماری معاشرت کو متقلب کیا ہے وہیں ہمارے ادب کی بھی کایا کلپ کر دی ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری مقامی اور روایتی اصناف کو بھی تبدیلی کے عمل سے گزرنا پڑا ہے اور ابھی مزید تبدیلی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان اصناف کی ہیت میں جزوی اور تجرباتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے نہ صرف ان کے داخل و خارج کو نئی شکل دی ہے بلکہ ان کے مسلمات سے بھی انحراف کیا ہے۔ اس رجحان کی ادبی اور اظہاری صورتیں آزاد غزل، اینٹی غزل اور نثری غزل وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ بدلتے ہوئے معاشی اور معاشرتی نظام میں کئی اصناف مثلاً قصیدہ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہی اس لیے وہ بتدریج معدوم ہوتی چلی جارہی ہیں۔ یہی نہیں عالم گیر نظام حیات میں مختلف بین الاقوامی کتابیں، نظریات، ایجادات، اشیا اور شخصیات بھی اردو نظموں کا موضوع ہیں۔

    عربی اور فارسی تو خیر اردو کے ماخذ ہیں اور ان کا استعمال لابدی ہے مگر اردو زبان دیگر زبانوں کے الفاظ بھی اختیار کر کے اپنے ذخیرہ لغت میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان زبانوں میں بین الاقوامی زبانوں کے ساتھ ساتھ بالا دست اور دور دراز ممالک کی زبانیں اردو شاعری میں شامل ہورہی ان تمام عوامل کو بلا خوف استرداد گلوبلائزیشن کا براہ راست اثر کہا جا سکتا ہے۔ گلوبلائز بیشن کا عمل ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے سرایت کر گیا ہے جس نے ہماری معاشرتی زندگی اور ہمارے سماجی روحانی اور اخلاقی نظام کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ہمارے تخلیق کاروں اور ناقدین نے عالم گیریت کے اس عمل اور ردعمل کا شدید تر محسوس کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تخلیقات بشمول فکشن اور تنقید میں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے ہمارے سماج پر پڑنے والے اثرات کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص مغربی دنیا سے اند از نظر، فکر و فلسفہ اور دیگر انسانی سماجی اور ادبی مظاہر کو قبول کیا ہے اور اردو دان طبقے کو ان تبدیلوں سے روشناس کرولیا ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو قریب لا کر ان میں فکر و عمل کی یکسانیت پیدا کر رہی ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو ہمارے تخلیق کار اور ناقدین گلوبلائزیشن کی روایت سے پوری طرح مربوط ہیں اور وہ گلوبلائز یشن کے ماتحت ہونے والے تبدیلیوں کو اردو ادب اور تنقید میں سمو کر اہم عصری تقاضے کو نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان موضوعات کو کھل کر اپنی تحریروں میں بیان کیا ہے جن کا تعلق بین الاقوامی فکر اور عالمی طرز احساس سے ہے۔

    ارود زبان میں لکھے جانے والے جدید ناول جدید شعور اور جدید تکنیک اور اسلوب میں لکھے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے جدید اردو ناولوں کا منظر نامہ بھی بین الاقوامی ہے اور ان میں تکنیک، ہیت، الفاظ، اند از معاشرت اور لباس سے لے کر کھانے پینے، رہنے سہنے اور سوچنے تک تمام موضوعات اور فنی خصائص میں گلوبلائز یشن کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ دور حاضر کے ناول نگار نہ صرف اپنی تہذیبی، سماجی، اور فکری روایت کے ساتھ ساتھ وہ عالمی برادری کا بھی حصہ ہیں اور عالمی ادب کے وسیع مطالعے کی وجہ سے ان کی فکری اور موضوعاتی سرحدیں اب پوری دنیا تک پھیل چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ گلوبلائز بیشن کی لہر کے زیر اثر ناول میں ایسے موضوعات کثرت سے در آئے ہیں جن کا تعلق عالمی مسائل اور بین الاقوامی فکری دھارے سے جڑا ہوا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی خطے میں رونما ہونے والے واقعات، بین الاقوامی شخصیات تازہ ترین تحقیقات اور ایجادات نت نئے فلسفے اور تازہ ترین خیالات اور نظریات اردو ناول کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسی طرح اگر چہ افسانہ خالصتاً مغربی مصنف ادب ہے اور اس کا اردو ادب میںدرددہی عالم گیریت کے اردو پر اثرات مرتب ہونے کی نشان دہی کرتا ہے۔ عہد موجود میں لکھے جانے والے اردو انسانوں کے نام دیکھ کر بھی ان کے موضوعات اور ان کی پیش کش کے عالمی تناظر کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان افسانوں میں ان موضوعات کو پیش کیا گیا ہے جن کا تعلق گلوبلائز بیشن سے ابھرنے والے بین الاقوامی معاشرے سے ہے۔ دیگر اصناف سفرنامہ وغیرہ میں بھی عالم گیر میت کی واضح جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

