اطہر عزیز کا تعارف
تخلص : 'اطہر'
اصلی نام : اطہر عزیز
پیدائش : 25 Jun 1944 | کٹک, اڑیسہ
وفات : 10 Aug 2026 | احمد آباد, گجرات
LCCN :no2001005881
اطہر عزیز 25 جون 1944ء کو کٹک (اُڑیسہ جسے اب اُڈیشہ کہا جاتا ہے) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد منشی عبد الحکیم خاں تھے تو سب رجسٹرار مگر اُس دَور کے عام رُجحان اور کچھ دینی مزاج کےتحت موصوف نے اپنے فرزند ارجمند کو بغرض ِ دینی تعلیم مفتاح العلوم ،جلال آباد (اُتر پردیش) میں داخل کروا دیا، مگر وہ دینی تعلیم کے درجات پار نہیں کر پائے اور پھر مظفر پور میں پڑھنے لگے، 1969ء میں اتکل یونی ورسٹی سے انہوں نے بی ایس سی کیا، 1970ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں ایم اے(اُردو) میں داخل ہوئےمگر خرابیٔ حالات کے سبب یہ تعلیم بھی مکمل نہیں ہو سکی۔
انہوں نے اپنی عملی زندگی الہ آباد کی مشہور ’’جیپ فلیش لائٹ کمپنی‘‘ کی ملازمت سے شروع کی اور پھر وہ دہلی منتقل ہوگئے جہاں وہ اُس وقت کے ممتاز اخبار ’قومی آواز‘ سے وابستہ ہوئے بعدہٗ دہلی سے ممبئی آگئے، جہاں وہ روزنامہ انقلاب کے شعبۂ ادارت میں کام کرنے لگے، انقلاب سے علاحدگی کے بعد انہوں نے اشتہارات کی ایک کمپنی ’ایڈ شاٹ‘ کے نام سے شروع کی، بعدہٗ ایڈ شاٹ پبلی کیشنز کی داغ بیل ڈالی ،اسی اشاعتی ادارے نے ممبئی کی اُردو دُنیا میں اُن کی ایک ساکھ بنائی،انہوں نے اس ادارے سے اُردو کی سو سے زاید کتابیں شائع کیں جن میں علی سردار جعفری کی مشہور کتاب پیغمبرانِ سخن، ترقی پسند، جدیدیت ، مابعد جدیدیت ( پروفیسر گوپی چند نارنگ)/شعری آگہی (باقر مہدی)، آبشار اور آتش فشاں (فضیل جعفری)، آزادی بٹوارہ اور مسلمان (ڈاکٹر رفیق زکریا)، ڈاکٹر اسد اللہ خان کی کتابیں 'آفاق گُم گشتہ' --- 'آسماں تسخیر' اور ’مرد ِآہن: سید نذر حسین‘ شامل ہیں۔ اطہر عزیز کے مزاج میں نفاست اور انفرادیت کے عنصر غالب تھے جو اُن کی شائع کردہ کتابوں میں جھلکتے تھے۔
اطہر عزیز’حنیف کیفی: ذات اور جہات‘ اور ’مسلم پرسنل لا اور ملت بیداری‘ جیسی کتابوں کے شریک مرتب بھی رہےلیکن روزنامہ’ قومی آواز‘ کی ملازمت کے دوران انہوں نے (1982 میں)’قومی آواز‘کا’’اُردو بک سیلرز اور پبلیشرز نمبر‘‘ مرتب کیا تھا جو چار سَو صفحات کی ضخامت اور ایک معیارکا حامل تھا، جوصحافتی کار کردگی میں اُن کا تشخص بنانے میں بنیاد بنا، یہ نمبر ریختہ کی سائٹ پر ہے جسے دیکھ کر اُن کی صلاحیتوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ 2018 میں وہ ہندستانی پر چار سبھا (ممبئی) کے ممتاز رسالے ’’ہندستانی زبان‘‘ سے بھی وابستہ رہے، ان کی ادارت میں’ہندستانی زبان‘ کے جو شمارے شائع ہوئے وہ اپنےالگ معیار کے حامل ہیں۔ اطہر عزیز ایک سنجیدہ شاعر کے طور پر بھی اپنی پہچان رکھتے تھے’سود و زیاں‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
کسی زمانے میں وہ گوونڈی(ممبئی) میں بھی اُردو کے مشہور اُستاد اور ادیب ایوب واقف کے ہمسائے رہ چکے ہیں،بتایا جاتا ہے کہ وہ اُردو کے قلمکار ہوتے ہوئے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت سنجیدہ تھے اور انہوں نے اپنی نئی نسل کو بساط بھر خوب تعلیمی زیور پہنایا۔
ادھر ایک عرصےسے اُن کا اتہ پتہ نہیں تھا بس یہ اطلاع تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس دُبئی میں ہیں،کل شام اس اطلاع نے چونکایا کہ وہ احمد آباد میں تھے اور حال ہی میں وہ گھر میں گِر گئے اور سَر میں چوٹ اتنی شدید تھی کہ اطہر عزیز کوما کے شکار ہوگئے اسی حالت میں پیٖر10اگست کو انتقال کر گئے، افسوس ہمیں اُن کی سناونی بھی دو دِن بعد ملی۔
انقلاب کی ملازمت کے زمانے ہی سے اطہر عزیز سے ایک خاص قربت رہی، وہ جب تک میرا روڈ میں رہے تو ہفتے عشرے میں ان کا فون ضرور آتا تھا، انہوں نے ایک دن اپنی سوانحی سرگزشت یہ کہہ کر بھیجی کہ’کسی وقت یہ تمہارے کام آئے گی‘ اور اپنے بیٹے’ شہزاد‘ کا موبائل نمبر بھی دیا مگر کوئی ڈیڑھ برس کی مدت ہوتی ہے کہ شہزاد میاں سے باوجود کوشش رابطے میں ہم ناکام رہے اور آخر کل شام اطہر عزیز کی رِحلت کی خبر نے ذہن میں انہی کا یہ شعر تازہ کر دیا:
کاش اِک بار تو تعبیر بتا دے آکر
خواب دَر خواب جو تصویر دِکھاتا جائے
نوٹ: یہ تحریر معروف صحافی اور شاعر ندیم صدیقی صاحب کے فیسبک وال سے لی گئی جسے انہوں نے اطہر عزیز صاحب کی وفات پر لکھا تھا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no2001005881