Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hindi Gorakhpurii's Photo'

ہندی گورکھپوری

1917 - 1991 | گورکھپور, انڈیا

گورکھپور سے تعلق رکھنے والے معروف انقلابی شاعر، تحریکِ آزادی سے وابستہ ادیب، اردو نظم کو انقلابی فکر اور عوامی شعور عطا کرنے کے لیے معروف

گورکھپور سے تعلق رکھنے والے معروف انقلابی شاعر، تحریکِ آزادی سے وابستہ ادیب، اردو نظم کو انقلابی فکر اور عوامی شعور عطا کرنے کے لیے معروف

ہندی گورکھپوری کا تعارف

تخلص : 'ہندی'

اصلی نام : محمد وحیداللہ انصاری

پیدائش : 17 Jul 1917 | گورکھپور, اتر پردیش

وفات : 19 May 1991 | گورکھپور, اتر پردیش

اردو ادب میں گورکھپور کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ فراق گورکھپوری کی اسی سرزمین سے ایک نام جناب محمد وحیداللہ انصاری "ہندی گورکھپوری" کا بھی آتا ہے، جن کی پیدائش 17 جولائی 1917ء کو گورکھپور میں ہوئی۔ ان کے دادا کا نام محمد عمر "دائم" اور والد کا نام شیخ کریم اللہ "خاکی" تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد حفیظ اللہ "شادماں" بھی شاعر تھے۔ گھر میں ادبی ماحول ہونے کی وجہ سے ہندی گورکھپوری کو بھی بچپن ہی سے شاعری کا شوق پروان چڑھا۔ان کے آبا و اجداد فتح پور سیکری میں مغلیہ حکومت کے ملازم تھے۔ مغلوں کے زوال اور انگریزوں کے ظلم و ستم سے جان کی امان میں فتح پور سیکری سے ہجرت کرکے گورکھپور میں قیام پذیر ہوئے۔

انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے ہائی اسکول اور سینٹ اینڈریوز کالج، گورکھپور سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 1937ء میں کلکتہ جا کر علامہ عبدالجبار وحیدی کے روزنامہ "اخبارِ زمانہ" کے ادارۂ تحریر سے وابستہ ہو گئے۔ اس کے علاوہ 1943ء میں فیض آباد میں آرمی لینگویج ٹیچر اور کچھ عرصہ گورکھپور میں سپلائی انسپکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔ مگر آزاد خیال اور فقیرانہ مزاج کے مالک ہندی گورکھپوری نے ملازمت ترک کر دی۔ اسی سبب انہیں غربت اور تنگ حالی کا سامنا کرنا پڑا۔

جب ملک میں تحریکِ آزادی کی فضا بہہ رہی تھی، ایسے میں ہندی صاحب نے بھی کئی انقلابی نظمیں تحریر کیں اور ان کی باغیانہ نظموں اور ادبی سرگرمیوں میں شرکت کی وجہ سے 1944ء–45ء میں ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہوا اور کچھ ماہ انہیں روپوش رہنا پڑا۔ اکثر وہ کانگریس کے اجلاس کے موقع پر اپنی انقلابی نظمیں پڑھا کرتے تھے۔

ہندی صاحب نے شاعری کی قریب قریب تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ اگرچہ نظموں کے حوالے سے ہندی صاحب کی ایک الگ شناخت ہے، مگر انہوں نے جہاں ایک طرف غزلیں، گیت اور قطعات کہے، وہیں دوسری طرف حمد، نعت اور منقبت بھی کہیں۔ اگرچہ نظموں کے حوالے سے ہندی صاحب کی ایک منفرد شناخت قائم ہوئی۔ اُن کے چار شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں "شرارے" (1950ء)، "جنسِ گراں" (1957ء)، "قفس سے آشیاں تک" (1972ء) اور "شعلۂ گل" (1984ء) شامل ہیں۔ 2018ء میں ڈاکٹر سلیم احمد اور سمینہ ادیب ضیا نے ان کی تمام ادبی تخلیقات کو  "کلیاتِ ہندی" کے عنوان سے شائع کیا ۔وہ 19 مئی 1991ء کو گورکھپور میں اس دیارِ فانی سے کوچ کر گئے۔




موضوعات

Recitation

بولیے