Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Alqama Shibli's Photo'

علقمہ شبلی

1930 - 2019 | کولکاتا, انڈیا

کلکتہ کے معروف شاعر، غزل، نظم اور رباعی کے شاعر، بچوں کے لیے متعدد شعری مجموعوں کے خالق اور کئی ادبی رسائل کے مدیر

کلکتہ کے معروف شاعر، غزل، نظم اور رباعی کے شاعر، بچوں کے لیے متعدد شعری مجموعوں کے خالق اور کئی ادبی رسائل کے مدیر

علقمہ شبلی کا تعارف

تخلص : 'شبلی'

اصلی نام : ابو علقمہ محمد شبلی نعمانی

پیدائش : 01 Nov 1930 | نالندہ, بہار

وفات : 13 Aug 2019 | کولکاتا, مغربی بنگال

گم رہوگے کب تک اپنی ذات ہی میں

زندگی سے بھی کبھی آنکھیں ملاؤ

علقمہ شبلی کا اصلی نام ابو علقمہ محمد شبلی نعمانی ہے۔ ان کے والد کا نام مولوی عبدالجبار ہے۔ علقمہ شبلی کی ولادت 01 نومبر 1930ء کو ریاست بہار کے ضلع نالندہ  کے میر غیاث چک میں ہوئی تھی۔ انھوں نے تعلیمی میدان میں بی کام کے علاوہ اردو اور فارسی میں بھی ایم اے کی سندیں حاصل کیں۔ پیشہ درس و تدریس کا تھا اور کولکاتا کے مدرسہ عالیہ میں استاد تھے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز 18 سال کی عمر میں یعنی 1948ء سے ہوا۔

 ان کی تصنیفات کی تعداد تقریباً 14 ہیں جن کی فہرست اس طرح ہے۔ (1)دھوپ دھوپ سفر، (2) بے چہرہ لمحے، (3)چہار آئینہ، (4)شہر نامہ، (5)چہرہ نامہ،  (6)دیارِ حرم میں، (7)حرف حرف تلاش، (8)صلو علیہ و اٰلہ،   (9)بوستاں کی کہانیاں، (10)حرف و صوت، (11) تارے زمین کے، (12) پھول آنگن کے، (13) زادِ سفر، (14) خواب خواب زندگی۔ علقمہ شبلی کی ادبی شخصیت پر تصنیف کردہ چار کتابیں منظرِ عام پر آئیں جن کے نام ”خراجِ فن“، ”علقمہ شبلی:حیات و شاعری“، ”علقمہ شبلی:خوابوں کا صورت گر“ اور ”علقمہ شبلی:شخص و شاعر“ ہیں۔

علقمہ شبلی کی شاعری پر محقق، نقاد، تاریخِ ادبِ اُردو اور تاریخِ ادبیاتِ عالم کے مصنف پروفیسر وہاب اشرفی اس طرح اپنا تاثر پیش کرتے ہیں۔
”علقمہ شبلی کی تخلیقی سطح کو اگر نگاہ میں رکھیے تو محسوس ہوگا کہ انھوں نےبہت زیادہ نہیں لکھا ہے۔ دو تین قابلِ لحاظ شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ شبلی ذہنوں سے گزر جاتے ہیں، دلوں پر قابض نہیں ہوتے اور تاثر کی فضا قائم نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ انھیں روایتی شاعری کی پوری پوری خبر ہے۔ وہ غزل کے ورثے سے بطریقِ احسن آشنا ہیں۔ اسلاف کے کلام کے امتیازات سے باخبر ہیں۔ ایسی آشنائی ان کے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں پہناتی بلکہ ان کے کلام کو صیقل کرنے میں معاون بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں شعری کیف میں کلاسیکی سج دھج کے باوجود ان کے انفرادی اظہار اور شخصی فکر کی روشن لکیر اکثر غزلوں میں واضح بن کر سامنے آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام تازہ اور لطیف معلوم ہوتا ہے۔ میں یہ صاف طریقے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے استعارے نئے نہیں ہیں، تشبیہوں میں جدت طرازی نہیں ہے اس کے باوجود پرانے استعارے اور قدیم تشبیہوں کے استعمال میں ایک ایسی ندرت ہے کہ معنوی اعتبار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یکسر تازہ کار ہیں۔ یہ بات ایسی تخلیقی قوت کا پتا دیتی ہے جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہے۔“

علقمہ شبلی کا انتقال 13 اگست 2019ء کو کولکاتا میں ہوا۔

Recitation

بولیے