مبارک شمیم کا تعارف
تخلص : 'شمیمؔ'
اصلی نام : مبارک شمیم
پیدائش : 13 Mar 1924 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش
وفات : 26 Sep 2007
شاہجہانپور اردو ادب میں ایک تاریخی شہر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس کی ادبی فضا میں دل شاہجہانپوری، نسیم شاہجہانپوری جیسے بڑے بڑے نامور ادیب و شاعر پیدا ہوئے جنہوں نے اردو ادب کو ایک نیا مقام عطا کیا۔ اسی سر زمین سے نسبت رکھنے والے ایک اہم شاعر جناب مبارک شمیم بھی ہیں جو شاہجہانپور کے ادبی حلقوں میں بہت بڑا مقام رکھتے ہیں۔ مبارک شمیم کا پورا نام مبارک علی خان تھا جو 13 مارچ 1918ء کو شاہجہانپور میں مولوی عبد العلی خاں کے گھر پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم شاہجہاں پور میں پوری کی اور اس کے بعد انہوں نے 1947 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ جہاں ان کے استادوں میں سید احتشام حسین اور آل احمد سرور تھے۔ لکھنؤ کی ادبی و تہذیبی فضا اور وہاں کی محفلوں میں وہ برابر شریک ہوتے تھے جہاں اسرار الحق مجاز، سلام مچھلی شہری اور کمال احمد صدیقی جیسے ممتاز شاعر سے ان کے دوستانہ مراسم ہوئے۔ اسی زمانے میں ان کی شعر گوئی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے اسعد شاہجہاں پوری سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں قدیم وجدید کا خوبصورت سنگم دیکھنے کو ملتا ہے اور فکر میں عصر حاضر کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی معاشرتی عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ کافی عرصے تک صحافت سے بھی جڑے رہے اور شاہجہاںپور سے ایک ہفتہ وار اخبار ’’الاؤ‘‘کے نام سے نکالتے رہے مگر کچھ وجہ سے وہ بند کرنا پڑا۔ کچھ عرصے بعد اپنے ذاتی مسائل میں الجھ کر وہ تقریباً 15 سال شعر گوئی سے لاتعلق رہے لیکن ساٹھ اور ستر کی دہائی کے درمیان وہ دوبارہ شعر و ادب کی طرف مائل ہو گئے۔
ان کے اب تک چار شعری مجموعے نقش نوا، سوادِ جاں، آب و ہوا اور پت جھڑ کے پھول شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ دو نثری کتابیں ’سخنوران شاہجہاں پور‘ جو شاہجہاں پور کے ساڑھے تین سو سالہ ادبی منظر نامے پر محیط ہے اور دوسری کتاب بہ عنوان ’غیر مسلم شعرائے شاہجہاںپور‘ دیوناگری رسم الخط میں شائع ہو چکی ہے۔ مشہور ادیب و محقق مرحوم ڈاکٹر قمر رئیس ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ 2007ء میں شاہجہاں پور کے معروف شاعر جناب وسیم مینائی صاحب ان کی سوانح حیات ’مبارک شمیم: شخصیت اور فن‘ کو شائع کر چکے ہیں۔ 26 ستمبر 2007 میں ان کا لمبی بیماری کے بعد انتقال ہو گیا۔