راشد انور راشد کا تعارف
تخلص : 'راشد'
اصلی نام : راشد انور
پیدائش : 27 Nov 1970 | رانچی, جھارکھنڈ
وفات : 07 Apr 2024 | ممبئی, مہاراشٹر
LCCN :no2003032645
اب تو اک پل کے لیے بھی نہ گنوائیں گے تمہیں
خود کو ہاریں گے مگر جیت کے لائیں گے تمہیں
راشد انور راشد کی ولادت 27 مئی 1970ءکو جھارکھنڈ کے شہر رانچی میں ہوئی۔ وہ اپنی شاعرانہ اور تنقیدی خدمات کے لیے جہانِ شعر و ادب میں معروف ہیں۔ انھوں نے رانچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز کرنے کے بعد جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ ابتدائی طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی، کریم سٹی کالج، جمشید پور میں چند برسوں تک درس وتدریس کی خدمات انجام دیں، بعد از اں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے منسلک ہوگئے اور پروفیسر کے عہدے تک پہنچ گئے۔
ان کے پانچ شعری مجموعے ”شام ہوتے ہی“، ”کہرے میں ابھرتی پرچھائیں“، ”گیت سناتی ہوا“ ، ”قریب آؤ“، ”دھوپ ایسی تو نہیں تھی پہلے“ اور ”قریب آؤ“ (ہندی میں) اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ مجروح سلطان پوری، علقمہ شبلی، وہاب اشرفی، قاضی عبدالستار اور طارق چھتاری کی حیات و خدمات پر تفصیلی کتب کے علاوہ ان کے تنقیدی مضامین کے نصف درجن مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی ترجمہ کردہ کتابوں کی تعداد بھی نصف درجن ہے۔ انھیں دہلی، بہار، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکاڈمیوں کی طرف سے انعامات سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ دوحہ، قطر اور سعودی عرب (جدہ) کے ادبی اسفار بھی انھوں نے کیے ہیں۔ انھیں بزمِ صدف نئی نسل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔
راشد انور راشد کی شعر گوئی سے متعلق ممتاز نقاد اور شاعر، دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر عتیق اللہ یوں رقم طراز ہیں۔
”راشد انور راشد ان جدیدمعاصر شعرا میں سے ہیں جن کی شاعری کا تأثر میرے ذہن میں اتنا گہرا ہے کہ میں سب سے پہلے ہر اس رسالے میں مشمولات کی فہرست میں ان کا نام ڈھونڈتا ہوں جو مجھے موصول ہوتے ہیں۔ میں غزل اور نظم کے خانوں میں رکھ کر ان کے بارے میں نہیں سوچتا۔ وہ شاعر ہیں اور شاعری کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ بے حدحساس، بے حد جذباتی ہیں اور شاعری کے ساتھ ان کی وابستگی بے لوث ہے، جسے تشہیر اور ڈگڈگی بجا کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ادیب کو تعلق ساز نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی میرا منشا یہ ہے کہ ادیب شہرت پسند نہیں ہوتا۔ تعلق سازی اور شہرت پسندی کو پتلی گلی سے نکلنے کا راستہ بنا کر اور اسی پر قناعت کرنے والے داد و تحسین کے جو تمغے حاصل کرتے ہیں ان تمغوں کی چکاچوند کے بارے میں اربابِ نظر یہ جانتے ہیں کہ اس میں کتنی دیرپائیت ہوتی ہے۔“
راشد انور راشد کے مضامین کا مجموعہ ”پرورشِ لوح و قلم“ پر مابعد جدید عہد کے اہم ناقد کوثر مظہری اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”’پرورش لوح و قلم‘ میں 24 مضامین ہیں۔ کتاب کا انتساب ہے ’’علی گڑھ کی خوشگوار ادبی فضا کے نام‘‘۔علی گڑھ نے واقعتاً ہمیشہ اردو ادب کو قیمتی لعل و گہر دیے ہیں۔ راشد انور کا بھی خواب تھا کہ وہ علی گڑھ جیسی معتبر ادبی فضا سے اپنی ذہنی و فکری ہم آہنگی قائم کرسکیں۔ انھوں نے وہاں آکر بہت کچھ سوچا اور لکھا۔ مضامین لکھے، شاعری کی، سمیناروں میں پرچے پڑھے، اپنی ایک پروقار شناخت بنائی۔ ادب پڑھنے کی غرض و غایت پر سوچتے رہے اور پھر ایک مضمون تحریر کیا، مجھ سے کوئی پوچھے کہ ادب کیوں پڑھتا ہوں تو شاید اس کا جواب ایک دو جملوں سے زیادہ کا نہیں ہو گا لیکن انھوں نے ’ہم ادب کیوں پڑھتے ہیں؟‘ کے عنوان سے سات صفحات پر مشتمل ایک مبسوط مضمون لکھا ہے۔ اندازہ ہوا کہ وہ ’ادب‘ کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ یہاں بھی دو چار اقتباسات ملاحظہ کرلیجیے:
’’میں ادب کا مطالعہ اپنے آپ کو ازسر نو دریافت کرنے کے لیے کرتا ہوں۔‘‘ (ص 12)
’’جہاں تک ترجیحات کا معاملہ ہے پڑھنے پڑھانے کے ماحول سے متعلق ہونے کے باوجود مطالعۂ ادب کی حیثیت ہمارے نزدیک ثانوی ہوتی ہے۔‘‘ (ص 12)
’’ادب کے بہترین نمونوں کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے تطہیرِ نفس کے مرحلے سے گزرنے کی بارہا سعادت نصیب ہوئی ہے۔ ادب نے میرے سوئے ہوئے ضمیر کو ہمیشہ ہی جھنجھوڑا ہے۔‘‘ (ص 13)
’’ادب کا مطالعہ مجھے اخلاقی سطح پر بلند ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ مادہ پرستی کے دور میں اخلاقی قدروں کا زوال جس تیزی سے ہورہا ہے۔ اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔‘‘ (ص 14)
راشد انور راشد کا انتقال 07 اپریل 2024ء کو ممبئی کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ہوا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : no2003032645