حسیب سوز کا تعارف
ہندوستان کے مردم خیز شہر بدایوں شہر کے قصبہ الاپور میں اردو کے مقبول ترین شاعر جناب حسیب سوز صاحب کی پیدائش 05 مارچ 1952 کو ہوئی۔ ان کے والد کا نام بابو میاں تھا جن کا پیشہ مٹھائی سے وابستہ تھا۔ ان کے والد صاحب کی دکان هبو حلوائی کے نام سے مشہور تھی جو یہ سلسلہ پیڑھی در پیڑھی آ ج بھی جاری ہے۔ حسیب سوز صاحب کی ابتدائی تعلیم الاپور میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے بدایوں سے انٹرمیڈیٹ اور بریلی کی روہیل کھنڈ یونیورسٹی سے بی اے اور آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو میں کیا۔ حسیب صاحب اسکول کے زمانے سے ہی فلمی نغموں کو سنا کرتے تھے اور وہ اپنی ڈائری میں ان نغموں کو لکھ لیتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ شاعری کی طرف مائل ہونے لگے اور شعر کہنے لگے۔ انہوں نے الاپر کے مزاحیہ شاعر قاضی جلال الدین صاحب سے تلمذ حاصل کیا اور ان سے اصلاح سخن لینے لگے۔
ان کی شاعری اپنے سنجیدہ فکر و خیال کی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے عوام کے دکھ درد، سماجی مسائل اور روزمرہ کے حالات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کی زبان سادہ و سلیس تھی جو قارئین کو اپنی طرف متاثر کئے بنا نہیں رہ سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام مختلف ادبی رسائل اور اخباروں میں شائع ہونے لگے، جس سے انہیں خوب شہرت حاصل ہوئی اور وہ مقامی مشاعروں میں مدعو کیے جانے لگے۔ 1982 میں انہوں نے "لمحے لمحے" کے نام سے رسالہ نکالا جو ہندوستان میں کافی مقبول ہوا۔ انہوں نے اردو کی تمام اصناف سخن پر تبع آزمائی کی جس میں غزل، نظم اور اردو ڈرامے بھی شامل ہیں۔
انہیں کئی متعدد اعزازات سے نوازا گیا جس میں شکیل فانی ایوارڈ 2003، ولی دکنی ایوارڈ 2006، امیر خسرو ایوارڈ 2011، ودیا رتن آسی ایوارڈ شامل ہیں۔ حسیب سوز نے یوں تو شاعری کا آغاز بہت پہلے کر دیا تھا لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے کلام کو شائع کرنے کی طرف توجہ نہ دی۔ ان کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں "برسوں بعد" 2009، "دھوپ پھر نکل آئی" 2017، "چاند گونگا ہو گیا" 2019 اور "دو مٹی آسمان"2022 شامل ہیں۔اردو کا یہ ستارہ 06 ستمبر 2023 کو اس دار فانی سے رخصت ہو گیا۔