- کتاب فہرست 189044
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
ڈرامہ1034 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1805 صحت110 تاریخ3633طنز و مزاح755 صحافت220 زبان و ادب1971 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات298 ناول5049 سیاسی378 مذہبیات5058 تحقیق و تنقید7423افسانہ3028 خاکے/ قلمی چہرے289 سماجی مسائل121 تصوف2303نصابی کتاب563 ترجمہ4620خواتین کی تحریریں6299-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1492
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت67
- غزل1412
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1687
- کہہ مکرنی7
- کلیات695
- ماہیہ20
- مجموعہ5420
- مرثیہ404
- مثنوی896
- مسدس62
- نعت614
- نظم1327
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ202
- قوالی18
- قطعہ75
- رباعی304
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ71
- واسوخت29
پطرس بخاری کا تعارف
اصلی نام : سید احمد شاہ بخاری
پیدائش : 01 Oct 1898 | پیشاور, خیبر پختنخوا
وفات : 01 Dec 1958 | نیو یارک, ریاستہائے متحدہ امریکہ
پروفیسر احمد شاہ بخاری یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایوان ادب کے پطرس بخاری، میدان تعلیم کے پروفیسر بخاری، جہان نشریات کے بڑے بخاری، دیوان سفارت کے ایمبیسڈر، اقوام متحدہ کے پروفیسر اے ایس بخاری پاکستان کے شہر پشاور میں یکم اکتوبر1898 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد پیر سید اسد اللہ شاہ بخاری ولد سید غلام حسین پشاور کے ایک معروف وکیل خواجہ کمال الدین کے منشی تھے۔ پطرس کے چار بھائی تھے، سید غالب بخاری سب سے بڑے تھے۔ ان کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ پطرس اپنے والد کے تیسرے بیٹے تھے۔ دوسرے بیٹے کا نام سید محمد شاہ تھا جو شاعری کرتے تھے اور تخلص ’رفعت‘ تھا۔ چوتھے بیٹے سید ذوالفقار علی بخاری (چھوٹے بخاری) تھے جو ریڈٰیو پاکستان کے پہلے سربراہ تھے۔ پطرس کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی۔ ان کے والد نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مشن ہائی اسکول پشاور میں ان کا داخلہ کرا دیا اور وہیں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بی اے کرنے کے بعد 1922میں لاہوریونیورسٹی سے ہی اپنے پسندیدہ مضمون انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور اس مضمون میں اول آکر یونیورسٹی سے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ پطرس 1925 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ انھوں نے انگریزی ادب میں اعلیٰ ترین سند حاصل کرنے کے لیے کیمبرج یونیورسٹی کا انتخاب کیا کیونکہ وہاں کے اساتذہ ان کی افتادِ طبع سے پوری طرح مطابقت رکھتے تھے۔ کیمبرج کے عما نویل کالج میں علم و فن کے طوفان میں غوطہ کھانے والے پطرس بخاری نے ایسے ایسے موتی نکالے کہ اکثر اساتذہ سے ان کے ذاتی تعلقات قائم ہوگئے۔ تمام اساتذہ انھیں قیمتی مشوروں سے نوازتے تھے۔ انھوں نے وہاں سے انگریزی ادب میں TRIPOS کی سند اول درجے میں حاصل کی، اور عما نویل کالج کے سینیئر اسکالر منتخب ہوگئے۔ وہ جنوبی ایشیا کے دوسرے طالب علم تھے جس نے انگریزی ادب میں اول درجے کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ اور وہاں گورنمنٹ کالج لاہور میں کئی سال تک ادبیات کے پروفیسر رہے اسی اثنا میں پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے بھی سکریٹری 1931سے 1935تک رہے۔ 1937 سے ڈپٹی کنٹرولر اور1940 سے کنٹرولر جنرل آل انڈیا ریڈیو پر فائز رہے۔ 1946میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ 1929 میں مجلس اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کے سربراہ مقرر ہوئے۔1955 میں اقوام متحدہ کے شعبۂ اطلاعات کے ڈپٹی سکریٹری جنرل مقرر ہوئے اور اسی عہدے کے زمانے میں 5دسمبر 1958 کو ان کا انتقال ہوا۔
پطرس کی تصانیف درج ذیل ہیں
پطرس کے مضامین (1928)، دیہات میں بوائے اسکاؤٹ (ترجمہ،1934)، تعلیم خصوصاً اوائل طفلی میں (برٹرنڈرسل کی تصنیف کا ترجمہ، 1935)، نوع انسان کی کہانی (ترجمہ، 1939)، ڈرامہ اور ٹھیٹر پر بہت سے مضامین،کئی کتابوں کے دیباچے، بہت سے متفرق مضامین انگریزی اور اردو میں، کئی انگریزی افسانوں اور ڈراموں کے ترجمے۔
پطرس کو انگریزی ادب پر ہمہ گیر عبور حاصل تھا۔ اردو ہی کی طرح وہ انگریزی کے بھی ایک بلند پایہ انشا پرداز تھے۔ بلا کے ذٰہین، دراک اور حاضر دماغ تھے۔ دوستوں کو جمع کرکے باتیں کرنا ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ بہت ہی دلچسپ اورپرلطف باتیں کرتے۔ ان کی برجستہ گوئی کے بیسیوں لطیفے مشہور ہیں۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2092
-
