Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Josh Badayuni's Photo'

جوش بدایونی

1908 - 1991 | بدایوں, انڈیا

بدایوں کی ادبی اورکلاسیکی روایت سے وابستہ شاعر، غزل، نظم، نعت اور منقبت کے میدان میں قابلِ قدر ادبی خدمات کے لئے معروف

بدایوں کی ادبی اورکلاسیکی روایت سے وابستہ شاعر، غزل، نظم، نعت اور منقبت کے میدان میں قابلِ قدر ادبی خدمات کے لئے معروف

جوش بدایونی کا تعارف

تخلص : 'جوش'

اصلی نام : رادھا رمن

پیدائش : 19 Jul 1908 | مظفر نگر, اتر پردیش

وفات : 02 Oct 1991 | بدایوں, اتر پردیش

تاریخِ ادب میں بدایوں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی ادبی بستیوں نے نہ صرف شاعری کی لطافت کو زندہ رکھا ہے بلکہ سیکڑوں ادیبوں اور شاعروں کی پرورش بھی کی ہے۔ اسی ادبی ماحول سے فیض یاب ہونے والے ڈاکٹر رادھا رمن جوشؔ بدایونی  کی پیدائش 19 جولائی 1908ء کو مظفر نگر میں ہوئی۔ اُن کے والد شری گنگا رام سکسینہ پولیس محکمہ میں سب انسپکٹر تھے اور اُس وقت مظفر نگر میں تعینات تھے۔

اُن کا آبائی تعلق ضلع بدایوں کے ایک معزز، تعلیم یافتہ اور خوش حال خاندان سے تھا۔ اُن کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ چونکہ اُن کے والد کی ملازمت کے سلسلے میں مختلف مقامات پر تبادلے ہوتے رہتے تھے، اس لیے اُن کی باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ منقطع رہا۔ 1921ء میں اُن کے والد علالت کے سبب بدایوں آ گئے۔ یہیں اُن کا داخلہ ساتویں جماعت میں اسلامیہ ہائی اسکول میں کرایا گیا۔ 1925ء میں اُن کی شادی ہوئی اور 1927ء میں انہوں نے فارسی کے ساتھ ہائی اسکول کا امتحان کامیابی سے پاس کیا۔ اسی سال انہوں نے محکمۂ بندوبست کے انگلش آفس،رائے بریلی میں ملازمت اختیار کی، لیکن محض چھ ماہ بعد ہی وہاں کی ملازمت چھوڑ کر کلیکٹریٹ، بدایوں میں نئی ملازمت شروع کر دی۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد کچھ عرصہ بدایوں ڈگری کالج میں سپرنٹنڈنٹ ہیڈ کلرک کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

جوشؔ بدایونی کو بچپن ہی سے شاعری اور ہومیوپیتھی کا شوق تھا۔ بدایوں کی ادبی محفلوں، مشاعروں اور علمی و ادبی سرگرمیوں میں وہ کثرت سے شریک ہوتے تھے، جس کی بدولت اُن کے ذوقِ سخن کو مزید جِلا ملی۔ 1929ء میں انہوں نے اپنی پہلی طرحی غزل کہی اور اسے ایک مشاعرے میں سنایا۔ اگرچہ انہوں نے کسی استاد سے باقاعدہ اصلاحِ سخن نہیں لی، تاہم کچھ عرصہ تک بابو لکشمی نارائن جوہرؔ بدایونی سے اصلاح حاصل کرتے رہے۔

جوشؔ بدایونی غزل کے ایک شائستہ اور باوقار شاعر تھے۔ اُن کی شاعری میں سادگی، فکر کی گہرائی، زبان کی نفاست اور احساس کی سچائی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے تلخ و شیریں تجربات، انسانی جذبات، سماجی مسائل اور اخلاقی اقدار کو بڑے پُراثر انداز میں اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اُن کی شاعری میں روایت اور جدت کا ایسا دلکش امتزاج ملتا ہے جس میں کلاسیکی اردو غزل کی روایت بھی ہے اور عصرِ حاضر کے احساسات بھی۔

اُن کے تین مجموعۂ کلام آتشِ خاموش (غزلیات)، بادۂ تاثرات (نظمیں) اور کیفِ سرمدی (نعتیہ و منقبتی کلام) شائع ہوئے، جنہیں ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی اور اہلِ ذوق نے بے حد سراہا۔ طویل علالت کے بعد  2 اکتوبر 1991ء کو بدایوں میں اُن کا انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے