محمد داؤد محسن کے اشعار
کون اپنا ہے یہاں کون پرایا کہیے
کون دیتا ہے بھلا دکھ میں سہارا کہیے
میں چاہتا ہوں تمہیں اپنی زندگی کی طرح
مرے وجود پہ چھا جاؤ چاندنی کی طرح
ہر ایک شام سنور جائے گی مری محسنؔ
ہر ایک بات تمہاری ہے شاعری کی طرح
افسانہ درد و غم کا سنایا نہ جائے گا
اب زخم دل کسی کو دکھایا نہ جائے گا
اتنے فریب کھائے ہیں قربت میں یار کی
محسنؔ فریب اور بھی کھایا نہ جائے گا
زندگی ٹوٹ کے بکھری ہے سر راہ ابھی
حادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیے
نہیں ہے پاس کسی کا کسی کو اے محسنؔ
کہ آزما کہ انہیں بار بار دیکھا ہے
سارے جہاں میں قصے یہ مشہور ہو گئے
بھائی ہمارے منکر دستور ہو گئے
بات تیرے نام کی ہونے لگی
دل میں میرے سنسنی ہونے لگی
زخم دل داغ جگر داغ تمنا کی قسم
چاند سے پھول سے ڈر ہم کو یہاں ہوتا ہے
ہر طرف درد کا آہوں کا سماں ہوتا ہے
پانی جلتا ہے سمندر میں دھواں ہوتا ہے
رفاقتوں کا جہاں تار تار دیکھا ہے
وجود زیست کا اڑتا غبار دیکھا ہے
ضبط کی تھی شرط دل سے جانے کیوں
لمحہ لمحہ بیکلی ہونے لگی
کتنا عجیب تر ہے عقیدہ جناب کا
پتھر کی مورتوں سے وفا مانگ رہے ہو