Rajesh Reddy's Photo'

راجیش ریڈی

1952 | ممبئی, ہندوستان

سماجی حقیقتوں کو بے نقاب کرنے والے مقبول عام شاعر

سماجی حقیقتوں کو بے نقاب کرنے والے مقبول عام شاعر

غزل

اب کیا بتائیں ٹوٹے ہیں کتنے کہاں سے ہم

راجیش ریڈی

جانے کتنی اڑان باقی ہے

راجیش ریڈی

جو کہیں تھا ہی نہیں اس کو کہیں ڈھونڈھنا تھا

راجیش ریڈی

نہ جسم ساتھ ہمارے نہ جاں ہماری طرف

راجیش ریڈی

کسی دن زندگانی میں کرشمہ کیوں نہیں ہوتا

راجیش ریڈی

ہے کوئی بیر سا اس کو مری تدبیر کے ساتھ

راجیش ریڈی

یوں دیکھیے تو آندھی میں بس اک شجر گیا

راجیش ریڈی

یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں

راجیش ریڈی

یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے

راجیش ریڈی

اشعار

شام کو جس وقت خالی ہاتھ گھر جاتا ہوں میں

راجیش ریڈی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI