زیبا علوی کے ذریعے کیے گئے تراجم
جلے مکان کے قیدی
کسی جلی ہوئی عمارت میں قیدی ہونا ایک عجیب تجربہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ ایسی ہی عمارت میں تھے۔ اس کے مالک کو میں جانتا تھا۔۔۔ م نسیم۔ 1975میں اندرا گاندھی نے جب اس ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی، ان دنوں انہیں اس بری طرح ذلیل کیا گیا تھا کہ دوبارہ انہیں کبھی
واپسی
گجادھر بابو نے کمرے میں جمے سامان پر ایک نظر دوڑائی۔ دوبکس، ڈولچی، بالٹی۔ ’’یہ ڈبا کیسا ہے گنیشی؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ گنیشی بستر باندھتا ہوا کچھ گھمنڈ، کچھ دکھ، کچھ شرم سے بولا، ’’گھروالی نے ساتھ کے لیے کچھ بیسن کے لڈو رکھ دیے ہیں۔ کہا، بابوجی کو پسند
پھانس
رات بہت نہیں ہوئی تھی۔ پوس کی اندھیاری گاؤں کے اوپر اتر آئی تھی، نچلی تہہ میں جمے ہوے دھویں کی نیلی نیلی چادر۔ آج رام پورا کی بازار تھی۔ آج کے روز اس گاؤں اور آس پاس کے دوسرے گاوؤں کے لوگ ہفتے بھر کی خرید و فروخت کے لیے رام پورا نکل جاتے اور پھر سانجھ
چیری کے پیڑ
پھاٹک پار کرتے ہی جس طرف سب سے پہلے ہمارا دھیان گیا وہ تھے آلوچوں سے ملتے جلتے پیڑوں پر لٹکے کسی پھل کے گچھے۔ مکان کے اندر گھومنے کے بجائے ہم اس طرف دوڑے۔ کئی پیڑ تھے جن پر وہ لٹک رہے تھے۔ لیکن اچک اچک کر توڑنے پر بھی کسی کے ہاتھ میں ایک دانہ نہیں آیا۔
آسیب
وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ آخر ان کا مکان گیا کہاں؟ سموچا مکان کیا یکایک غائب ہو سکتا تھا؟ کیا ایسا بھی ممکن تھا کہ سب کچھ وہاں ہو، بس ان کا مکان ہی کہیں غائب ہو گیا ہو؟ گلی، گلی کے چبوترے، مزار، پیپل کا درخت، بدبو پھیلاتی ہوئی موریاں، گلی میں کھلتے
آمنے سامنے
کل شام ہی سے وہ اپنے پنجوں پر کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ صبح تو اس نے ایک طرح سے بھوک ہڑتال سی کر رکھی تھی۔ چائے پانی کچھ نہیں۔ ناشتہ بنایا، لگادیا۔ بچوں کو اسکول بھیجا، آنند کو آفس۔ پھر میرے کمرے کے دروازے سے لگ کر آکھڑا ہوا، ’’آج جوس
ڈپٹی کلکٹری
شکل دیپ بابو لگ بھگ ایک گھنٹے بعد واپس لوٹے۔ گھر میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے بیٹھک میں جھانکا۔ کوئی مؤکل نہیں تھا اور محرر صاحب بھی غائب تھے۔ وہ اپنے کمرے کے سامنے بیٹھک میں کھڑے ہوکر بندر کی طرح آنکھیں مٹکا مٹکا کر دیکھنے لگے۔ ان کی بیوی جمنا چوکے
ایسٹ انڈیا کمپنی
وہ کل جمع نو تھے۔ اس میں اگر دو بچوں کو بھی جوڑ دیا جائے تو کل تعداد گیارہ ہو جاتی ہے۔ حالاں کہ ویسے تو ریل کا یہ عوامی ڈبہ مسافروں سے ٹھساٹھس بھرا ہوا تھا لیکن اس کے حصے میں یہ گیارہ تھے۔ ایک طرف بیٹھے ہوئے پانچ، دوسری طرف چار اور ساتھ میں دو بچے۔ ان
تماشا
وہ ادھیڑ عمر آدمی بڑی دیر سے کسی سایہ دار پیڑ کی تلاش میں ہے۔ اس کاآٹھ سال کا لڑکا بڑے تھکے تھکے قدموں سے باپ کے پیچھے چل رہا ہے۔ اس کے گلے میں ایک چھوٹا سا ڈھول پڑا ہوا ہے جسے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہتھیلیوں سے پیٹتا ہے۔ جب بھی
ترشنکو
تنو ایک ایسے روشن خیال اور ماڈرن گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جس کے والدین نے لو میرج کی ہے اور اس کی والدہ اس لو میرج کے سلسلے میں نانا کی مخالفت اور اپنے مکالموں کو اتنی بار دوہرا چکی ہیں کہ تنو کو ازبر ہو گئے ہیں۔ پڑوس میں رہنے والے کچھ طالب علم جب تنو پر پھبتیاں کستے ہیں تو ممی ان کو اپنے گھر بلا کر تنو کی دوستی کرا دیتی ہیں لیکن جب تنو اور شیکھر کے معاملات بڑھنے لگتے ہیں تو ممی ایک دم سے نانا بن جاتی ہیں لیکن ان کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ سختی کرنے کے بعد ایک دم نرم پڑ جاتی ہیں۔ شیکھر اور ان کے دوست گھر آتے ہیں تو ممی پاپا اس طرح ملتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ تنو سوچتی ہے کہ کاش ممی سو فیصد نانا ہوتیں۔۔۔