    نائن الیون (۱۱؍۹) کا واقعہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں بھی بہت گہرے اثرات کا حامل ہے۔ 11/9 کے دھماکے کے ساتھ تہذیبوں کے تصادم کا آغاز ہوا اور اس کی گونج ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور دنیا کے لیے ایک منفرد واقعہ تھا جس نے پوری دنیا کوکسی نہ کسی اند از میں متاثر کیا۔ اس واقعے کے بعد دنیا واضح طور پر دو ادوار میں تقسیم ہوگئی۔ اردو میں اکیسویں صدی میں لکھے جانے والے بیشتر ناولوں میں اس موضوع کو بڑے یا چھوٹے پیمانے پر موضوع بنایا گیا ہے۔

    مستنصر حسین تارڑ اپنے ناول ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ میں لکھتے ہیں،

    ’’و ٹیلی ویژن پر اس امریکی کربلا کا ایک ایک لمحہ ہزاروں بارہ ہر لیا جا رہا تھا اور یہ باور کر لیا جا رہا تھا کہ صرف دو نہیں، ہزاورں ٹریڈ نا ور منہدم ہورہے ہیں اور سینکڑوں طیارے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ مناظر اس تواتر سے اتنی بار سکرین پر دکھائے گئے کہ ہر امریکی کے بدن پر تصویروں کی صورت ثبت ہو گئے۔ ان کے ذہنوں پر ایک ٹیٹو کی مانند گندھے گئے ۔‘‘

    اسی طرح اردو افسانے میں بھی نائن الیون کا موضوع بھر پور طریق سے اجاگر کیا گیا ہے بل کہ اردو افسانے میں نئی صدی کا سب سے بڑا موضوع یہی ہے۔ مبین مرزا اپنے افسانے ’’دام وحشت‘‘ میںلکھتے ہیں:

    ’’ امریکا میں گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے واقعے کے بعد جس طرح دنیا کے حالات تبدیل ہوئے تھے ان کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے اس نے یہی فیصلہ کیا کہ اب گرین کارڈ لے ہی لینا چاہیئے ۔

    میڈیا کی وجہ سے نظریات تحریکوں، افکار، خیالات اور معلومات کے ایک جگہ سے دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا صرف ممکن ہو گیا ہے بل کہ بہت تیز بھی ہو گیا ہے۔ اس وجہ سے کوئی نظر یہ میڈیا کے توسط سے بہت کم عرصے میں دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔ میڈیا بشمول اخبارات، ریڈیو، کیبل نیٹ ورک ہیٹیلائیٹ، ڈش انٹینا، ٹی وی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب، سکائپ اور مختلف بلاگز اور پیچیز وغیرہ) کے ذریعے لوگوں میں نظریہ سازی کے عمل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا بھر کے سیاست دان، فمن کار، فلاسفہ اور شعر او اد با اپنے اپنے خیالات وافکار منشور تخلیقات کی تشہیر کے لیے میڈیا کو بطور آلہ استعمال کرتے ہیں۔ میڈیا کی زندگی میں سرایت کرنے کے ساتھ ہی یہ ادب کا بھی اہم موضوع ہے۔ عمار مسعود اپنے افسانے’’ مٹی تلے دبے بیس سال‘‘ میں اس کی اہمیت یوں بیان کرتے ہیں:

