ز خ ش کا تعارف
ز خ شین کا اصل نام زاہدہ خاتون شیروانی تھا۔ وہ 8 دسمبر 1894ء کو بھیکم پور، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور 2 فروری 1922ء کو 27 برس کی عمر میں وفات پائی۔ وہ اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ ہونے کے ساتھ خواتین کے حقوق، تعلیم اور خودمختاری کی حامی بھی تھیں۔ اپنے عہد کے قدامت پسند معاشرے کے باعث انہوں نے اپنی شاعری ز خ ش (Ze Khe Sheen) اور نزہت کے قلمی ناموں سے پیش کی۔ ان کی اردو شاعری اور غزلوں میں نسوانی احساس اور رومانوی رنگ نمایاں تھا، جس نے نوجوانوں میں خاص مقبولیت حاصل کی۔
زاہدہ خاتون شیروانی کا تعلق شیروانی خاندان سے تھا جو ایک متمول زمیندار خاندان ہونے کے ساتھ علمی و تعلیمی اعتبار سے بھی نمایاں مقام رکھتا تھا۔ ان کے والد نواب سر محمد مزمل اللہ خان بھیکم پور کے رئیس تھے اور علی گڑھ تحریک سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی والدہ کا انتقال کم عمری میں ہوگیا تھا، اس لیے والد نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ زاہدہ خاتون، ان کی بڑی بہن احمدی اور چھوٹے بھائی احمد اللہ نے گھر ہی میں دینی اور عصری تعلیم حاصل کی۔
چار برس کی عمر میں ان کی بسم اللہ کی رسم ادا کی گئی۔ ان کی تعلیم میں فارسی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ان کی اتالیق فرخندہ بیگم تہرانی ایک ایرانی خاتون تھیں جو ہندوستان آکر مقیم ہوئی تھیں اور فارسی پڑھنے، لکھنے اور شاعری کی تعلیم دینے میں مہارت رکھتی تھیں۔ انہی کی تربیت میں زاہدہ خاتون نے نہ صرف فارسی بلکہ اردو میں بھی شاعری کی مشق شروع کی۔ دس برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی نظم کے ذریعے شاعرہ بننے کے عزم کا اظہار کیا۔
ان کے والد نے اپنی اولاد کے لیے اسلامیات اور اردو نثر کی تعلیم کا بھی انتظام کیا۔ اس مقصد کے لیے محمد یعقوب اسرائیلی کو مقرر کیا گیا۔ اسی زمانے میں زاہدہ خاتون نے شاعری کے علاوہ مضامین بھی لکھے اور "خاتون" علی گڑھ، "عصمت" دہلی اور "شریف بی بی" لاہور جیسے رسائل میں ان کی تحریریں شائع ہوئیں۔ وہ سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی تھیں اور انہوں نے شیروانی خاندان کے نوجوانوں پر مشتمل "ینگ شیروانیز لیگ" کے قیام میں کردار ادا کیا۔ اس تنظیم کے ذریعے بھیکم پور اور ڈٹولی کے بچوں کے لیے اسکولوں کے فروغ اور علی گڑھ گرلز اسکول کے بورڈنگ ہاؤس کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی کوشش کی گئی۔
زاہدہ خاتون شیروانی کی شاعری محض رومانوی احساسات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی حالات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے حالات اور مختلف سیاسی و سماجی واقعات پر نظمیں لکھیں۔ طرابلس کی جنگ، جنگِ بلقان اور کانپور مسجد کے سانحے جیسے واقعات ان کی شاعری کے موضوع بنے۔ 1913ء میں انہوں نے 'عید کی خوشی میں غم زدگانِ کانپور' کے عنوان سے ایک نظم لکھی، جو ان کے قلمی نام نزہت سے لاہور کے اخبار زمیندار میں شائع ہوئی۔ اس نظم میں حکومت پر تنقید اور مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا ذکر تھا، جس پر ان کے والد نے انہیں تحریر کے معاملے میں محتاط رہنے کی نصیحت کی۔ ان کی ایک اور نظم موصل کا تیل تھی، جس میں عالمی معیشت میں تیل کی اہمیت اور مغربی طاقتوں کی جانب سے دنیا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول کی کوششوں کو موضوع بنایا گیا۔ والد کی تنبیہات سے دل برداشتہ ہوکر انہوں نے کچھ عرصے کے لیے لکھنا ترک کردیا، تاہم بعد میں خفیہ طور پر دوبارہ شاعری شروع کردی۔
1916ء میں ان کے بھائی احمد اللہ کا انتقال ہوگیا، جو ان کے لیے علم و معلومات کا ایک اہم ذریعہ اور مستقل حوصلہ تھے۔ اس سانحے کے بعد ان کی شاعری میں مزید سنجیدگی پیدا ہوئی۔ 1918ء میں انہوں نے "سپاس نامۂ اردو" لکھی، جو حیدرآباد میں عثمانیہ یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر پیش کی گئی۔ اس وقت عثمانیہ یونیورسٹی ہندوستان کا واحد ایسا اعلیٰ تعلیمی ادارہ تھا جہاں ذریعۂ تعلیم اردو تھا۔ یہ نظم بھی انہوں نے اپنے قلمی نام سے شائع کی اور اس وقت قارئین کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی مصنف ایک خاتون ہیں۔ نقاد شان الحق حقی نے اس نظم میں اردو کی صورتِ حال اور معاشرے میں خواتین کی حیثیت کے درمیان قائم کیے گئے تعلق اور اس کی پُراثر منظرکشی کو نمایاں قرار دیا۔
زاہدہ خاتون شیروانی ہندوستانی قوم پرستی سے متعلق سرگرمیوں سے بھی متاثر تھیں۔ انہوں نے گاندھی کی "سودیشی تحریک" میں دلچسپی لی اور ہندوستانی قوم پرستی کی حمایت میں کھادی کے کپڑے استعمال کرنا شروع کیے۔ خواتین کی تعلیم اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی ان کی سرگرمیاں قابلِ ذکر تھیں۔ ان کی شاعری اور فکری کاوشوں میں عورت کی آزادی، تعلیم اور خودمختاری کا تصور نمایاں تھا۔ ان کی معروف تصنیف "مثنوی آئینۂ حرم" خواتین کے حقوق کے موضوع پر لکھی گئی، جسے علامہ اقبال کی "شکوہ" سے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ اگر ز خ ش کو زیادہ طویل عمر ملتی تو وہ اپنے عہد کے بڑے ادبی ناموں میں نمایاں مقام حاصل کرتیں۔
2 فروری 1922ء کو صرف 27 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات پر خواتین کے رسالے "تہذیبُ النسواں" میں شائع ہونے والے تعزیتی مضمون میں انہیں ایک ایسی بلبل سے تشبیہ دی گئی جو پنجرے میں پیدا ہوئی، اسی میں زندگی گزاری اور وہیں خاموش ہوگئی۔
ز خ ش کی زندگی مختصر ہونے کے باوجود ان کی ادبی اور سماجی خدمات انہیں اردو کی ابتدائی خواتین شاعرات میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کی شخصیت اور ادبی خدمات پر تحقیقی کام بھی ہوا ہے، جن میں فاطمہ حسن کا ان پر لکھا گیا ڈاکٹریٹ کا مقالہ "ز خ ش" قابلِ ذکر ہے۔ ان کی زندگی اور فکر پر ایم اے اور ایم فل کی سطح پر بھی تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں۔