Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نصرت صدیقی کے اشعار

کس ضرورت کو دباؤں کسے پورا کر لوں

اپنی تنخواہ کئی بار گنی ہے میں نے

میں تو جیسا بھی ہوں سب لوگ مجھے جانتے ہیں

تیرے بارے میں بھی اک بات سنی ہے میں نے

یہ سارے ہارنے والے بھی میرے اپنے ہیں

کہیں میں رو نہ پڑوں تالیاں بجاتے ہوئے

بہت سستے میں انساں بک رہے ہیں

ہمارے ہاں تو مہنگائی نہیں ہے

کم ہی نہیں ہوئے ترے بارے میں تبصرے

گنجائشیں بہت ہیں ترے خد و خال میں

تمہیں بھی ہے اگر دعویٰ وفا کا

تو پھر کوئی بھی ہرجائی نہیں ہے

میں تیرے تعاقب میں کہاں تک چلا آیا

کعبہ مرے پیچھے نہ کلیسا مرے آگے

Recitation

بولیے