انور حسین انور کا تعارف
بھدرک کے ایک نواحی گاؤں گوجیدرہ میں انور حسین انورؔ کی ولادت ۵؍جون ۱۹۵۴ء کو ہوئی۔ والد کا نام شیخ شوکت علی ہے۔ بی۔اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریلوے میں ملازمت اختیار کی اور اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی کرکے اب سبکدوش ہوچکے ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ مولانا کفیل فتح پوری صاحب سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔ اب تک تین شعری مجموعے ”درد سے بھیگی تنہائی“، ”دشتِ تنہائی کا مسافر“ اور ”تنہا پلوں کا کرب“ شائع ہوکر پذیرائی حاصل کرچکے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بنگلور کو اپنا مستقل مستقر بنا یا ہے۔
ان کی شاعری کے تعلق سے فاروق جائسی رقمطراز ہیں:’’انور حسین کی زبان بہت صاف‘ سلیس اور عام فہم ہے۔ کہیں الجھاؤ یا ابہام نظر نہیں آتا۔ وہ اپنی بات بہت آسانی سے مؤثر انداز میں کہنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر اشعار ذاتی تجربات اور عمیق مشاہدات پر مبنی ہوتے ہیں جو کم و بیش ہر آدمی کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔ اسی لیے ان کی آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے۔یہی رویہ ان کی شاعری کو وقار بخشتا ہے‘‘۔