Zia Zameer's Photo'

ضیا ضمیر

1977 | مراد آباد, ہندوستان

غزل 31

نظم 2

 

اشعار 41

ہم تو تیری کہانی لکھ آئے

تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا

  • شیئر کیجیے

اس موڑ پہ رشتہ ہے ہمارا کہ اگر ہم

بیٹھیں گے کبھی ساتھ تو تنہائی بنے گی

  • شیئر کیجیے

تم نے جو کتابوں کے حوالے کیے جاناں

وہ پھول تو بالوں میں سجانے کے لئے تھے

  • شیئر کیجیے

ای- کتاب 1

خواب خواب لمحے

 

2010

 

تصویری شاعری 3

تک رہا ہے تو آسمان میں کیا ہے ابھی تک کسی اڑان میں کیا وہ جو اک تجھ کو جاں سے پیارا تھا اب بھی آتا ہے تیرے دھیان میں کیا کیا نہیں ہوگی پھر مری تکمیل کوئی تجھ سا نہیں جہان میں کیا ہم تو تیری کہانی لکھ آئے تو نے لکھا ہے امتحان میں کیا ہو ہی جاتے ہیں جب جدا دونوں پھر تعلق ہے جسم_و_جان میں کیا ہم قفس میں ہیں اڑنے والے بتا ہے وہی لطف آسمان میں کیا پڑھ رہے ہو جو اتنی غور سے تم کچھ نیاپن ہے داستان میں کیا اردو والے کمال دکھتے ہیں کوئی جادو ہے اس زبان میں کیا

احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے_گا ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے_گا ممکن ہے مرے شعر میں ہر راز ہو لیکن اک راز پس_شعر چھپانا تو پڑے_گا آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے_گا چہرے پہ کئی چہرے لیے پھرتی ہے دنیا اب آئنہ دنیا کو دکھانا تو پڑے_گا ذہنوں پہ مسلط ہیں سیہ سوچ کے بادل ظلمت میں دیا دل کا جلانا تو پڑے_گا وہ دشمن_جاں جان سے پیارا بھی ہمیں ہے روٹھے وہ اگر اس کو منانا تو پڑے_گا رشتوں کا یہی وصف ہے ذاکرؔ کی نظر میں کمزور سہی رشتہ نبھانا تو پڑے_گا

 

مصنفین کے مزید "مراد آباد"

  • کوثر مظہری کوثر مظہری
  • غضنفر غضنفر
  • شمیم طارق شمیم طارق
  • یعقوب یاور یعقوب یاور
  • سلیم شہزاد سلیم شہزاد
  • احمد مشکور احمد مشکور
  • عنوان چشتی عنوان چشتی
  • کالی داس گپتا رضا کالی داس گپتا رضا
  • سلام سندیلوی سلام سندیلوی
  • اختر اورینوی اختر اورینوی