Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Fasahat Lucknowi's Photo'

فصاحت لکھنوی

1857 - 1930 | لکھنؤ, انڈیا

لکھنؤ کی کلاسیکی شعری روایت کے ممتاز اور نمائندہ شاعر، مشہور ادیب امانت لکھنوی کے فرزند

لکھنؤ کی کلاسیکی شعری روایت کے ممتاز اور نمائندہ شاعر، مشہور ادیب امانت لکھنوی کے فرزند

فصاحت لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'فصاحت'

اصلی نام : سید عباس حسن فصاحت

پیدائش : 08 Apr 1857 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 05 Feb 1930 | کربلا, عراق

فصاحت لکھنوی اردو کے ممتاز اور صاحبِ اسلوب شاعر تھے، جنہیں لکھنؤ کی کلاسیکی شعری روایت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ وہ ۱۲ شعبان ۱۲۷۳ھ کو پیدا ہوئے اور کم عمری ہی میں والد، نامور ادیب امانت لکھنوی (مصنف "اندر سبھا") کے سائے سے محروم ہو گئے۔ ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت بڑے بھائی سید حسن لطافت کی نگرانی میں ہوئی، جن کی ادبی صحبت نے ان کے فطری ذوق کو جلا بخشی۔
فصاحت لکھنوی نے مختصر عرصے میں اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ان کے کلام میں انفرادیت، شستہ و شگفتہ زبان، اور بندش کی پختگی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں لکھنؤ کی مخصوص نزاکت، رنگینی اور لطافت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ان کا شمار اپنے عہد کے اہم شعرا میں ہوتا ہے اور ان کے شاگردوں کا حلقہ بھی خاصا وسیع تھا۔
ان کا کلام ابتدا میں مختلف ناموں سے شائع ہوا، جس کے باعث عام قارئین میں اس کی شناخت محدود رہی، تاہم بعد ازاں اسے نئی ترتیب کے ساتھ "دیوانِ فصاحت" کے نام سے پیش کیا گیا۔ اس دیوان کا مقدمہ معروف ادیب مولانا عبدالحلیم شرر نے تحریر کیا، جبکہ دیگر معاصرین اور شاگردوں کی منظوم خراجِ عقیدت بھی اس میں شامل ہے، جو فصاحت لکھنوی کی ادبی عظمت کا بین ثبوت ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے