سید تحسین گیلانی کے افسانچے
دیمک
خیال نے جست لگائی اور ہمارے دهیان سے نکل کر ہمارے سامنے مجسم ہو گیا ۔ مجهے لگا میں خالی ہو گیا !! پاگل ہو ۔۔۔ اتنی شدت اچهی نہیں ہوتی!! جتنا رلانا ہے ایک ہی بار رلا دیں۔ یوں کریں۔۔۔ مجهے لفظوں کی دیوار میں چنوا دیں۔ لیکن یہ سناٹے اور خاموشیوں کی چیخوں
فیصلہ
ایک گھنٹے کو گزرے پورا ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور پورے ایک گھنٹے سے وہ اس منظر کو تکے جا رہا تھا ۔ وہ منظر جو سامنے تھا ، کالے گہرے بادلوں سے گرتا کالا رس اور زمین پر جل تھل کالا سیال بہتا منظر ! وہاں کوئی ذی روح نہیں تھا ، ہاں وہاں سناٹا تها جو اس منظر
ظہور
مجھے آج خود میں قید ہوئے سات سو برس ہو چکے تھے ۔ میں کسی پر آشکار نہ ہو سکا خود پر بھی نہیں ۔ میرے اندر وہ کون تھا جو مجھے سہارا دیے ہوئے تھا مجھے زندہ رکھے ہوئے تھا ۔لیکن کیا میں واقعی کہیں تھا یا مجھ میں واقعی کوئی تھا ؟؟ ایسے کئی سوال برسوں سے مجھ