حلیم حاذق کا تعارف
حلیم حاذقؔ اصل نام: محامد اصغر علی یکم جنوری 1966ء کو ہاوڑہ، مغربی بنگال میں پیدا ہوئے۔ دنیائے ادب میں حلؔیم حاذق کے نام سے معروف ہیں۔ وہ ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد محمد یونس انصاری المعروف حاذق انصاری بنگال کے ممتاز ترقی پسند شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ علمی ماحول میں پرورش پانے کے سبب حلیم حاذق کی فکری و ادبی تربیت ابتدا ہی سے مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئی۔
جامعہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادیبِ کامل اور مدرسہ بورڈ سے عالمیت کی اسناد حاصل کیں۔ عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر یکساں عبور رکھتے ہیں، جس کی جھلک ان کی شاعری اور نثری نگارشات میں نمایاں ہے۔
حلیم حاذق ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں—شاعر، نعت گو، نقاد، محقق، مترجم اور مرتب کی حیثیت سے ادبی حلقوں میں معتبر مقام رکھتے ہیں۔ نعتیہ شاعری میں ان کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ مرکزِ نور 1985ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد لوحِ افکار سمیت متعدد نعتیہ و تنقیدی تصانیف منظرِ عام پر آئیں۔ غزل کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی انفرادیت کا ثبوت دیا، جس کی نمایاں مثال 2013ء میں شائع ہونے والا مجموعۂ غزل’’کشتِ سخن‘‘ ہے۔ اس کتاب کا منظوم مقدمہ ’’غزل نامہ‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد کارنامہ ہے۔
نعتیہ ادب میں ان کی گہری بصیرت اور تنقیدی شعور کو اہلِ علم نے سراہا ہے۔ دبستانِ نعت اور جدید نعتیہ تنقید میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ کینسر جیسی شدید بیماری سے صحت یابی کے بعد ان کی زندگی اور شاعری میں ایک نیا روحانی رنگ نمایاں ہوا، جس کا اظہار ان کے نعتیہ کلام میں پوری آب و تاب کے ساتھ ملتا ہے۔
ان کا شہرۂ آفاق شعر:
زندگی بھر زندگی کا فلسفہ لکھتا رہا
موت کے بستر پہ نعتِ مصطفیٰ لکھتا رہا
حلیم حاذق کی ادبی خدمات میں نعت، منقبت، تنقید اور تحقیق کے متعدد مجموعے شامل ہیں۔ برصغیر کے ادبی حلقوں میں انہیں ایک معتبر اور فعال قلم کار کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ صنفِ نعت میں ان کا کام معاصر عہد میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