    یہ مارکیٹنگ کا دور ہے۔ اس دور میں آہنگ بلند رکھنا پڑتا ہے۔ خالی خولی تبسم سے کام نہیں چلتا۔ اپنے آپ کو منوانے کے لیے اپنے ہی حق میں نعرہ لگانا پڑتا ہے۔

    اسی طرح کمپیوٹر کی دنیا یا سائبر ورلڈ نے، جس میں موبائل فون، کیبل ٹی وی نیٹ در کنگ، انٹر نیٹ اور سیٹیلائیٹ نشریات سب کچھ شامل ہے، بہت کم عرصے میں ساری دنیا کو نہ صرف اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے بل کہ اسے اپنا دست نگر بنا لیا ہے۔ نئے ناولوں میں اس ان دیکھی دنیا کی پیش کش کافی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ مرزا اطہر بیگ کا ناول’’ صفر سے ایک تک‘‘ مکمل طور پر سائبر ورلڈ سے متعلق ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

    ’’پہلے تو مجھے اس لا خلا سے اپنے ذاتی تعلق کی وضاحت کرنی ہوگی جوسائبرسپیس کہلاتا ہے۔ جو دنیا بھر کے کمپیوٹروں کے ادغام سے جنم لینے والا لامکاں ہے اور جس میں سفر کا آغاز کرنے کے لیے آپ انٹرنیٹ کے برقیاتی دروازے پر اپنے ماؤس کی کلک سے دستک دیتے ہیں اور پھر digitalpulse کی گاڑی پر سوار ہو کر منزلیں طے کرتے جاتے ہیں۔‘‘

    اسی طرح گلوبلائز یشن کے عمل نے سائبر ورلڈ کو اردو افسانے کا بھی موضوع بنا دیا ہے اور اکیسویں صدی میں بہت سے ایسے افسانے لکھے جارہے ہیں جو سائبر کی دنیا کے اسرارورموز بیان کرنے کے ساتھ ساتھ حیات انسانی پر اس کے اثرات پر بھی فوکس کئے ہوئے ہیں۔ نیر اقبال علوی اپنے افسا نے ’’گلوبل پہنچ‘‘ میں کمپیور اور اس کے متعلقات کو انسانی رشتوں کی تعمیر و تخریب کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

    ’’یہ لوگ اگر انٹرنیٹ پر تعلق استوار کر سکتے ہیں، اور موبائل فون پر رشتے توڑنے کی ریت کو جنم دے سکتے ہیں، تو انہیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔‘‘

    تارکین وطن گلوبلائز یشن کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہیں جو دوسرے ممالک کے ساتھ تعلق استوار کرنے اور وہاں کی ثقافت کو اپنے ملک میں لانے اور اپنی ثقافت کو میز بان ملک میں لے جانے کے لیے براہ راست آلہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ عالم گیر معاشرے میں دنیا کے بڑے بڑے شہروں اور بالخصوص ترقی یافتہ ممالک کے شہروں میں ایسی مخلوط کمیونٹی کا ظہور ہوا ہے جہاں ایک جگہ پر کام کرتے ہوئے یا کہیں انتظار گاہ یا کسی کافی بار میں بیٹھے لوگ بیک وقت کئی کئی ملکوں اور الگ الگ ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس مخصوص جگہ پر کسی نہ کسی وجہ سے اکٹھے ہونے کے باعث ایک عالم گیر معاشرہ وجود میں آجاتا ہے جس میں کئی مقامی ثقافتیں مل کر ایک بڑی اور عالم گیر وسعت میںقسم ہوکر بین الاقوامی معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔ نجم احسن رضوی نے اپنے افسانے ’’آکسیجن ‘‘ میں ایک ہسپتال کی چھت کے نیچے کئی ملکوں کے تارکین وطن کو جمع کر کے یوں عالم گیری معاشرہ تشکیل دیا ہے:

