حاتم علی مہر کا تعارف
آپ ہی پر نہیں دیوانہ پن اپنا موقوف
اور بھی چند پری زاد ہیں اچھے اچھے
مرزا حاتم علی بیگ، تخلص مہرؔ، اردو ادب کے ایک صاحبِ طرز شاعر تھے جو مرزا غالب کے ہم عصر اور اُن کے حلقۂ احباب میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کم عمری ہی، یعنی چودہ برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا اور جلد ہی اپنی پرگوئی اور قادرالکلامی کے سبب نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ ان کے کلام میں سلاست، روانی اور زبان پر مکمل قدرت نمایاں ہے، جبکہ تاریخ کہنے میں بھی انہیں خاص مہارت حاصل تھی۔
ابتدا میں وہ ہائی کورٹ کے وکیل رہے، بعد ازاں غدر 1857 کے ہنگام میں سرکار سے وفاداری کے صلے میں انہیں خلعت اور دو گاؤں کی جاگیر عطا ہوئی، جس کی آمدنی سے انہوں نے باقی زندگی آسودگی سے بسر کی۔ وہ آگرہ میں اعزازی مجسٹریٹ کے منصب پر بھی فائز رہے۔
ان کی تصانیف میں "دیوانِ مہر"، "پارۂ عروض"، "ایاغِ فرنگستان"، "مثنوی داغِ فگار"، "داغِ دلِ مہر" اور "مثنوی شعاعِ مہر" شامل ہیں، جو ان کے فنی تنوع اور شعری مہارت کی روشن دلیل ہیں۔ مرزا مہرؔ کا انتقال 1879ء میں ہوا۔