ناشاد اورنگ آبادی کا تعارف
ناشاد اورنگ آبادی کا اصل نام محمد عین الحق خاں تھا۔ وہ 15 جنوری 1935ء کو اورنگ آباد ضلع سے کچھ دور تاریخی شہر داؤد نگر کے نزدیک قصبہ شمشیر نگر میں پیدا ہوئے۔ اسی قصبے سے انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں ہسپورہ ہائی اسکول سے میٹرک کیا اس کے بعد بی کام کی سند حاصل کی۔ پیشہ کے اعتبار سے ریلوے میں ملازم تھے نتیجتاً انھیں گھر سے دور کئی شہروں میں قیام کرنا پڑا جہاں شعر و ادب کی محفلوں کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ چونکہ فطرت میں شاعری موجود تھی اور مختلف شہروں میں قیام کے دوران شعری محفلوں میں شرکت کے سبب ان کے شعری ذوق میں اضافہ بھی ہوا اور شعری صلاحیت میں نکھار بھی پیدا ہوا۔
ناشاد اورنگ آبادی نے 1965 میں باضابطہ شاعری شروع کی۔ ان کی کئی شعری مجموعے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں جن کے نام اس طرح ہیں۔ ”پروازِ سخن“، ”لمحے لمحے کا سفر“، ”رختِ سفر“ اور ”ہم سفر غزلیں“ جب کہ ہندی میں ”میل کا پتھر“ اور ”ہم سفر غزلیں“ شائع ہوئیں۔ اس کے علاوہ ایک کتاب ’غزل کیسے لکھیں‘ دیوناگری میں شائع ہوئی جس میں غزل کے تعلق سے مضامین اور ہندی اردو شعرا کی غزلیں بھی شامل ہیں۔
ساحر داؤد نگری، ناشاد اورنگ آبادی کی شاعری پر لکھے اپنے ایک مضمون میں اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”ناشاد اورنگ آبادی نے گوکہ اردو کی بیشتر اصناف میں شاعری کی ہے لیکن ان کی اصل شناخت غزلیہ شاعری سے ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری خونِ دل سے لکھی ہوئی نظر آتی ہے۔ ناشاد کی غزل میں کلا سیکیت کا عنصر ہے لیکن انھوں نے جدیدیت سے بھی رشتہ قائم کیا ہے۔ وہ اپنے احساسات اور خیالات کا اظہار بالعموم سلیس اور شائستہ انداز میں کرتے ہیں۔ انھیں الفاظ و محاورات کے مؤثر استعمال کا سلیقہ بھی ہے۔ انھو ں نے جہاں اپنے درد کو بیان کیا ہے وہیں زمانے کے تبدیل ہوتے رنگ اور بدلتی قدروں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔“