Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Syed Mubarak Shah's Photo'

سید مبارک شاہ

1961 - 2015

ممتاز شاعر، ادیب اور پاکستان کی سول سروس سے وابستہ افسر رہے

ممتاز شاعر، ادیب اور پاکستان کی سول سروس سے وابستہ افسر رہے

سید مبارک شاہ کا تعارف

پیدائش : 01 Jan 1961 | چکوال, پنجاب

وفات : 27 Jun 2015 | راول پنڈی, پنجاب

سید محمد مبارک شاہ کی پیدائش یکم جنوری 1961ء کو پاکستان کے ضلع چکوال کے قصبہ ڈھلی ڈھگٹال میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید محمد ولایت شاہ تھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم راولپنڈی اور لاہور کے معتبر اداروں سے حاصل ہوئی۔ سن 1976ء میں ایف۔ جی۔ ٹیکنیکل اسکول، راولپنڈی سے میٹرک، 1978ء میں گورڈن کالج سے انٹرمیڈیٹ، 1980ء میں بی۔ اے۔ اور 1983ء میں پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے سیاسیات میں ایم۔ اے۔ کی سند حاصل کی۔ 

مبارک شاہ 1984ء میں واپڈا میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں 1986ء میں سی۔ ایس۔ ایس۔ امتحان پاس کرکے پاکستان کی سول سروس میں شامل ہوئے۔ انہوں نے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں گریڈ سترہ سے بیس تک مختلف اہم ذمہ داریوں پر فرائض انجام دیے اور ملک کے کئی شہروں میں اپنی خدمات پیش کیں۔مبارک شاہ نے کم عمری ہی میں اپنی الگ شناخت بنا لی تھی۔ ان کی شاعری میں عشق، انسانی جذبات، روحانی تجربات، فلسفیانہ تفکر اور سماجی شعور کی گہری جھلک ملتی ہے۔ ان کی غزلوں میں لفظوں کی نفاست، معانی کی گہرائی اور بیان کی دل نشینی نے انہیں اردو ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کیا۔

ان کی تصنیفات میں "جنگل گمان کے" (1993ء)، "ہم اپنی ذات کے کافر" (1995ء)، "زمیں کو انتظار ہے" (1995ء)، "مدارِ نارسائی میں" (1998ء) اور سفرنامہ "برگد کی دھوپ میں" (2000ء) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

ان کی وفات کے بعد "کلیاتِ سید مبارک شاہ" بھی منظرِ عام پر آئی، جسے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ 27 جون 2015ء کو راولپنڈی میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہیں راولپنڈی کے ڈھیری حسن آباد قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے