اقبال صفی پوری کا تعارف
کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا
آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
اقبال صفی پوری کا اصل نام اقبال احمد خلیلی تھا۔ وہ 9 جولائی 1921ء کو صفی پور، ضلع اناؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم عربی و فارسی میں حاصل کی اور 1936ء میں لکھنؤ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت اختیار کی۔ شاعری میں ان کی ابتدائی تربیت افقر موہانی سے ہوئی، جب کہ مرزا جعفر علی خان اثر لکھنوی سے بھی اصلاح لی۔ بعد ازاں وہ معروف شاعر جگر مراد آبادی کے شاگرد ہوئے اور ان سے باقاعدہ اصلاح لیتے رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے اور محکمۂ خوراک میں ملازمت اختیار کی۔ بعد میں لاہور کارپوریشن کے بلڈنگ کنٹرول اور پھر کراچی کے بلڈنگ کنٹرول کے محکمے سے وابستہ رہے۔ 1981ء میں بحیثیت آرکیٹیکٹ ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔
اقبال صفی پوری کی شاعری میں غزل اور نعت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'شاخِ گل' (1981ء)، 'رنگ و نور ' اور 'رحمت لقب' شامل ہیں۔ ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے جگر مراد آبادی کی شعری روایت سے فیض حاصل کرتے ہوئے اردو غزل اور نعتیہ شاعری میں اپنی شناخت قائم کی۔
24 مئی 1999ء کو کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