ذکیہ غزل کا تعارف
میں نے مانگی تھی اجالے کی فقط ایک کرن
تم سے یہ کس نے کہا آگ لگا دی جائے
ذکیہ وسیم، تخلص ’غزل‘، 20 اکتوبر 1963ء کو کراچی، سندھ میں پیدا ہوئیں۔ ذکیہ غزل کی پوری زندگی کامیابیوں اور کامرانیوں سے عبارت ہے۔ وہ دورِ طالب علمی ہی سے شعر کہتی رہی ہیں۔ ان کا دورِ طالب علمی بڑا ہنگامہ خیز رہا۔ وہ اپنے کالج کی صدر بھی منتخب ہوئیں اور مقابلۂ شعر گوئی، نعت خوانی اور تقریری مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرتی رہیں۔ انہوں نے ٹی وی کے پروگراموں میں بھی شرکت کی۔
ذکیہ غزل نے ریڈیو پاکستان کی ورلڈ سروس میں پانچ سال بطور اناؤنسر خدمات انجام دیں۔ اس دوران بزمِ طلبہ میں خطوط کے جوابات، ریڈیو میگزین اور کئی دیگر پروگراموں میں حصہ لیا۔ ’نیلام گھر‘ کے مقابلۂ بیت بازی میں صہبا اختر مرحوم کی صاحبزادی ثمینہ سے ان کا مقابلہ تین پروگراموں تک جاری رہا اور بالآخر ذکیہ غزل کامیاب قرار پائیں۔
ذکیہ غزل نے باقاعدہ شاعری کا آغاز 1978ء میں کالج کے زمانے میں کیا۔ وہ اپنے کالج کی صدر رہیں اور بعد ازاں جامعہ کراچی میں اپنے ڈپارٹمنٹ کی کونسلر بھی رہیں۔ یونیورسٹی میں پہنچ کر ان کے ادبی ذوق میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ 1980ء سے جامعہ کراچی کے ’میگزین‘ میں ان کا کلام پابندی سے شائع ہوتا رہا۔ جب ذکیہ غزل نے شاعری میں تین گولڈ میڈل حاصل کیے تو جناب محمود شام کے رسالے ’معیار‘ کے لیے نزہت شیریں نے ان کا تفصیلی انٹرویو کیا، جو آٹھ صفحات پر مشتمل تھا۔ ذکیہ غزل نے اسکول لائف سے یونیورسٹی تک 165 ٹرافیاں اور 5 گولڈ میڈل حاصل کیے۔
ذکیہ غزل اب تک لاتعداد ادبی و ثقافتی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ پاکستان کے مقبول چینلز کے متعدد پروگراموں میں ان کے انٹرویوز ہوئے، جبکہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی سے ادبی، مذہبی اور کوئز پروگراموں کی کمپئرنگ بھی کی۔ وہ نعت گو اور نعت خواں بھی ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی کے نعتیہ مشاعروں اور میلاد میں نظامت کے فرائض انجام دیے۔ امریکہ، سلطنتِ عمان اور بہار شریف، بھارت میں نعت خوانی اور نعت گوئی کے حوالے سے انہیں خصوصی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔
2006ء میں ذکیہ غزل نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا الیکشن جیتا اور دو سال تک ٹاک شو کمیٹی کی چیئرپرسن رہیں۔
شاعری کے حوالے سے 2013ء میں اوورسیز نامینیشن کے تحت انہیں پاکستان میں ’Wonder Women Award‘ دیا گیا۔ ان کی ادبی خدمات کے سلسلے میں انٹاریو کی پریمیئر کیتھلین وِن کی جانب سے 2017ء میں ’Award of Excellence‘ دیا گیا۔ پاکستانی قونصلیٹ ٹورنٹو کی جانب سے بھی ان کی ادبی کارکردگی پر 2012ء میں ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ 2008ء میں ٹورنٹو کی بیشتر تنظیموں کی جانب سے انہیں ’Outstanding Achievement Awards‘ دیے گئے۔
امریکہ اور بھارت کی ادبی تنظیموں سے انہیں 20 سے زائد ایوارڈ مل چکے ہیں۔ 2004ء میں جشنِ ساحر لدھیانوی کے موقع پر بھارت، لدھیانہ سے انہیں گولڈ میڈل دیا گیا۔ کراچی سے بھی انہیں لاتعداد ادبی ایوارڈ ملے، جن میں جنگ ایوارڈ 1998ء اور آرٹس کونسل کراچی ادبی ایوارڈ شامل ہیں۔ آسٹریلیا سے 2000ء میں انہیں ’نشانِ اردو‘ دیا گیا۔
