بی ایس جین جوہر کے دوہے
ساون کی رت آ گئی کھلے کنول کے پھول
کلیوں کے مکھڑے دھلے اڑی چمن کے دھول
کس کے دل میں درد ہے کون کرے گا تیاگ
روتے ہیں بیٹھے ہوئے اپنا اپنا بھاگ
روز ازل سے موت نے کچلے ہیں ارمان
اونگھ رہا ہے نیند میں اب تک بھی انسان
روپ جوانی کامنا ہیں دولت کے کھیل
سوکھے ہوئے درخت پہ چڑھتی نہیں یہ بیل
آخر میرا دل ہے کیوں اب تک بھی ناشاد
تڑپاتی ہے کیوں مجھے ہائے کسی کی یاد
آخر میرا دل ہے کیوں اب تک بھی ناشاد
تڑپاتی ہے کیوں مجھے ہائے کسی کی یاد
سندر سندر انکھڑیاں کومل کومل ہات
بستے ہیں آواز میں کوئل کے نغمات
لا فانی ہو جائیں گے میرے سندر گیت
دل پر ہے انسان کے شاعر کی ہی جیت
جھرنے گاتے ہیں سدا بیداری کے راگ
دنیا میں جو سو گیا اس کے پھوٹے بھاگ
کس کی زلفوں نے میرا چھین لیا سکھ چین
روح پہ چھائے ہیں مری کس کے سندر نین
دکھ سکھ سب کے ساتھ ہے آفت سب کے ساتھ
کس کا اس سنسار میں کون بٹائے ہاتھ
زخمی ہے انسانیت دکھیا ہے سنسار
پھر بھی اس ماحول سے کوئی نہیں بیزار
شرماتی ہے کیوں دلہن گھونگھٹ کے پٹ کھول
گم سم کیوں ہے شرم سے کچھ تو منہ سے بول
ساون کی رت آ گئی کھلے کنول کے پھول
کلیوں کے مکھڑے دھلے اڑی چمن کی دھول
جھرنے گاتے ہیں سدا بیداری کے راگ
دنیا میں جو سو گیا اس کے پھوٹے بھاگ