پروفیسر غلام اشرف قادری ہمہ جہت ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔ شاعری میں وہ “خیال” تخلص اختیار کرتے ہیں، جب کہ ٹیلی ویژن کی دنیا میں خیال قادری کے نام سے کام کیا۔ اسکرپٹ رائٹنگ سے لے کر ایڈیٹنگ تک کے فنی مراحل سے انھوں نے عملی واقفیت حاصل کی۔ اگرچہ کچھ عرصہ دہلی اور ممبئی کی میڈیا دنیا سے وابستہ رہے، لیکن جلد ہی تدریس اور علمی سرگرمیوں کی طرف رجوع کر لیا اور اسی میدان کو مستقل پیشہ بنا لیا۔ فارسی، اردو، عربی اور ہندی زبانوں پر ان کی مضبوط گرفت ان کی علمی وسعت کا ثبوت ہے۔
تصنیف و ترتیب کے میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں “سخنورانِ عہدِ پہلوی” (دورِ جدید کے ایرانی شعرا کے احوال و آثار)، “آخری فریاد” (حضرت دل شاہجہاں پوری کے غیر مطبوعہ کلام کی ترتیب)، “خم خانۂ حافظ” (صوفی کامل احمد حسین احمد شاہجہاں پوری کی فارسی شاعری کی تدوین)، اور “بوند بوند دریا” (سیمینار و کانفرنس کے غیر مطبوعہ مقالات کا مجموعہ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ڈاکٹر محمد عبدالقادر احقر عزیزی کے تنقیدی مضامین کو “ڈھونڈو گے اگر…” کے نام سے مرتب کیا اور فارسی میں لکھی گئی ایران کی تاریخ کا ہندی ترجمہ “کتاب ایران” کے عنوان سے پیش کیا۔
تحقیقی نوعیت کے کاموں میں “فہرست نسخہ ہائے خطی” خاص اہمیت رکھتی ہے، جس میں گاندھی فیضِ عام کالج کی مرکزی لائبریری میں محفوظ فارسی، عربی اور اردو مخطوطات کی تفصیل اردو اور ہندی میں فراہم کی گئی ہے۔ انھوں نے نسیم شاہجہاں پوری پر مبنی مجموعہ “مثلِ چراغ تھا وہ…” بھی مرتب کیا، جب کہ ہند و ایران کی فارسی شاعری کا انتخاب “خیالستان” اور فارسی نثر کا انتخاب “نگارستان” کے نام سے شائع کیا۔
نصابی میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ “کاروانِ ادب”، “نقوشِ فارسی” اور “آثارِ ہندی” جیسی درسی کتابیں ان کی تدریسی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔ اتر پردیش سرکار کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تیار کردہ نصاب پر مبنی کتاب “صریرِ فارسی” بھی ان ہی کی تصنیف ہے، جو تعلیمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
پروفیسر غلام اشرف قادری ایک معتبر ڈرامہ نویس کے طور پر بھی پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں “امربیل”، “تیس پتے” اور “کشکول” شامل ہیں، جب کہ ان کے ڈراموں کا مجموعہ “امر بیل” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس طرح وہ بیک وقت تحقیق، تدریس، تخلیق اور ڈرامہ نگاری کے میدانوں میں فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