ان کی بک سی ڈی کا امریکہ کی 25 ریاستوں کے علاوہ بھارت کے لکھنؤ میں بھی اجراء ہو چکا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ’بادل، گیت، ہوا اور میں‘ پاکستان میں ٹاپ 10 میں نامزد ہو چکا ہے۔ ان کا دوسرا مجموعۂ کلام ’تعبیریں‘ بھی منظرِ عام پر آ چکا ہے، جبکہ نظموں کا مجموعۂ کلام ’سرمئی ہو گئی شام‘ چھپنے کے لیے مکمل ہے۔ دوہوں کا مجموعۂ کلام ’دوھا ساگر‘ زیرِ اشاعت ہے۔
2002ء میں کراچی میں ادبی و ثقافتی ادارے ’اظہار‘ کا قیام بھی ذکیہ غزل کی ادب دوستی کا بین ثبوت ہے۔ وہ اس کی چیئرپرسن ہیں اور ادبی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہیں۔
ذکیہ غزل گزشتہ 30 سال سے پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے بین الاقوامی مشاعروں میں امریکہ کی 25 سے زائد ریاستوں میں مشاعرے پڑھ چکی ہیں۔ حلقۂ فکر و فن نیویارک کے تحت جشنِ گوپی چند نارنگ کی کانفرنس اور مشاعروں میں امریکہ کی 13 ریاستوں میں مشاعرے پڑھ چکی ہیں اور ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں۔
پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم APNA کے کئی مشاعروں میں بھی شرکت کر چکی ہیں، جن میں سان فرانسسکو، فلوریڈا اور ہیوسٹن کے علاوہ دیگر ریاستیں بھی شامل ہیں۔ سلطنتِ عمان، دوحہ قطر، دبئی، شارجہ اور ابوظہبی میں متعدد بار پاکستان اور کینیڈا کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ آسٹریلیا کے شہروں سڈنی، میلبرن اور کینبرا میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔
ذکیہ غزل بھارت کے 18 دورے کر چکی ہیں اور وہاں سے گیارہ ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ لدھیانہ میں ’جشنِ ساحر لدھیانوی‘ کے موقع پر انہیں گولڈ میڈل دیا گیا۔ انہیں بھارت کی ’ساہتیہ اکیڈمی‘ کی کانفرنس میں بھی مدعو کیا جا چکا ہے۔ ڈی سی ایم اور جشنِ بہار، دہلی کے مقبول اور معروف مشاعروں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ انبالہ، پانی پت، بہار، جھاڑکھنڈ، بھوپال، لکھنؤ، دہلی، دیوبند، آگرہ، ناگپور، الہ آباد اور لدھیانہ سے بھی اعزازات و اسناد حاصل کر چکی ہیں۔
ذکیہ غزل انڈو پاک کے قریباً تمام اساتذہ شعرا کے ساتھ عالمی مشاعروں میں عزت و احترام کے ساتھ شریک ہو چکی ہیں۔ ان شعرا میں محترم تابش دہلوی، محترم جمیل الدین عالی، محترم افتخار عارف، محترم حمایت علی شاعر، محترم محسن بھوپالی، محترم دلاور فگار، جناب شبنم رومانی، محترم قتیل شفائی، محترم سرشار صدیقی، محترمہ زہرہ نگاہ، محترمہ فہمیدہ ریاض، پروین فنا سید، جناب جمال احسانی، جناب عبیداللہ علیم، محترم منیر نیازی، محترم انور مسعود، جناب امجد اسلام امجد، جناب جون ایلیا، محترم ضمیر جعفری، محترم محسن احسان، محترم شہزاد احمد، محترم سرفراز شاہد، محترم احمد فراز، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، محترم جگن ناتھ آزاد، محترم علی سردار جعفری، محترم کیفی اعظمی، محترم والی آسی، محترم معراج فیض آبادی، محترم ساغر خیامی، محترم کلیم عاجز، محترم بیکل اتساہی، ندا فاضلی، جناب جاوید اختر، جناب شہریار، جناب وسیم بریلوی، جناب راحت اندوری، جناب نواز دیوبندی اور جناب منور رانا شامل ہیں۔
ذکیہ غزل اب اپنی کتابوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ان کی پہلی کتاب ’بادل، گیت، ہوا اور میں‘، دوسری کتاب ’تعبیریں‘ اور تیسری کتاب ’سرمئی ہو گئی شام‘ ہے۔ ان کا ناول ’وحشتِ نایاب‘ زیرِ تکمیل ہے۔