    ’’وہ اپنے گھروں سے دور تھے اور اجنبی ملک کے ایک دور افتادہ شہر میں واقع سرکاری ہسپتال کی ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہو گئے تھے۔ ندیم ہڈیوں کا ڈاکٹر تھا جب کہ ایمان عورتوں کے امراض کی ماہر تھی۔ وہ جنوبی لبنان سے آئی تھی۔ اشوک خالص بمبئی والا تھا جودل کی حراحت کے شعبے میں خاصا سینئر سر جن تھا اس کی بیوی امرنا بچوں کی ڈاکٹر تھی۔ محمد طلحہ مصری تھا اور نفسیات کے شعبے میں اپنی مہارت دکھا رہا تھا۔۔ جاپان کا اکی ہوتا اس منڈلی میں اپنے فلسفیانہ افکار کی وجہ سے مقبول تھا۔‘‘

    اس کے علاوہ جدید نثری ادب میں گلوبلائز یشن کی وجہ سے جدید علوم، تہذیبوں کا تصادم، جنگیں، دہشت گردی جدید طرز حیات، سائنسی شعور، تیسری دنیا کا اضطراب، حصول معاش، مزاحمت، عالمی حالات و واقعات، معاشرتی تقلیب، عالمی ادب سے جڑت، ماحولیات، عالمی خوراک، جنس، تاریخ کی بازیافت جیسے موضوعات بھی بہت اہم ہیں جن کی موجودگی سے اردو ادب کا عالمی معاشرے سے ربط بنتا ہے اور عالم گیر میت کی صورت گری ہوتی ہے۔ اس طرح اردو لکشن اور تنقید کو وہ وسعت حاصل ہوئی ہے جو عہد جدید میں وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    گلوبلائز یشن نے جہاں اردو فکشن پر فکری اثرات ڈالے ہیں اور اسے جدید تر طر ز احساس اور نئے نئے موضوعات سے روشناس کروایا ہے وہیں اس کو نئے نثری پیکر، اصناف اظہار، ادبی تکنیکیںاور زبان وبیان کے دیگر فنی لوازم بھی عطا کیے ہیں۔ اردو زبان میں دیگر زبانوں کے الفاظ کے ورود کا سلسلہ بہت پرانا ہے لیکن اب یہ عمل گلوبلائزیشن کی وجہ سے بہت تیز ہوگیا ہے، پہلے اردو زبان عربی فارسی سے الفاظ و تراکیب مستعار لیتی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی بولیوں کے الفاظ شعوری اور لاشعوری طور پر اردو میں داخل ہوتے رہتے تھے لیکن اب اخذ و قبول کا یہ سلسلہ مختلف بر اعظموں تک پھیل گیا ہے اور اردو میں بالخصوص یورپی زبانوں کے الفاظ، بہترتر اکیب اور اصطلاحات بہت تیزی سے اور بڑی مقدار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تنقیدی بخشیں اور نئے نئے ادبی نظریات بھی یورپ اور امریکہ سے درآمد ہوتے ہیں اس لیے ان کے متعلقات بھی ساتھ ہی چلے آتے ہیں۔

    جدید اردو دو فکشن میں زبان کے حوالے سے بھی بہت سے تجربات کیے گئے ہیں اور ایک ایسی مخلوط زمان سامنے آئی ہے جس میں دیگر زمانوں کے الفاظ بھی کثرت سے شامل ہیں۔ اور ایسا ہونا اس مخلوط زبان سامنے آئی ہے جس میں دیگر زبانوں کے الفاظ بھی کثرت سے شامل ہیں۔ اور ایسا ہونا اس لیے بھی یقینی تھا کہ ہماری روزمرہ بول چال کی زبان بھی تو بہت حد تک مخلوط ہوگئی ہے۔ اردوفکشن میں کہیں تو ہمارے ادبیوں کا رجحان اردو میں بین الاقوامی زبانوں مثلاً انگریزی وغیرہ کے الفاظ کے ادغام کی طرف ہے تو بعض ادیب اس میں مقامی زبانوں محاورے اور لب و لہجے کو شامل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے ادیب بھی بہر حال موجود ہیں جو زبان کی عہد بہ عہد اور خطہ بہ خطہ بدلتی صورت حال کو تحقیقی طور پر استعمال کرتے ہوئے زبان کی بازیافت کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں بے شمار الفاظ اور تراکیب دیگر زبانوں سے ترجمعہ کر کے شامل کی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اردو زبان کا دامن وسیع ہوا ہے۔ انٹرنیٹ پر کی جانے والی برقی پیغام رسانی جو تحریری پیغامات بھیجنے کی جدید اور تیز ترین صورت ہے، برقی مخطوط یعنی ای میل (Email) اور برقی تحریری گفتگو یا چیٹ Chat کہلاتی ہے۔ یہ ای میل اور چیٹ اب ہمارے بہت سے سماجی عوامل میں مستعمل ہے اور عدالتوں میں بطور گواہی اور ثبوت کے استعمال ہورہی ہے۔ اسی طرح ادب میں بھی اس کو بطور متن شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح مرغی اشیا کو غیر مرتی اور غیر مرئی اشیا کو مرتی قرار دے کر تجرید کا استعمال بھی گلوبلائز یشن کا مرہون منت ہے۔ رشید امجد کے افسانے ’’شیشہ دید سے دور‘‘ میں تجرید کی ایک مثال دیکھیں:

