Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ناہید ورک کے اشعار

733
Favorite

باعتبار

تو درد بھی دعا بھی تو زخم بھی دوا بھی

شکوے بھی ہیں تجھی سے اور پیار بھی تجھی سے

شام کی شام سے سرگوشی سنی تھی اک بار

بس تبھی سے تجھے امکان میں رکھا ہوا ہے

کتنی ویرانی ہے میرے اندر

کس قدر تیری کمی ہے مجھ میں

بن ترے وقت ہی گزرتا ہے

بن ترے زندگی نہیں ہوتی

بے سبب خامشی نہیں اوڑھی

تیری آنکھوں کا حکم مانا ہے

اب ذرا سرگوشیوں میں بات ہو

مہرباں لہجے کی عادت ہے ہمیں

اب تو وہ شہر خموشاں کا مکیں ہو چکا ہے

اپنی آنکھوں سے مرے آنسو بہانے والا

یعنی کہ تو قدیم جزیرہ ہے عشق کا

اور اس میں ہوں حنوط شدہ شاہزادی میں

کوئی تو بات اس کی مان لیتی

محبت عمر میں مجھ سے بڑی تھی

زندگی اس قدر بری بھی نہیں

دیکھ میں مسکرا رہی ہوں نا

جانے کس سمت اڑتا پھرتا ہے

میرا یہ دل ترے خیال میں گم

وہ ہجرتیں ہوں ہجر ہو یا قصۂ وصال

آ پھر سے میرے نام سبھی واقعات کر

ریزہ ریزہ ہونا بنتا ہے مرا

تم مکمل میرے دل پر اترے ہو

مان لیتی ہوں مکمل ہو تم

مان لیتی ہوں کمی ہے مجھ میں

اور پھر دل نے اس کو چھوڑ دیا

جب تعلق بحال تھا ہی نہیں

خشک ہونے ہی نہیں دیتی آنکھ

وہ جو ساون کی جھڑی ہے مجھ میں

کتنی خواہشیں دل میں پلتی ہیں مگر ناہیدؔ

ہاتھ ہی نئیں آتے بھاگتے ہوئے لمحے

میں اس کے دھیان میں کھوئی ہوئی تھی

سبھی مصرعے غزل کے سج گئے ہیں

شوخ ہواؤں کے آنچل میں تھم تھم کر

شام سے ہی ہیں درد پرانے یاد آئے

سن کسی دن تو مرے غم کی کہانی

تجھ کو درد دل بتانا چاہتی ہوں

مجھے درد کی بارشوں میں بہا کر

وہ رہنا ترا بے خبر یاد آیا

میری آنکھیں تری دید کی لالچی

یعنی تو مجھ کو یوسف نما صاحبا

Recitation

بولیے