شہپر رسول کا تعارف
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی
وہ بھی تصویر سے نکل آیا
شہپر رسول کا اصل نام چودھری وجیہہ الدین ہے لیکن ادبی، تعلیمی اور سماجی دنیا میں شہپر رسول کے نام سے متعارف ہیں۔ ان کا تخلص شہپر ہے۔ شہپر رسول کی ولادت 17 اکتوبر 1956ء کو بچھراوں، اترپردیش میں چودھری رئیس الدین وارثی صاحب کے دولت کدے پر ہوئی۔ انھوں نے ایم اے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے کیا جب کہ پی ایچ ڈ ی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کیا۔ پی ایچ ڈی میں ان کا تحقیقی موضوع ”اردو غزل میں پیکرتراشی“ تھا۔ پیشہ درس و تدریس ہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو میں پروفیسر تھے۔ شہپر رسول کی ادبی زندگی کا آغاز 1970ء سے ہوا۔ وہ2021 میں ریٹائر ہوگئے تھے۔ اس کے بعد جامعہ کے ہی ،’’سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ اوپن لرننگ ‘‘میں تین سال تک سینئر کنسلٹینٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہاں ایم اے اردو شروع کرایا۔ ان کی کتابیں درج ذیل ہیں۔ (1) صدف سمندر( شعری مجموعہ) 1988، (2) پیمانۂ صفات۔ مرتبہ-1995، (3)اردو غزل میں پیکر تراشی: آزادی کے بعد (تحقیق و تنقید) 1999، (4) چشمِ دروں (مجموعۂ مضامین) 2000، (5) سخن سراب (شعری مجموعہ) 2002، (6) نقش و رنگ (مجموعۂ مضامین) 2007، (7) کارنامۂ شوق (مرتبہ)2009، (8) خطبات (مرتبہ) 2012، (9) قصیدے کی شعریات (مرتبہ)2017، (10) کچھ بھی نہیں بدلا (شعری انتخاب شہپررسول کی شاعری کا) 2018، (11) کچھ بھی نہیں بدلا (ہندی میں) 2019، (12) معنی و معانی (مجموعۂ مضامین)2021، (13) اردو کی کلاسیکی شعری اصناف (مرتبہ) 2026
ممتاز نقاد، شاعر اور دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر عتیق اللہ نے شہپر رسول کی شاعری پر اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے۔
”شہپر کی غزل کا تاثر اگر اپنے عہد کے حاوی رجحان سے مختلف ہونے کا احساس دلاتا ہے تو اس کی کچھ وجوہ بھی ہیں۔ سب سے پہلا تاثر تو یہی ہے کہ وہ کبھی اونچی آواز میں ہم سے کلام نہیں کرتی اور پہلی قرأت پر ہی ہم سے رسم و راہ پیدا کرلیتی ہے۔ دوسری، تیسری قرأت پر اس کے معنی کی اور گرہیں کھلتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ہمیں جتنا شریک بناتی ہے اتنی ہی اجنبی ہوتی چلی جاتی ہے۔ اجنبیت یا نامانوس کاری ہی فن کی معراج ہے۔ بہت زیادہ اونچی آواز کے معنی وہ ہمیں تاکیداً اپنی طرف متوجہ کرنے کے درپے ہے۔ شہپر اپنے جذبوں اور تجربوں کے اظہار میں کبھی عجلت نہیں دکھاتے اور نہ فوری ردِ عمل کے اظہار کے قائل ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے فوری اور شدید جذبات و تاثرات کو کچھ وقتوں کے لیے موقوف رکھتے اور تادیر سہارتے ہیں۔ بعد ازاں پھر کسی لمحۂ تخلیق کے ورود کے ساتھ ان کا ظہور ہوتا ہے۔“