    ’’پھر اس کا ہونا نہ ہونے میں بدل گیا، ایک طویل عرصہ وہ ہوتے ہوئے بھی نہ تھا، وقت کے ساحر نے اس کے وجود کو تو باقی رہنے دیا تھا لیکن اس کے اندر سے ساری قوتوں کو سلب کر لیا تھا کہ وہ تھا اور نہیں تھا ۔‘‘

    اسی طرح مقامی علامتوں اور اسطورہ کی بجائے بین الاقوامی علامتوں کا استعمال بھی گلوبلائز یشن کے اردو ادب کو متاثر کرنے کی واضح دلیل ہے۔ فرحت پروین کے افسانوں’’ سکنک‘‘ اور ’’جنگ یارڈ‘‘ وغیرہ میں امریکی معاشرے کی علامات کو اردو دنیا سے روشناس کرو لیا گیا ہے۔ جنک یارڈ میں لکھتی ہیں،

    ’’مگر آج جنگ یارڈ میں جگہ جگہ پرانی چیزوں کی زنگ خوردہ ڈھیر یوں کو دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے میرے دماغ کی سب الجھی تاروں سے اماں کا الجھے بالوں آنکھیں ابھر آئی ہیں اور میں ان کا سامنا نہیں کر پا رہا۔‘‘

    دنیا بھر کی مختلف زبانوں اور ان میں تخلیق ہونے والے ادب کی مختلف اصناف میں ربط ضبط بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے ایک ادبی صنف میں دوسری اصناف کے عناصر در آتے ہیں۔ اس امرکو گلوبلائزہ پیشن کے اس عمل کی ہی توسیع سمجھا جانا چاہیے جس کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے افراد اور مختلف اقدار کے حامل معاشرے ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور ایک دوسرے کے اجزا اور عناصر کو قبول کر کے اپنے اندر ضم کر رہے ہیں۔ اردو ادب میں اب ایسی اصناف کی نشان دہی کرنا مشکل نہیں جن میں دوسری اصناف کے اجزا کو شامل کر لیا گیا ہے جیسے نئے ناول میں سفر نامے یا تاریخ وغیرہ کو آمیخت کیا گیا ہے۔ اردو ادب میں جہاں گلوبلائزیشن کے ماتحت بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں اور نئی نئی ادبی اصناف متعارف ہورہی ہیں وہیں رائج ہو جانے والی اصناف میں داخلی تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اس طرح اردو ادب پر گلوبلائز یشن کے اثرات فکری اور فنی دونوں سطحوں پر مرتسم ہورہے ہیں۔

    کتابیات

    (۱) گلوبلائزیشن اور اسلام،مولانا یاسر ندیم، ص۱۱۲

    (۲) عالمگریت ثقافت اور ادب، حنا جمشید ،ص۱۳۳

    (۳) اردو ادب اور سائبر اسپیس، ڈاکٹر خورشید اقبال، ص ۵۶

    (۴) عالمگریت اور اردو اور دیگر مضامین، ڈاکٹر ناصر عباس نئیر،ص۱۲۵

    (۵) سا ئبر دُنیا میں اُردو، مظہر حُسین، ص۱۱۱

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے