Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

مفتی انتظام اللہ شہابی

1892 - 1969

مؤرخ، سوانح نگار اور 'تاریخِ ملت' کے مصنف

مؤرخ، سوانح نگار اور 'تاریخِ ملت' کے مصنف

مفتی انتظام اللہ شہابی کا تعارف

تخلص : 'انتظام اللہ شہابی'

اصلی نام : انتظام اللہ

پیدائش :ہردوئی, اتر پردیش

وفات : 08 Sep 1969 | کراچی, سندھ

شناخت: مؤرخ، سوانح نگار اور صاحبِ تصانیف، مصنفِ 'تاریخِ ملت'

مفتی انتظام اللہ شہابی 1892ء کو قصبہ گوپامئو، ہردوئی، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولوی اکرام اللہ شہابی، جو علمی ذوق رکھتے تھے۔ مفتی صاحب نے ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی میں حاصل کی اور بعد میں انگریزی پر بھی اس قدر عبور حاصل کر لیا کہ مختلف علمی کتب سے استفادہ کر سکتے تھے۔

تعلیم کے بعد انہوں نے روایتی ملازمت اختیار کرنے کے بجائے تجارت کا پیشہ اپنایا اور ایک عرصے تک جانوروں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ رہے۔ تاہم ان کا اصل میدان علم و قلم تھا، چنانچہ 1925ء کے بعد انہوں نے پوری یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف کی طرف توجہ دی۔ اسی زمانے میں انہوں نے 'دائرہ معارفِ قرآنیہ' قائم کیا اور قرآن، حدیث اور سیرت کے موضوعات پر متعدد رسائل شائع کیے۔

1945ء میں وہ دہلی منتقل ہوئے اور اشاعتی اداروں سے وابستہ ہو کر علمی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران ان کا تعلق 'ندوۃ المصنفین' سے بھی قائم ہوا، جہاں انہوں نے تاریخ ملت اور سلاطینِ ہند پر اہم کام کیا۔ بعد ازاں 1949ء میں پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں قیام پذیر ہوئے، جہاں وہ مختلف علمی و ادبی اداروں سے وابستہ رہے۔

مفتی انتظام اللہ شہابی نہایت زود نویس مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب "مشاہیر اکبرآباد" میں اپنی 129 تصانیف کا ذکر کیا ہے، جن میں سے کئی متعدد جلدوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں "تاریخِ ملت"، "بزمِ آخر"، "چند مسلم سائنس دان"، "حیاتِ ظفر"، "مشاہیر جنگِ آزادی"، "اسلامی معاشرت"، "ایسٹ انڈیا کمپنی اور باغی علما" اور "نواب نجیب الدولہ اور جنگ پانی پت" شامل ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ شہرت "تاریخِ ملت" کے سبب ہوئی، جو ان کی نمایاں علمی کاوش سمجھی جاتی ہے۔

'تاریخ ملت' کئی جلدوں پر مشتمل تاریخ اسلام پر ایک مفصل و جامع تاریخ ہے جو مفتی انتظام اللہ شہابی اور زین العابدین سجاد میرٹھی کی مشترکہ کاوش ہے۔ یہ کتاب تاریخ اسلام سے ماقبل اور مابعد مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے عہدِ حکومت تک یعنی 1857ء اور پھر سلطنت عثمانیہ کے سقوط یعنی 1924ء تک تاریخ کا اَحاطہ کرتی ہے۔

مفتی انتظام اللہ شہابی کی شخصیت کا ایک پہلو علمی حلقوں میں خاصا بحث طلب رہا ہے، اور وہ ہے ان کی جانب سے فرضی حوالہ جات کا استعمال۔ نامور محقق مالک رام سمیت کئی اہل علم نے نشاندہی کی ہے کہ مفتی صاحب اکثر ایسی قلمی کتابوں یا مخطوطات کے حوالے دے دیتے تھے جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتے تھے۔ وہ اکثر اپنے آبائی قصبے 'گوپامئو' کے فرضی کتب خانوں کا ذکر کرتے تھے۔ جب ان پر اعتراض کیا جاتا تو وہ پشیمانی کے بجائے نہایت بے نیازی سے کہتے کہ "میں اپنا کام کر رہا ہوں، بعد والے اسے درست کر لیں گے"۔

وفات: مفتی انتظام اللہ شہابی کا انتقال 8 ستمبر 1969ء کو کراچی میں ہوا اور انہیں پاپوش نگر قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Recitation

بولیے